بالا کوٹ کی بیٹی ماہ نور واجد کا اعزاز

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

بالاکوٹ کی بیٹی ماہ نور واجد کا اعزاز

دور جدید کا انسان وہ نہیں ہے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ ظاہری طور کچھ اور باطنی کچھ اور ہوتا ہے۔ مسکراہٹ کے پیچھے حسد، پیار اور وفا کی باتوں کے پیچھے خود غرضی، اور خوش اخلاقی کے پیچھے مفاد چھپا ہوتا ہے۔ ہر انسان بناء مطلب کے نہیں چلتا۔ لالچ نے دل تنگ کر دیے ہیں۔ لوگ دوسروں کا حق مار کر بھی مطمئن ہیں۔ منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سچ بولنے والا حقیر لگتا ہے اور جھوٹا معتبر ٹھہرتا ہے۔ نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی صرف اپنی بچت، اپنی راحت، اپنے سکون اور اپنا فائدہ سوچتا ہے چاہے دوسرا تباہ و برباد ہی کیوں نہ ہو جائے۔ حالیہ بلوچستان کا قیامت خیز واقعہ قبائل کی اپنی انا کی تسکین کے لیے دو انسانی جانوں کو بے دردی سے قتل کر ڈالا۔کوئی جانوروں کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتا جس طرح ان کے ساتھ ہوا۔ یہ ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا جو دو درجن غیر محرموں نے ان نہتے مرد اور عورت کو گولیوں سے چھلنی کر دیا اور اپنی انا کو جلا بخشی۔ اگر دونوں نے جرم بھی کیا تھا تب بھی کوئی مذہب کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کسی کے جان لینے کا۔ بیٹے کی غلطی معاف کی جا سکتی ہے وہاں بیٹی کو بھی معاف کر دینا چاہیے۔ بیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ باپ اور بھائی کی غیرت کی پگڑی سنبھالے اور بیٹے جائیداد سنبھالیں۔ بیٹیاں جائیداد کے حصے نا دینے کی وجہ سے قرآن سے شادی کرنا، ساری عمر گھروں میں بٹھائے رکھتے ہیں اور اگر بیٹی کی شادی کر دی جائے تو وہ اس خوف سے وراثت میں حصہ نہیں مانگتی میکہ چھوٹ جائے گا اور جو حصہ مانگ لے اس سے باپ اور بھائی منہ موڑ لیتے ہیں۔ بعض اوقات خواتین کو قانونی چارہ جوئی کرنی پڑتی ہے اپنا حق لینے کے لیے عمریں گزر جاتی ہیں دھکے کھاتے نا حصہ اور نا قبضہ اور رشتے الگ ختم اور باغی ہونے کا الگ الزام لگایا جاتا ہے۔ اکثر سننے میں آتا ہے ہم تو بیٹی کے گھر کا پانی نہیں پیتے لیکن اس بیٹی کا جائیداد کا حصہ ضرور کھا جاتے ہیں۔ اگر کسی بیٹی کے والدین اس کی خواہش کے مطابق پڑھاتے ہیں اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں۔ اپنی محنت اور ہمت کے بل بوتے پر اپنے لیئے اپنے خاندان کے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اکثریت کو کام کرنے والی جگہوں پر مختلف نوعیت کے ہراسانی کے واقعات درپیش آتے ہیں۔ ہمیں بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹوں کی بھی اخلاقی تربیت کرنا ہو گی تاکہ معاشرہ سب کے لیے سازگار ماحول میں ڈھل جائے۔ بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی اپنے خواب پورے کرنے کا موقعہ ملے۔
