خط بنام بیٹی
از قلم انعمتہ احمد
شہر اسلام آباد
السلام علیکم
میری پیاری بیٹی
میری ننھی سی گڑیا
عائشہ بنتِ احمد
میں جانتی ہوں کہ ابھی تم اس قابل نہیں کہ میرا یہ خط پڑھ سکو مگر تم اب بڑی ہو رہی ہو سمجھدار بھی ہاں سمجھدار تو تم تب سے ہو جب سے تم نے اپنی ماں کو کمزور دیکھا ہے اسے مضبوط کرنے کے لیے تم سمجھدار بن گئی اتنی سی عمر میں جب بچے کو صرف رونے کا پتا ہوتا ہے تم نے مسکرانا سیکھ لیا تاکہ تمہاری ماں کمزور نہ پڑ جائے
مجھے تم پر فخر ہے میری جان تم مما کا کل اثاثہ ہو خیر جب تم ان الفاظ کو سمجھنے لگو گی تو یقیناً اپنی ماں کے جملوں میں اپنا عکس تلاش کرو گی اور مسکرا اٹھو گی کہ میری ماں نے مجھے لفظوں میں بھی کتنا حسین لکھا بالکل اسی طرح جیسے اس نے میری زندگی کو حسین بنانے کی کوشش کی میں نے تمہاری اچھی تربیت کرنے کی کوشش کی میں نے تمہاری بہترین دوست اور ہمدرد بننے کی کوشش کی جب تم یہ الفاظ پڑھو گی تو شاید تمہیں اندازہ ہو کہ تم صرف میری بیٹی نہیں ہو تم میری دعا ہو میری ہر رات کے سجدوں کی تعبیر ہو میں نے تمہیں صرف اپنی گود میں نہیں پالا میں نے تمہیں اپنی روح میں اتارا ہے تمہاری ہر مسکراہٹ میرے لیے ایک نئی زندگی لے کر آتی ہے اور تمہاری ہر اداسی مجھے اندر سے توڑ دیتی ہے میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے رب کی صرف صابر نہیں بلکہ شاکر بندی بنو کیونکہ صبر انسان کو سنبھال لیتا ہے مگر شکر انسان کو بلند کر دیتا ہے اور جب بندہ شکر گزار ہو جاتا ہے تو رب اس کے نصیب میں وہ خوشیاں بھی لکھ دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ہر والدین اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں مگر میں نے تم سے عشق کیا ہے بے پناہ عشق تمہارا عشق میری رگوں میں پیوست ہے اور بیٹیاں تو یوں بھی قابل عشق ہوا کرتی ہیں ہر دور میں بیٹی کی محبت بیٹے کی محبت پر غالب رہتی ہے بیٹیاں محبت کے نہیں عشق کے قابل ہوتی ہیں اور ان سے عشق کا نشہ بخدا ایسا نشہ ہے کہ ہر شے سے بیگانہ کر دیتا ہے پہلی اولاد ہو اور وہ بھی بیٹی تو یہ نعمت لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے خدا کی قسم تم نے مجھے ہر شے سے ماورا کر دیا ہے میری ننھی گڑیا میری روح کا قرار اگر کبھی زندگی تمہیں تھکا دے تو یہ یاد رکھنا کہ تمہاری ماں نے تمہیں مضبوط بنایا ہے صرف اس لیے نہیں کہ تم لڑ سکو بلکہ اس لیے کہ تم ہر حال میں مسکرا سکو تمہارے یہ ننھے ہاتھ جن پر کبھی دکھ کے نشان تھے ایک دن انہی ہاتھوں میں خوشیوں کے پھول سجیں گے اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہاری ہر چھوٹی کمی کو اپنی محبت سے پورا کروں گی تمہاری کہانی درد سے شروع ہوئی مگر ان شاء اللہ اس کا اختتام خوشیوں پر ہوگا اور ہاں جب تم یہ پڑھو گی تو ایک بات ضرور سمجھنا کہ تمہیں لفظوں میں جتنا خوبصورت لکھا گیا ہے حقیقت میں تم اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو
تمہاری ماں اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ ہے
ہمیشہ تمہاری خیرخواہ
تمہاری ماں
انعمتہ احمد
