⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
عید میلاد النبی ﷺ اور اردو کےنامور شعراء کا خوبصورت نعتیہ کلام
ربیع الاول کی بارہ تاریخ کائنات کے لیے وہ دن ہے جس نے انسانیت کی تقدیر بدل ڈالی۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کو دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ کائنات کے وجود کی اصل غرض و غایت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا: “وما أرسلناک إلا رحمة للعالمین” — یعنی ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
اسی نسبت سے اُمتِ مسلمہ ہر سال اس دن کو خوشی و مسرت کے ساتھ عید میلاد النبی ﷺ کے طور پر مناتی ہے۔ محافلِ میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد ہوتی ہیں، نعتیہ مشاعرے ہوتے ہیں، درود و سلام کی محفلیں سجتی ہیں اور گلی کوچے چراغاں سے روشن کر دیے جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ دن عشقِ رسول ﷺ کے اظہار اور سیرت النبی ﷺ پر عمل کی تجدید کا دن ہے۔
اردو ادب میں نعتیہ شاعری کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اردو شاعری کی۔ ولی دکنی کو اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر مانا جاتا ہے اور انہوں نے اپنے دیوان میں نعت شامل کر کے یہ پیغام دیا کہ عشقِ رسول ﷺ کے بغیر شاعری کا حسن مکمل نہیں ہو سکتا۔ بعد ازاں میر، سودا، خواجہ میر درد، مصحفی اور دیگر کلاسیکی شعراء نے نعتیہ کلام لکھا۔
خواجہ میر درد کی نعتیہ شاعری صوفیانہ رنگ رکھتی ہے، جس میں وہ حضور ﷺ کو کائنات کی روحانی مرکزیت قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
؎ چمن کے پھُول میں خوشبو ہے تِری یاد کی
؎ نسیمِ صبح میں ہے نکہتِ گفتارِ نبی ﷺ
مرزا غالب جیسے فلسفیانہ شاعر کے ہاں بھی نعتیہ کلام موجود ہے۔ اگرچہ ان کا نعتیہ سرمایہ کم ہے لیکن اس میں عشق و عاجزی کا گہرا رنگ نمایاں ہے:
؎ وہ آیا رحمتِ عالم، مٹے غم روزگاروں کے
؎ ہوئی روشن ضیا سے دہر، قسمت بختیاروں کے
الطاف حسین حالی نے نعتیہ شاعری کو ایک فکری پیغام کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے اُمت کو یاد دلایا کہ اگر نجات چاہیے تو حضور ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا:
؎ ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
؎ جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
علامہ اقبال نے نعت کو نئی روح عطا کی۔ ان کے ہاں عشقِ رسول ﷺ صرف جذبے کا نام نہیں بلکہ فکری انقلاب کی بنیاد ہے۔ ان کا یہ شعر ہمیشہ ایمان کو تازگی بخشتا ہے:
؎ کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
؎ یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
امام احمد رضا خان بریلوی نے نعت کو اپنے کلام کا محور بنایا۔ ان کا ہر شعر محبت اور عقیدت کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے:
؎ وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
؎ تیرے دن ہیں بہار پھرتے ہیں
احمد رضا خان کے نعتیہ کلام کو عوامی سطح پر بھی بے مثال مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی نعتیں میلاد النبی ﷺ کی محافل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔
جدید شعرا میں حفیظ تائب، مظفر وارثی، صوفی تبسم اور انور شعور جیسے نام شامل ہیں جنہوں نے نعتیہ روایت کو مزید نکھارا۔ حفیظ تائب کی عقیدت ملاحظہ کیجیے:
؎ کچھ اور نہیں ہے حاجت، بس اتنی دعا ہے طیبؔ
؎ مدینے کی گلیوں میں بار بار لے جاؤں
مظفر وارثی نے کہا:
؎ لبوں پہ جس کے کبھی بددعا نہیں آتی
؎ وہ رحمتوں کا نبی ہے، سزا نہیں آتی
عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر دنیا بھر میں مسلمانوں کے دل نعتیہ کلام سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ میلاد مصطفی ا صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلوں میں جب شعراء اپنے اشعار کے ذریعے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ عقیدت پیش کرتے ہیں تو ہر دل جھوم اٹھتا ہے۔ درود و سلام کی صدائیں فضا کو معطر کر دیتی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ کی آنکھوں سے عقیدت کے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
یہی نعتیہ شاعری نئی نسل کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کا چراغ روشن کرتی ہے اور انہیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچی کامیابی صرف اُس زندگی میں ہے جو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق بسر کی جائے۔
منتخب نعتیہ اشعار
؎ نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
؎ ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا (غالب)
؎ مدینے کے گلی کوچوں میں گزاروں زندگی اپنی
؎ بس اتنی سی تمنّا ہے، بس اتنی سی دعا ہے (حفیظ تائب)
؎ خُلقِ عظیم سے روشن ہے ساری کائنات
؎ حبیبِ کبریا ﷺ ہیں رحمتوں کی اک سوغات (انور شعور)
؎ آقاؐ تیرا احسان ہے، سب پہ تری رحمت ہے عام
؎ ظلمت میں ڈوبا تھا جہاں، تو نے کیا اس کو سلام (مظفر وارثی)
عید میلاد النبی ﷺ محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایمان کی تجدید اور عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کا دن ہے۔ اردو شعراء نے اپنے نعتیہ کلام کے ذریعے یہ بات اجاگر کی کہ پیارے آقا ﷺ کی سیرت ہی فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔
نعتیہ شاعری صرف ادب نہیں بلکہ ایمان کی تازگی اور دلوں کی روشنی ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ ہمیں ہر سال یہی پیغام دیتی ہے کہ محبتِ رسول ﷺ ہی دراصل ایمان کی بنیاد اور اُمت کی اصل طاقت ہے۔