جہاں دنیا اتنا بدل رہی اب ہمارے پورے معاشرے کو بھی اپنی سوچ بدلنی ہو گی اور بیٹیوں پر اعتماد کرنا ہو گا۔ گزرتے وقت کے ساتھ بہت سے والدین نے اپنی سوچ کے زاویے بدلے بیٹیوں کے لیے اور وہ ابھی بہت کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرہ رشتوں سے خالی، اعتماد سے محروم اور انسانیت سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے: کیا ہم بھی اسی دھوکے کا حصہ بن چکے ہیں یا اب بھی وقت ہے آئینہ دیکھنے کا اور خود کو پہچاننے کا۔ نئی نسل کے لیے راہیں ہموار کرنے کا دنیا کی نئی جہتوں کی تسخیر کرنے کا۔ میں آج ایک پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ کی رہنے والی بیٹی نے ایک کارنامہ کا ذکر کروں گی جس کے والدین ، اساتذہ اور خاندان نے ماہ نور واجد کا ساتھ دیا تو اس نے ایک کارنامہ سر انجام دیا سائنس کی دنیا میں۔
یہ تحقیق سکالر ماہ نور واجد نے یونیورسٹی آف ہری پور کے شعبہ بیالوجی میں کامیابی سے مکمل کی۔ سکالر ماہ نور واجد نے شعبہ بائیو لوجی ، فیکلٹی آف بائیولوجیکل اینڈ بائیو میڈیکل سائنسز میں “مائیکرو پلاسٹک کے ٹور پوٹیٹورا مچھلی پر اثرات کا جائزہ” کے موضوع پر اپنی تحقیق مکمل کی۔ یونیورسٹی آف ہری پور کی ایم فل طالبہ، سکالر ماہ نور واجد نے اپنی تحقیق میں مائیکرو پلاسٹک کے ٹور پوٹیٹو را (سنہری مہاشیر) مچھلی پر پڑنے والے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ یہ تحقیق ڈاکٹر کامران اللہ کی نگرانی میں مکمل کی گئی، جنہوں نے تحقیق کی تکمیل میں اہم مدد فراہم کی۔ اس مطالعے کا بنیادی مقصد آبی جانداروں میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی سے پیدا ہونے والے اعصابی زہریلے پن، آکسیڈیٹیو تناؤ، اور طرز عمل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا تھا۔ تحقیق کے دوران مچھلیوں کے دماغی بافتوں میں ایسیٹائل کولینیسٹریز (AChE) کی سرگرمی میں نمایاں کمی کا مشاہدہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کولینرجک نیورو ٹرانسمیشن کا نظام متاثر ہوا۔ اس خلل کے باعث مچھلیوں میں غیر متوقع تیراکی، اپنے ہم جنس کے ساتھ مل کر رہنے (schooling) کے رویے میں کمی، اور توازن برقرار رکھنے میں دشواری جیسے اثرات سامنے آئے۔ مائیکرو پلاسٹک کی نمائش نے مچھلیوں کے جگر اور گلز میں اینٹی آکسیڈنٹ انزائم جیسے کیٹالیز (CAT) اور سوپر آکسائیڈ ڈسمیوٹیز (SOD) کی سرگرمی کو کم کر دیا۔ اس کے برعکس، لپڈ پیرو آکسیڈیشن (LPO) اور مالونڈائلڈیہائیڈ (MDA) کی سطحوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک آکسیڈیٹیو تناؤ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس مطالعے میں ٹور پوٹیٹو را مچھلی پر پولی ایتھلین مائیکرو پلاسٹک کی مختلف ارتکاز میں 30 دن تک رکھا گیا۔ محققین نے نہ صرف بائیو کیمیکل تبدیلیاں ریکارڈ کیں بلکہ مچھلی کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی بغور مشاہدہ کیا، جس میں مسلسل میوکس کا اخراج اور ہوا نگلنے جیسے رویے بھی شامل تھے۔ یہ تفصیلی مشاہدات اور نتائج مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کے آبی ماحول اور اس کے جانداروں پر پڑنے والے سنگین اثرات کی تصدیق کرتے ہیں۔ مطالعے کے نتائج نے واضح کیا کہ مائیکرو پلاسٹک آبی جانداروں کے لیے سنگین ماحولیاتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف ان کی بقا اور تولیدی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ تحقیق عالمی ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے اور ٹور پوٹیٹو را مچھلی کو مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک حساس بائیو انڈیکیٹر (حیاتیاتی اشاریہ) کے طور پر بھی توثیق کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *