سفر گل زمیں کے
قسط نمبر 04
Khadija Farms
جب ناذیہ اور سمانہ, جوڑی دار ریس کے لئے تیاری پکڑ رہے تھے تو میں اور زاہرہ ہنس رہے تھے کہ کیسے مضبوطی سے سامانہ نے پیٹھ پر نازیہ کی قیض کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور جب وہ دور پڑی میز کو چھو کر تیزی سے واپسی کے سفر پر تھے کہ اچانک خوش رنگ کپڑوں میں ملبوس دونوں مہیلائیں چکرا کر
گر گئیں سب کا دل بیٹھ گیا کہ یہ زیادہ نہ دُکھ گئی ہوں
پر دونوں وہ سپورٹس مین سپرٹ دکھائی کہ سب ششدر رہ گئے –
گرنا وہ اذیت ناک فعل ہے کہ سگی ماں بہن بھی گر
جائے تو دیکھنے والے دُکھ بھی محسوس کررہے ہوں تو ہنستے ضرور ہیں پر آفرین ہے ان دونوں پر کہ کپڑے جھاڑ کر ہنستے ہوئے گھاس سے اُٹھ کھڑی ہوئیں اور ہمت کی داد بنتی ہے نازیہ کہنے لگیں : قیصرہ !اس خوشگوار حادثہ پر لکھنا
کہا: آپ کو شاباش ہے نازیہ! آپ نے کہ دیا ورنہ میں جرائت نہ کرتی
رَبّ کرے دونوں اچھی صحت اور مضبوط ہڈیاں و جوڑ انجوائے کر رہی ہوں سلامت رہیں اپنی خوشگوار شخصیات کی خوب صورتی کے ساتھ ، آمین !
اب سب کو تھوڑی تھوڑی بھوک لگ چکی وہ سامنے لگی میزوں پر کھانا چُنا جا رہا تھا ، بریانی کی
خوشبو اور متنجن کی مہک بھوک کو چمکا رہی تھی
میزبان نے کھانا تناول فرمانے کے لئے سلور لائنز کی خواتین کو دعوت دی بہترین کراکری اور کٹلری کے ساتھ بہترین بریانی سے پورا پورا انصاف کرلیا گیا رائتے اور سلاد کے ساتھ بریانی کی لذت اور بڑھ گئی
مہذب میزبانوں نے اتنی شائستگی کا مظاہرہ کیا کہ اپنے مہمانوں پلٹیں تک ہاتھوں میں تھمائیں اُن کی ڈومیسٹک ہیلپرز بھی بہت تعاون کر رہی تھیں
وہ نیپکن ، پانی اور مزید بھری ہوئی ڈشز وہیں کُرسیوں تک پہنچا رہی تھیں
مزیدار لنچ ختم ہوا اب انرجی کا لیول اور بڑھ گیا دو ٹولیوں میں تقسیم سلور لائنز کی خواتین نے انتاکشری کھیلنا شروع کی اور اُس میں بھرپور حصّہ لیا
ہمارئ عامرہ شہاب ہمارے گروپ کی روحِ رواں تھیں بلکہ۔ منزہ ، ساجدہا ور زاہرہ ، ماورا اور عائشہ نے بھی سُر جگائے ، مخالف پارٹی میں عظمࣿی جو آواز و ادائیگی دونوں میں لاجواب ، سمیرا زاہد، سیما صاحبہ کنول صاحبہ نے بھی ٹپوں میں چار چاند لگائے بہت دلچسپ ٹپے تھے خاص طور پر آلو مٹر کی مکس سبزی کے حوالے سے دونوں گروپوں نے خوب مسکراہٹیں سب کو دیں
کافی دیر تک یہ پُرجوش محفل جمی رہی اور سب نے بہت انجوائے کیا
تر تازہ محفل اختتامُ پذیر ہونے کو تھی کہ قہوہ کی بھینی بھینی خوشبو دار الائچیوں مہک نے سب کی توجہ کھینچ لی
سب سمیرا سے سمارٹ نیس کا راز جاننے کی خواہش مند تھے پر سمیرا خوب صورتی سے ٹال گئیں-
اب تو سائے ڈھلنے لگے تھے نومبر کے اختتام پر دن اور بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں-
ثمینہ کہنے لگیں دوستوں سے ملنا تازہ خون کی بوتل لگنے کے مترادف ہے واقعی سچ ہے تھوڑی دیر ملو پر انرجی کافی ملتی ہے-
سچ میں چودھرائن ارشد صاحبہ اور عامرہ شہاب کے کھنکتی قہقہے محفل میں نئی روح پھونک دیتے ہیں –
جب اس دلکش فارم سے رُخصت ہونے لگے تو روفیہ بھابھی نے سب مہمانوں کی کاروں کی ڈگیاں
سبزی کے تھیلوں سے بھروادیں –
یوں دمِ رُخصت ایک اور حسین سفر کا سوچ سب ایک دوسرے سے رُخصت ہوئے اب ہم بہت پیاری ڈاکٹر راحیلہ کے ساتھی تھے راحیلہ ، ثمینہ ، عطمࣿی اور میں اپنی سوسائٹی میں ہمسائے ہیں –
سلور لائنز کی ان محفلوں کی وجہ سے اتنے پیارے ہمسائیوں سے آشنائی ہوئی
میں نے صرف ایک تصویر بنائی ، اس کا بتاتی ہوں ، اب میری یہ کیفیت ہوتی ہے کسی بھی ایونٹ پر میں جاؤں خوب صورت ماحول کو آنکھوں کے راستے دل و دماغ میں اُتارنے کی پوری کوشش کرتی ہوں، میں نے تصویر لی نازاں نازاں چلتی دو گائیں جو دور اُس کونے میں ٹھہری جگالی کر رہی تھیں میں یک بار خود کو دیہات کا حصّہ سمجھ بیٹھی بچپن سے اب تک پوری عمر شہروں میں گُزری پھر بھی جانے کیوں دیہاتی زندگی بہت پُر کشش لگتی ہے-
میں دل ہی دل میں سب درختوں کو دُعا دیتی رہی
مجھے تو درختوں کَٹنا درختوں کا قتلِ عام لگتا ہے –
ملتان کے سب سے میٹھے آموں کے باغات کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دی گئیں
مُلتان کے درخت کیا کٹے مُلتان اب کی بار پہلے سے زیادہ سموگ کی زد میں آگیا ہے – شہروں کے درختوں کو دیہاتوں کی درختوں کے ساتھ اللہ کی امان ہو اللہ نگہبان ہو اللہ رکوالا ہو اور روفیہ بھابھی کا یہ چمن زار سدا آباد رہے سر سبزوشاداب رہے
مجھے تو پروین شاکر کا وہ درخت نہیں بھولتا جسے وہ روئیں اور میں بھی آج تک وہ شعر پڑھ کر بے حد افسردہ ہو جاتی ہوں
کل رات جو ایندھن کے لئے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اُس بوژھے شجر سے
سلور لائنز (گروپ ہے جو زندہ دل لڑکیوں کا اکٹھ ہے بلا امتیاز عمر ورنگ ونسل )
مجھے یاد آیااُس دن مسسز خان کی بیٹی کی شادی تھی
میں رضو سے محوِ گفتگو تھی یا میری خود کلامی کی کیفیت تھی-
کہا: رَضو! یہ جو ہمارامالی ہے اُس کا کیا نام ہے ؟
بی بی! مجھے لگتا ہے اُس کا نام عالم زیر ہے
رَضو کے ساتھ رہ کر مجھے لگا میرا اپنا دماغ بھی پلاسٹک کا ہوگیا ہے
پر اس کے عالم زِیر کہنے پر اسکا درست نام عالم زیب یاد آگیا
عالم زیب ….. زیرِ لَب دُہراتی رہی
کہا: رضو! بس بہت ہوچُکی دانشمندانہ گفتگُو اب برائے کرم میرا یہ سوٹ استری کردو آج شادی کا بُلاوہ ہے بروقت تیارہوجاؤں ، یوں ابھی ایک بجنے میں پندرہ منٹ رہتے تھے میں بالکل تیار ہوکر گیٹ کے اندر بھابھی مسسز آفریدی کا انتظار کرنے لگی
رضو نے گیٹ کی درزوں سے دیکھ لیا کہ مسسز آفریدی کی گاڑ ی سامنے مسسز فراست کو پِک کرنے اُن کے گیٹ پر تھی بس دو منٹس ہم تینوں بھابھی کے بیٹے کے ساتھ شادی ہال کی طرف رواں دواں
ای الیون شادی ہالوں کا گڑھ ہے اور برلبِ سڑک ایک بہترین ہال کوئی گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد پہنچ گئے نک سُک لابی میں درست کرکے نفاست سے سجے ہال کی طرف بڑھ گئے-
روشنیوں نے دودھیا سفید چھت کو بقعئہ نور بنایا ہوا تھا اچھی ارٹسٹک سینس سے سجے ہال کے اوّلین مہمان ہم تینوں تھے، ریسپشن پر ایک دُلہن کی خالہ اور دُلہن کی منجھلی بہن اور کچھ ہال کے منتظمین کا عملہ موجود تھا
دوبج رہے تھے ایک بجے کا بُلاوہ تھا ، خیر اکا دُکا مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا پر بہت دھیرے دھیرے ہمارے آنے کے دس منٹس کے بعدآنے والی دو محترم خواتین بھلا کون تھیں؟
ارے !یہ تو ہماری “سلورلائنز” کی ایس پی صاحبہ یعنی شاہدہ صاحبہ تشریف لے آئیں پوری تمکنت کے ساتھ اور ساتھ میں ایک حسینہ جو خوب صورتی سے سجی تھیں ان کے ہمراہ تھیں تعارف پر پتہ چلا کہ وہ نیول اینکریج سب سے مشہورجِم کی انسٹریکٹر تھیں جو واقعی میں اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی ، تروتازہ و باغ و بہار شخصیت ہیں اور سچ میں پوری ایمانداری سے Aerobics کراتی ہیں سانچے میں ڈھلی شخصیت ان کی مہارت کی غماز تھی-
وہ تو باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اُن کے ہونہار ترین جم کی لڑکیوں میں میری بہو بھی شامل ہیں اور وہ تو کئی سالوں سے gym کی اہم رُکن ہے بقول انسٹریکٹر روبینہ بہت ایمانداری سے جِم کرتی ہیں ورزش اور ویٹ لفٹنگ میں اُن کا ثانی کوئی نہیں ۰۰۰۰ یہ سب سُن کر اچھا لگا، منظم اورمستقل مزاج ہیں-
اتنے میں دُلہا والوں کی بمع دُلہا انٹری نے ہال میں سرگرمی اور دلچسپی بڑھا اب سب کی نظریں اسٹیج پر تھیں فوٹو سیشن ہو رہا تھا ، دُلہا نے انٹری دی تو پھر دُلہن بھی اپنے پیاروں کے حسین و جمیل جھر مٹ میں ہال میں داخل ہوکر اپنے جلوے بکھیر چکی تھیں
پھر جیسے ہال میں جان پڑگئی سب مُتلاشی نظروں سےحسین جوڑی کے دیدار کرنے لگے-
دیکھتے ہی دیکھتے کھانا کُھل گیا ہم سب جس ٹیبل کے اردگرد بیٹھے تھے ہمارے بائیں باجو کی طرف سے لگے کھانے کی مہک نےپورے ماحول کی بھوک جگا دی کیونکہ ہم سب نے ناشتے پر ہاتھ ہولا رکھا تھا-
کھانا انتہائی شاندار اورلذیذتھا اور انتہائی محنت سےنفیس انداز میں بہترین کراکری میں پیش کیا گیا
کھاناایسا کہ ویجیٹیرین اور meat lovers دونوں طرح کے حاضرین مطمئن اور شاداں
حسبِ خواہش خوب انجوائے کرکے کھایا محظوظ ہوئے سب کھانے کی بےحد تعریف کر رہے تھے
میں سوچ رہی کتنی محنت سے لائبہ کو اَمّاں اَبّا بے پالا زیورِ تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا تو اتنی پیاری اور قابل لڑکی جب ایک مکمل و بہترین انسان بن گئی تو کروڑوں خرچ کرکے اُسے وداع کردیا
سب نےدل سے دُعا دے کر کہ اے پیاری بیٹی ! سدا سُکھی رہو تاروں کی مانند خوشیوں اور شادمانیوں کے آسان پر جھلمل کرو اپنے شریکِ حیات کے ساتھ۰۰ دونوں والدین دھیتے (دُلہن والے )تے پُتریتے (دُلہا والے)بھی سکھ سمٹیں اور شاداں رہیں
زندگی تجھے سمجھتے سمجھتے بال سفید اور لاٹھی ہاتھ میں آجاتی ہے پر پھر تُو کبھی کبھی اُلجھا دھاگہ کیوں بن جاتی ہے تجھے سُلجھاتے سُلجھاتے تھک کے سو جانے کو جی چاہتا ہے-
زندگی میں ماہی نہ ہوتی ۰۰۰۰ہانیہ نہ ہوتی ہم کیا کرتے اور اگر رَضو و گلبدن و زُلیخا بھی نہ ہوتے تو زندگی بہت روکھی پھیکی ہوتی
اب میں ان کرداروں کی کردار نگاری کرنے بیٹھی تو میری رات میرے ہاتھوں سے نکل جائے گی-
دو سطروں میں ماہی (ماہم ) اور ہانی (ہانیہ) کے کرداروں کو بیان کروں تو بس یہ ،دونوں کو جیسے ہم سب فیملی والوں نے خود spoil کیا اگر ایسا نہ کرتے تو گھر کی رونق پھیکی پڑ جاتی۔
بہت باتیں ہیں پھر سہی اور پھر رافو کا یہ ٹاما گڑاما اُف
کہاں تک سُنو گے کہاں تک سُناؤں۔
کندہ شاہ کی پڑپوتی کو کئی طرح کے لوگوں کا سامنا ہے-
پہلے تو آپ کندہ شاہ کی جھلوتری کا حال سُناؤں!
جو میری سَگی بھتیجی اور سونے پر سُہاگہ بڑی بہو صاحبہ بھی ہیں-
اب اکثر بیشتر کہتی ہے : بوئی ! کندہ شاہ نے ہماری عزت کو بہت بڑھاوا دیا ہے کافی ڈھارس بندھی ہے۔ ہماری کافی تَسلی ہوگئی کہ ہم بھی کچھ ہیں ۰۰۰۰
میں دل میں ہنستی ہوں کہ بچی !رَبّ کرے پیچھے سے پاولی نہ ہوں اورتو کُلی خیر ہے – (کہتی دل میں ہوں آپ کو پتہ ہے طبیعت میں بہت لحاظ ہے لہذا منہ در منہ نہیں کہتی۰۰۰۰)آخر ساس بھی کبھی بہو تھی-
دوسری طرف کندہ شاہ کی پڑ ڈوتری (جیسے پردادا ہوتا ہے ایسا ہی پرناناکی میں سمجھتی ہوں جھلوتری ٹھیک رہے گا ، مہرالنساء کے منہ پر بھی پڑتا ہے)-
آج جب کہا: مہرالنساء میرے پاؤں کے ناخن تراش دو –
دھوپ لگواتے اکٹھے بیٹھے تھے-مزے سے لاؤنج کی اولے (اوٹ)والی دھوپ کا مزہ ہی اور ہے-حنا کہنے لگی : بوئی! جب سے آپ نے کندہ شاہ کی تَسلی کروائی ہے ۔
میں کافی پُرسکون ہوگئی ہوں( دل میں کہا پہلے بھی میاں بہت رُعب میں ہے ، اب محترمہ شاہوں کی پڑپوتی بن کر اور میرے بچے کو آنکھیں دکھائے گی)
مہرالنساء ایسے موقعوں پر چُپ رہنا گُناہ سمجھتی ہے
کہنےلگی: ماتا جی ! رام رام کریں میں تو بس صوفی عبدالخالق خان کی پوتی ہوں بھلا ہو ہمیں بار بار اپنا کندہ شاہ صدیوں پُرانا پڑدادا دکھا کر مُتاثر کرنے کی کوشش نہ کریں-
کہا : دادا تو میرا بھی حافظ عبدالخالق خان ہی ہےپر میرا بچہ اتفاق سے اب بادشاہ یا شاہوں جیسا دادا مل گیا تو میں اُنھیں نا اپناؤں گی !
کافی تیزی سے بولی : سنبھال کر رکھیئے ہم لوگ بالکل آپ کی نئی اختراع ، نئے پڑدادا سے متاثر نہیں ہوتے۰۰۰۰
لہا: اچھا اچھا تمُ دھیان سے ناخن تراشو ۰۰۰۰ ( دل میں کہا کہ مجھے جیسے تمہیں مُتاثر کرنے بڑا شوق ہے)
یہ سابقہ شریکِ چہل قدمی خاصی ظالمہ ہے – بھلا میرے دل سے لگا ئے پڑ دادا کندہ شاہ کے ساتھ یہ سلوک کرے گی میرے مَن چِت (خواب و خیال )
میں نہ تھا –
میری دوسری بہت سئ خوش نصیبیوں کی طرح یہ پڑدادا کندہ شاہ صاحب بھی مجھے ایف بی سے ملے ہیں – اور میں اُن سے جُڑ گئی ہوں-
اب میں آپ کو اپنے بچپن کے دنوں کا واقعہ سُناتی ہوں – ایک دن ویسے ہی میں نے اپنی پیاری دادی سے پوچھ لیا کہ دادا عبدالخالق خان کے والد اور اُن کے والد کا کیا نام ہے ؟ تب دادی جان نے بتایا اللہ داد خان تمہارے بابا کے دادا تھے اور اُن کے والد کا نام آحمد خان تھا –
میں ذرا ناموں کو یاد رکھنے کے حوالے ماٹھی ہوں-
ہمارے محلہ کڑی علیزئی میں دو دودھ والوں کی دُکانیں تھیں روضے والی بڑی مسجد کے سامنے آحمد دودھ والے جنہیں عام طور پر “آمدو کھیری”کہتے تھے – اور بڑی مردانہ جھاہ (یا بیٹھک )کے بڑے گیٹ سے مُتصل جس دودھ والے کی دُکان تھی اُس کا نام
اللہ داد کھیری تھا –
اب رات کو جب ناموں کو ذہن میں پکا رکھنے کے لئےدُہرایا تو خود کلامی کر رہی تھی تو مجھے چونکہ آحمد خان بابا کے دادا (آمدو کھیری کا سو ہن حلوہ بھی یاد آگیا- آٹھ آنے ، روپے کا اچھا خاصا حلوہ کاپیوں والے کاغذ پر رکھ کر دے دیتا تھا – کافی گرم حلوہ جو گلی میں کھانے کی کبھی اجازت نہ تھی ساتھ میں اَمّاں ایک لڑکی بھی کر دیتیں جو نگرانی کڑی نظروں سے دیکھا کرتی تھی-) تھےاب مجھے یہ نام کبھی نہ بھولے گا – اور اللہ داد خان جو بابا کے دادا کے والد تھے اب پھر وہ نرم مزاج دودھ فروش بھی یا د آگیا –
حالانکہ آمدو کھیری مطلب آحمد دودھ فروش مرحوم بخشش ہو-جو بھاری بھرکم تن توش بھی رکھتے تھے-
کبھی کبھی دودھ لیتے گاہک کی ذرا سی بے پرواہ پر دودھ ڈالنے والا پاولا (ڈول یا بڑا مَگ)ایسے اوپر اُٹھاتے لگتا ابھی اس سے بے چارے کو مار دیں گے-
