وقت کی پکار

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

وقت کی پکار

کبھی تنہائی میں، رات کے آخری پہر، دل سے ایک آہ سی نکلتی ہے۔ایسی آہ جو شاید ہم سب کے اندر کہیں نہ کہیں دبی ہوئی ہوتی ہے۔ ایک خلش، ایک خلاء، جیسے کچھ چھوٹ گیا ہو، جیسے کچھ کر گزرنا تھا، لیکن وقت ہاتھ سے پھسل گیا ہو۔ یہ لمحہ، یہ احساس… یہی تو ہے وقت کی پکار۔
وقت کبھی بولتا نہیں، مگر اس کی خامشی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ وہ ماں کے ہاتھوں کی جھریوں میں، باپ کے سفید ہوتے بالوں میں، بچے کے پہلا قدم رکھنے کی خوشی میں، اور کسی پیارے کی قبر پر پڑے زرد پھولوں میں چیخ چیخ کر کہتا ہے۔ “میں گزرتا جا رہا ہوں، سنبھل جاؤ!”
ہم مصروف ہیں۔ کبھی دنیا بنانے میں، کبھی دنیا کمانے میں۔ دل کی آواز کو، احساس کی شدت کو، اندر کے خالی پن کو دبائے بیٹھے ہیں۔ مگر وقت ٹھہرتا نہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ لمحے جو آج ہمارے پاس ہیں، کل ماضی کی کتاب میں ایک ورق بن جائیں گے۔
کبھی سوچا ہے؟ جن لمحوں کو ہم نے بےکار سمجھ کر گزار دیا، وہی لمحے کل ہماری آنکھوں میں نمی بن کر لوٹ آئیں گے۔ جن رشتوں کو وقت نہ دے سکے، جن خوابوں کو کل پر چھوڑ دیا، جن نیکیوں کو سوچ کے باوجود ٹال دیا، یہی وہ صدائیں ہیں جو وقت کی پکار بن کر ہمیں جھنجھوڑتی رہیں گی۔
وقت کی پکار صرف تقویم کے صفحے پلٹنے کی نہیں، یہ روح کو جگانے کی آواز ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ تمہیں جو مہلت ملی ہے، وہ محدود ہے۔ جو کہنا ہے، کہہ دو۔ جو کرنا ہے، کر لو۔ جسے منانا ہے، منا لو۔ جس کا حق ہے، اسے دے دو۔ کیونکہ ایک دن یہی وقت تمہاری آواز سے محروم ہو جائے گا، اور تم صرف ایک قصہ بن کر رہ جاؤ گے۔

آؤ! ہم سب مل کر وقت کی اس پکار کو سنیں، سمجھیں اور اس کا جواب دیں۔ آج کو بہتر بنا لیں تاکہ کل جب ہم اپنے ماضی کو پلٹ کر دیکھیں تو دل سے فقط ایک دُعا نکلے:
“شکر ہے، میں نے وقت کو ضائع نہیں ہونے دیا”.

  • لفظوں کے افق پر ایک تازہ مگر گہرا رنگ چھوڑنے والا نام محمد ہشام علی ہاشمی جن کا تعلق پنجاب کے مہکتے ہوئے علمی و ادبی خطے جھنگ صدر سے ہے، اور اب دلِ پاکستان لاہور کو اپنا مسکن بنا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف وہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، وہیں دوسری جانب ان کا دل ادب کے دریچوں سے جھانکنے، دکھوں کو لفظوں میں ڈھالنے اور احساس کو صفحۂ قرطاس پر بکھیرنے میں مصروف رہتا ہے۔

    ان کی بیشتر تخلیقات انہی مظلوم فضاؤں کی بازگشت لیے ہوئے ہوتی ہیں، جہاں اذیتیں روزِ اول سے آباد ہیں، اور بچپن صرف تصویروں میں مسکراتا ہے۔ وہ لکھتے نہیں، گویا دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ سوال بھی، دعا بھی ہے اور ایک دائمی احتجاج بھی۔

    اب تک ان کے قلم کی خوشبو کئی انتھولوجیز، ادبی جرائد اور اخبارات کی فضا کو معطر کر چکی ہے، اور ان شاءاللہ، جلد ہی ان کی تحریریں کتابی صورت میں قارئین کے دل و ذہن کو چھو لینے کے لیے منظرِ عام پر آئیں گی۔

    محمد ہشام علی ہاشمی ایک ایسا نام جو لفظوں میں درد کو بساتا ہے، اور جذبات کو اس طرح مجسم کرتا ہے کہ پڑھنے والا صرف پڑھتا نہیں، محسوس کرتا ہے، خاموش ہو جاتا ہے، اور شاید دیر تک سوچتا رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *