⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
منگلا ڈیم پر رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر تکمیلی مراحل میں
منگلا ڈیم پر رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر تکمیلی مراحل میں، تحریروتحقیق؛ظفر مغل۔ برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں لاکھوں کشمیری تارکین وطن اور متاثرین منگلا ڈیم ضلع میرپور پاکستان کی معیشت کی مضبوطی و خوشحالی ، ترقی اور روشن مستقبل کے لیے 1962 سے 1967 تک ضلع میرپور میں منگلا ڈیم کی ابتدائی تعمیر کےعظیم منصوبے کے وقت اور بعد ازاں 2001سے2006 تک منگلا ڈیم توسیع منصوبہ کےلیئے تاخیر سے شروع ہونے والے عظیم منصوبے پر2004سے 2009تک عملدرآمد اور توسیع منصوبہ کی تکمیل کے دوران دوسری مرتبہ ضلع میرپور کے کشمیری عوام کی عظیم دوہری قربانی کے پیش نظر حکومت پاکستان نے رٹھوعہ ہریام برج اور گریٹر واٹر وسیوریج سکیم کے دو میگا پراجیکٹس بطورِ تحفہ دیتے ہوئے محترم چوہدری عبد المجید وزیراعظم کے دور حکومت میں وزیراعظم پاکستان محترم یوسف رضا گیلانی نے13مارچ 2012کو اس میگا پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا تب سے 2016 تک چوہدری عبدالمجید وزیراعظم کے دور حکومت کے اختتام تک اس پل پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا جب کہ اسلام گڑھ اور میرپور کی طرف سے پل تک دو طرفہ 4 کلومیٹر کارپیٹڈ روڈ بھی مکمل کر لی گئی تھی جو اب پل کی تعمیر میں تاخیر باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جکی ہے اور بعد ازاں کئی وزراء اعظم آزاد کشمیر اور وزراء کے بلند بانگ دعووں کے باوجود اسکی تکمیل التواء کا شکار رہی،یہاں تک کہ پی ٹی آئی کے عمرانی دور کے وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور نے اپنے سرکاری دورہ میرپور کے دوران ماہ دسمبر میں رٹھوعہ ہریام پل مکمل کر کے خود پل پر گاڑی چلا کر افتتاح کرنے کا اعلان کیا تھا،جو کئی سال تک ہوائی اعلان ہی ثابت ہوا،اب وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی اور تین بار اسکا پی سی ون اور ڈیزائن تبدیل کرنے کے بعد میرپور شہر کو اسلام گڑھ سے ملانے والے آزاد کشمیر کے سب سے طویل پہلے 3 کلومیٹر لمبےاور 40فٹ چوڑےپل جو کہ کشمیری تارکین وطن کے آبائی ضلع میرپور میں واقع منگلا ڈیم کے اوپر میرپور شہر اور ضلع میرپور کے علاقے اسلام گڑھ کو ملانے والے رثھوعہ ہریام پل کی تعمیر اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور اب تازہ ترین آپ ڈیٹ کے مطابق پل کے دونوں حصوں کئ درمیان فاصلہ 3 میٹر (تقریباً 9 فٹ) باقی رہ گیا ہے جس پر جاری تعمیراتی کام عیدالفطر تک مکمل ہو جائیگا اور اس پل کی تکمیل سے 25منٹ کی مسافت کم ہو جائیگی۔
رواں سال کے ماہ جنوری میں وزیر اعظم پاکستان عملدرآمد کمیشن کے ممبر شاہد احمد سندھو نے منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے تحت منگلا ڈیم پر آزاد کشمیر کے طویل ترین پل رٹھوعہ ہریام برج کےعظیم تعمیراتی منصوبہ کا موقع پر جاکر معائنہ کیا اور سائٹ پرکام کی پراگرس کا جائزہ بھی لیا۔انھوں نے FWOکے زیر اہتمام پل کے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔اس عظیم منصوبے کی تکمیل پر ابتدائی منصوبے کے مطابق ڈیڑھ ارب روپے کا تخمینہ تھا مگر اب وقت کے ضیاع اور منصوبے میں تاخیر اور مہنگائی فیکڑ کے نتیجہ میں 10ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ اپنے تکمیلی مراحل طے کریگا۔اس موقع پر ماہرین نےبتایا کہ منصوبے پر 86فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اپریل 2026میں میرپور اور اسلام گڑھ کے دونوں اطراف پل کا نامکمل حصہ جڑ جائے گا اور سڑک و دیگر تزئین و آرائش کا کام اگست 2026تک مکمل ہوجائیگا،اورامسال14اگست کو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اس اہم میگا منصوبے کا افتتاح کریں گے۔اس موقع پر ڈائریکٹر کوآرڈینیٹر صالح ناریجو، چیف کے اے جی بی ہارون بالکونی، ایف ڈبلیو اوکے خواجہ عاصم شاہین، چیف انجینئر رٹھوعہ ہریام پراجیکٹ و ڈی جی ادارہ ترقیات میرپور محمود ممتاز راٹھور، فنانس ڈویژن پاکستان کے بابر نذیر، پراجیکٹ ڈائریکٹر رٹھوعہ ہریام برج انجینئر انعام الحق، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عرفان رتیال، پراجیکٹ منیجر ایف او ڈبلیو شعیب نصیر راجہ بھی موجود تھے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر رٹھوعہ ہریام برج انجینئر انعام الحق اور ایف ڈبلیو او کے خواجہ عاصم شاہین نے منصوبہ کی پراگرس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ اس منصوبہ کا اہم اور ادھورا حصہ رٹھوعہ ہریام پل کو اپریل 2026میں مکمل کرلیا جائے گا جسکی تکمیل سے جہاں ضلع میرپور،کوٹلی،سماہنی،چکسواری،اسلام گڑھ، ڈڈیال، ہجیرہ،راولاکوٹ، پلندری سمیت پورے آزادکشمیر میں ذرائع آمدو رفت میں بیس کلومیٹر کی مسافت کم ہوگی وہاں لاکھوں لوگوں کو ٹرانسپورٹ فیول میں بھی بچت ہوگی۔ اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان عملدرآمد کمیشن کے ممبر شاہد احمد سندھو نے رٹھوعہ ہریام پراجیکٹ کی پراگرس پر FWO کی کارکردگی کو سراہا جنھوں نے نامساعد حالات میں بھی اس مشکل میگا پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے کہاکہ منگلا ڈیم پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی اور روشن مستقبل کا ایک اہم اور عظیم تر منصوبہ ہے جس کا پاکستان میں انرجی، زراعت کی ترقی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ہے۔ حکومت پاکستان اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے رٹھوعہ ہریام برج کے زیر التواء منصوبہ کی تکمیل کے لئے ذاتی دلچسپی لی اور اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے ایف ڈبلیو او کو ذمہ داریاں سونپی گیئں تھیں جو اب بلآخر تکمیلی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔دوران تحقیقات رٹھوعہ ہریام پل کے اس میگا پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر بارے انکشاف ہوا ہےکہ آزاد کشمیر میں ن لیگی دور حکومت میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اس پل کی تکمیل میں تاخیر اور کرپشن کے سرکاری ذمہ داران کی نشاندھی کے لیئے سابق کمشنر امور منگلا ڈیم وسابق چیف انجینئر سنٹرل ڈیزائن آفس مظفرآباد چوہدری امیر افضل کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن بھی تشکیل دیا تھا جس نے انکوائری رپورٹ وزیراعظم (وقت) راجہ فاروق حیدر کو اپنی تحریری انکوائری رپورٹ میں سرکاری ذمہ داران کو نامزد بھی کر دیا تھا مگر انکوائری سرخ فیتے کا شکار رہی، بعدازاں پی ٹی آئی اور پھر گڈ گورننس اور کڑے احتساب کی پرچارک انوار سرکار بھی آئی مگر اب بھی اس پل کی تکمیل میں تاخیر سے ڈیڑھ ارب کے منصوبے پر 10ارب روپے کی لاگت آنے کےقومی نقصان کے اصل نامزد سرکاری ذمہ داران مواخذے سے آزادانہ بغلیں بجاتے موج میلے میں سرگرداں ہیں،جوکہ موجودہ پی پی کےحکمرانوں کے لیئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔جبکہ میرپور کے باسیوں کے لیئے گریٹر واٹر اور گریٹر سیوریج سکیم کا وفاقی حکومت کا متاثرین منگلا ڈیم کے لیئے اربوں روپے کا منصوبہ بھی کرپشن کی نذر ہوکر 20 سالوں سے زائد عرصہ سے تشنہء تکمیل ہونے سے کرپٹ مافیا اور اس عرصہ میں حکمرانوں کی بےحسی کا کھلا ثبوت ہے۔
شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات !
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