خیر میں بھی اندر سے آمدو کھیری کے سخت لہجے سے سہم جاتی تھی پر ساتھ ٹھہری لڑکی کی قمیض کَس کر مُٹھی میں دبائی ہوتی تھی -اورنظریں سوہن حلوے کے اتنے بڑے کڑاہ پر گڑیں ہوتیں جس سے حلوہ بڑے بڑے تھالوں میں ڈالا جاتا۰۰۰۰ دل میں سوچتی اس تیز مزاج آمدو چاچا سے کبھئ سوہن حلوہ نہ لیتی اگر اللہ داد چاچا روز بناتا ، وہ تو ہفتے میں ایک بار بناتے تھے –
دادی نے دوسری رات سونے سے پہلے بُلایا بڑے پیار سے پوچھا : قیصرہ ! ہاں اب بتاؤ بڑے دادا مطلب بابا کے دادا کا کیانام تھا ؟
یقین کریں ان کم بخت سوہن حلوے کے چکروں میں دونوں بڑے دادوں کے نام مکس ہوگئے – میں خود کلامی کے انداز میں بڑے یعنی بابا کے دادا کانام آمدو کھیری یا اللہ داد ۰۰۰۰۰۰ ذرا سا سر کو بجا کر سوچنے لگی۰۰۰۰۰ پھر جیسے مجھے یقین آگیا کہا: دادی ! آمدو مطلب آحمد خان۰۰۰۰
میرے بابا ساتھ سے گُزر رہے تھے دادی نے بُلایا
دُراَمند( بابا کا نام در محمد تھا اُسے بھی دادی نے سرائیکی میں بدل دیا تھا)
بابا بڑے مؤدب انداز میں : جی اَمّاں!
دادی : اپنڑی بچڑی دا حال ڈیکھ(اپنی بیٹی کے تماشے دیکھو)تمہارے دادا کا نام یاد کرنے کے لئے آمدو کھیری اور اللہ داد کھیری کے ناموں سے یاد کیا –
بابا نے مسکرا میرے بالوں کی دونوں چٹیوں کو نرمی سے کھینچا (اب میں دل میں کہ رہی تھی، میری ذہانت کی تعریف کرتے۰۰۰۰ ماتھا چومتے نا جی ۰۰۰۰)
دادی: اے تیڈی دھی بہوں جوگی ہِے-
میں دل میں بیٹھی آج سوچ رہی ہوں کہ کیا فرق پڑا اس زمین کے نیچے اللہ داد خان دا دا اور اللہ داد کھیری ، آحمد خان دادا اور آمدو کھیری سب ایک ہوئے ۰۰۰۰۰ یہ سب ڈھکوسلے ہیں-
تبھی تو مہرالنساء کہتی ہے : Mom! میں
کندہ شاہ پڑ نانے سے بالکل متاثر نہیں- بار بار کہ سُن کر ہمارا دل بھر گیا ہے –
دل میں سوچا بس دس قسطوں میں اس دادا کو چلاتی ہوں بس بہت ہوچکا کندہ شاہ ۰۰۰۰ کندہ شاہ
میں انھی خیالات میں غلطاں تھی کہ گلبدن میرا ہیئر برش اُٹھا میرے بالوں کو سُلجھاکر رات والے بال بنا کر پونی ڈال چکی تھی-
رَضو بچڑی کوئی گھنٹے سے میرے دائیں پاؤں مساج مسلسل کررہی تھی –
کہا: رضُو بچڑا ! میرا دوسرا پاؤں اپنے کمرے لے جاکر مساج کروگی – اب اگر میں کسی خیال میں محو ہوں تو تمُ تو بس کرو-
رَضُو : بڑی بی بی آپ کو ٹپکنڑ والی جُرابیں پہنا دوں-
(رضو بیگم وہی نیک نام ہیں جو سو بار پڑھانے کے بعد کہتی تھی : Elephant کا مطلب بطخ ہے-)
میں چونک کر اتنی محبت سے اپنی اتنی پیاری پولکا ڈاٹس والی جُرابوں کو دیکھا جنہیں ٹپکنڑ والی کہ رہی تھی-
کہا : پہنا دو-
اچھا اس کے سامنے بندہ ہنس نہیں سکتا لٹکا ہوا لمبا منہ بنا لی گی جو ہمیں گوارا نہیں اسی وجہ بس پیٹ کے اندر ہنس لیتے ہیں-
ویسے اب کی بار جب میں ذیشان کی طرف گئی تو مہرالنساء سے تاکید کی کہ پوری گرمیاں میرے کمرے میں گزارو اپنا کمرہ سمجھ کر ،پر میری تینوں لڑکیوں گھنٹہ ڈیڑھ ڈرامہ لگا دینا –
وہ بولی :میرے کاموں میں خلل پڑا تو میں ان کے نخرے نہیں اُٹھا سکتی۰۰۰ویسے دکھاؤں گی –
کہا : کتنے پیار سے تمہارے کام کرتی ہیں-
کہنے لگی : اچھا ۰۰۰۰ دیکھوں گی گر ہوسکا تو۰۰۰
حنا و نادیہ سے بھی تاکید کی دونوں کو اِن کی تفریح اور ڈرامے سے غالب کے محبوب والی محبت کا پتہ تھا اِن کو ریلیکس رکھنے کے لئے اب دونوں اپنی اپنی مالکنوں کی ساتھ دو دو گھنٹے ڈرامے دیکھتی ہیں – گلبدن و مہ پارہ ٹیب پر اور رضو اپنی بی بی کے ٹی وی پر-
اس طرح اب ربِ کریم نے جبراً دیکھے جانے والے ڈراموں سے مجھے بچا لیا یہ اور بات کہ میں اور زینب ورجینیا میں ایک دو ڈرامے سلیکٹ کرکے سیریل دیکھتے تھے-
زینب اور میں چونکہ تبصرہ کرتے دیکھتے تھے-
یہاں اکیلے دیکھنا چَٹی (موت) پڑتی ہے-
اب آج ہوا کیا فیصل عرفان جو جرنلسٹ ہیں “پوٹھوہاری اکھانڑ “جیسی پائے کی کتاب کے مصنف ہیں- نے مجھے میسیج کیا دیکھا تو اخبار “ پاکستان “کے ایک صفحہ کا دھندلا دھندلا ایک اسکرین شاٹ جو عباس فیصل صاحب کی تحریر شدہ تھا مجھے بھیجا ، مجھ سے صرف جو بولڈ لائنوں لکھا تھا وہی پڑھ سکی –
جب غور کیا تو مجھے تو عباس سیال صاحب جیسے مصنف اور ہائے کے لکھاری کی ہاتھ کی تحریر تھی –
عباس سیال صاحب کو رَبّ تعالٰی نے بہت عزت دے ، اتنی عزت بخش دی –
اتنی میں قابل نہیں جتنا ا ُنھوں نے لکھا –
اور اس کتاب جو عزت گگن شاہد اور اَمر شاہد نے دی وہ بھی ناقابلِ فراموش ہے –
کراچی بُک فیئر پر ساتھ لے گئے اب دیوقامت مصنفین کی کتابوں کے ساتھ مجھ نا چیز کی کتابیں
بھی شامل ہوگئیں – یوں شکیل عادل زادہ صاحب اور اقبال دیوان صاحب جیسے مصنفین نے اس کتاب کو چھُواء یہ سب اعزاز کی بات ہے –
سب کا بہت بہت شُکریہ!
