عجب مزاج کا شخص ہے

عجب مزاج کا شخص ہے
کبھی بلا کا اجنبی
توکبھی انتہا کا مہربان
کبھی جواب ندارد
تو کبھی مخاطب آخری پہر
کہیں سنجیدگی کی ردا اوڑھے
تو کہیں مُسکراتا چہرہ
کبھی سر آنکھوں پر رکھے
تو کبھی حقارت سے گرا دے
دل چھلنی بھی کرے
پھر درد دل کی دوا بھی بنے
روح من ستم گر بھی
روح من چارہ گر بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *