جدائی

جدائی

چاند ڈھلتا گیا رات باقی رہی
یاد تیری مگر ساتھ باقی رہی

خواب آنکھوں میں سوکھے ہوئے رہ گئے
بارشوں کی فقط بات باقی رہی

زخم سینے میں جلتے رہے رات بھر
درد کی ایک سوغات باقی رہی

دل کے صحرا میں تیرے قدم تھم گئے
پھر بھی خوشبو کی برسات باقی رہی

وقت نے سب رشتے مٹا ڈالے ہیں
بس تری یاد کی گھات باقی رہی

زلف کی چھاؤں ڈھلتی گئی چاندنی
تیرگی کی وہ سوغات باقی رہی

یوں سحر دل کی دنیا اجڑتی گئی
پر وفا کی تری بات باقی رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *