⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو
قومیں ہمیشہ اُن قربانیوں پر زندہ رہتی ہیں جو اُن کے جانباز جوان اپنی جان دے کر تاریخ پر ثبت کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 6 ستمبر 1965 کا دن ایسا درخشاں باب ہے جو ہماری قومی غیرت، اتحاد اور بہادری کی روشن مثال ہے۔ یہ دن نہ صرف ہماری عسکری کامیابیوں کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ یہ اس امر کی بھی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔
جب دشمن نے رات کے اندھیرے میں بزدلانہ حملہ کیا تو اُس نے سوچا کہ لاہور کی گلیوں میں ناشتہ کرے گا۔ لیکن دشمن بھول گیا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کے رکھوالے ایمان سے لبریز وہ شیر دل سپاہی ہیں جن کے عزم کے سامنے توپ و تفنگ بھی ہیچ ہیں۔ دشمن کا خواب اُس وقت چکناچور ہوا جب ہمارے جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی خاطر کھڑے ہو گئے۔ قوم کے وہ فرزند، جنہیں آج ہم “راہِ حق کے شہید” کے نام سے یاد کرتے ہیں، تاریخ میں وفا اور قربانی کی لازوال تصویریں چھوڑ گئے۔
میجر عزیز بھٹی شہید، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لاہور کی سرحدوں کا دفاع کیا، کیپٹن سرور، جن کا جذبۂ ایثار آج بھی لہو کو گرما دیتا ہے، راشد منہاس، جنہوں نے وطن پر جان قربان کر کے نئی مثال قائم کی، اور ایم ایم عالم، جنہوں نے لمحوں میں دشمن کے جہازوں کو پے در پے زمین بوس کیا—یہ سب ہمارے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی داستانیں آج بھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں۔
6 ستمبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اُس دن صرف فوجی ہی نہیں لڑے بلکہ یہ پوری قوم ایک مورچے میں کھڑی تھی۔ عورتوں نے اپنے زیورات وطن کے نام کر دیے، بزرگوں نے دعاؤں کے ہتھیار اُٹھا لیے اور بچوں نے سپاہیوں کو پانی اور حوصلہ فراہم کیا۔ یہی جذبہ تھا جس نے ایک چھوٹی سی قوم کو ایک بڑے دشمن کے سامنے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
لیکن آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُس جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن اب توپ و ٹینک کے ساتھ نہیں بلکہ معاشی دباؤ، ثقافتی یلغار اور اندرونی انتشار کی صورت میں حملہ آور ہے۔ شہداء کی قربانیاں ہم سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں، اور پاکستان کے استحکام کو اپنا اولین مقصد بنائیں۔
اے راہِ حق کے شہیدو! تمہاری قربانیاں آج بھی ہماری رگوں میں دوڑتے خون کی طرح ہیں۔ تم نے جو وفا کی تصویریں تاریخ کے اوراق پر ثبت کیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پاکستان آج بھی تمہاری قربانیوں کے صدقے سلامت ہے، اور ان شاء اللہ تا قیامت سلامت رہے گا۔
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ جاں اس کے
