اپنی نجات، دوسروں کی راحت: زندگی کے دو انجام

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

اپنی نجات، دوسروں کی راحت: زندگی کے دو انجام

کبھی کسی جنازے میں وہ خاموش سکون محسوس کیا ہے؟ وہ لمحہ جب نعش کندھوں پر ہوتی ہے مگر حاضرین چھپے ہوئے اطمینان سے سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ منظر اس تلخ حقیقت کا آئینہ ہے جسے ان سادہ مگر گہرے الفاظ میں سمو دیا گیا ہے: “ایسی زندگی بسر کریں کہ جب مر جائیں تو نجات پا جائیں، لیکن ایسی زندگی بالکل بسر مت کریں کہ جب آپ مر جائیں تو دیگر لوگ نجات پائیں۔” یہ محض جملہ نہیں، بلکہ حیات و ممات کے درمیان کھڑے انسان کے لیے ایک صریح انتباہ ہے۔

پہلی شاہراہ: وہ راستہ جہاں موت خود نجات بن جائے، اس زندگی کا مرکز و منزل “نجات” ہے۔ وہ نجات جو دنیاوی قید سے آزادی ہو، خواہشات کے جال سے چھٹکارا ہو اور آخرت میں ابدی راحت کا وعدہ ہو۔ یہ کوئی اتفاقی مقام نہیں، بلکہ روزمرہ کے چناؤ کا ثمر ہے:

اخلاص کی بنیاد پر کھڑی یہ عمارت ہر عمل کو خالصتاً رب کی رضا کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ نماز ہو یا تجارت، تعلیم ہو یا خدمت، ہر قدم میں ریاکاری کی خاک اڑ جاتی ہے۔ یہاں انسان دکھاوے کے بتوں کو پاش پاش کر کے اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔

اخلاق کی چٹان پر استوار یہ روش درگزر کے پھول کھلاتی ہے۔ سچائی، امانت، حلم اور انصاف اس کا زیور بنتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کی حدیث یاد رکھیے: “تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔” یہی اخلاق انسان کو حیوانیت کی دلدل سے نکال کر ملائک کے مقام تک پہنچاتے ہیں۔

خدمتِ خلق کی راہیں ہر ضرورت مند کو آغوش میں لیتی ہیں۔ یتیم کے سر پر ہاتھ، مسکین کے دستِ سوال کو تھامنا، بیمار کی پلنگ سنبھالنا — یہ سب درحقیقت خالق کے در پر پیشکش بن جاتے ہیں۔ قرآن کی آیت گونجتی ہے: “وہ کھلاتے ہیں محض اللہ کی رضا کے لیے، نہ بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔”

علم کی مشعل ہاتھ میں تھامنے والا ہمیشہ جہالت کے اندھیروں سے جنگ کرتا ہے۔ یہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اپنے رب کو پہچاننے، اپنی نفسانی گرہیں کھولنے اور کائنات کے اسرار سمجھنے کا نام ہے۔

جہادِ اکبر کی صعوبتیں اس راہ کا حتمی امتحان ہیں۔ اپنے اندر کے شیطان سے لڑنا، غصے کو پی جانا، لالچ پر قابو پانا، تکبر کو روندنا — یہ وہ معرکہ ہے جس میں فتح حقیقی نجات کی ضمانت بن جاتی ہے۔

ایسا مسافر جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو اس کی نیکیاں سفارشی بن جاتی ہیں۔ موت اس کے لیے حقیقی آزادی کا پروانہ ثابت ہوتی ہے

دوسری گھاٹی: وہ منزل جہاں موت دوسروں کے لیے رحمت بن جائے، یہ تاریک وادی انسان کو ایسا “بوجھ” بنا دیتی ہے کہ اس کی موت پر پورا معاشرہ ہلکا ہو جاتا ہے:

ظلم کی چکی میں پسے ہوئے یہ لوگ طاقت کے نشے میں دوسروں کو روندتے ہیں۔ گھر میں خواتین پر ہاتھ اٹھانا، دفتر میں ماتحتوں کو ذلیل کرنا، معاشرے میں کمزوروں کا استحصال — ان کی موت مظلوموں کے لیے نجات کا اعلان ہوتی ہے۔

زہر اگلتے رویے ہر محفل کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ گالیوں کی بوچھاڑ، طعنوں کی بارش، جھوٹ کی کھیتی، فتنوں کی آبیاری۔ ایسے افراد کی غیر موجودگی لوگوں کو زہریلے ماحول سے چھٹکارا دیتی ہے۔

خود غرضی کی دیواریں انسان کو محض اپنی ذات میں قید کر دیتی ہیں۔ دوسروں کے دکھ پر بے حسی، مصیبت زدہ کے لیے بے یار مددگار، ہمدردی کے تمام دروازے بند۔ ان کی موت معاشرے کو ایک مردہ بوجھ سے نجات دیتی ہے۔

ناانصافی کے پہاڑ نظامِ زندگی کو ڈھاتے ہیں۔ رشوت کا کاروبار، سفارش کا جال، اقربا پروری کی زنجیریں، ان کے انتقال کے بعد انصاف کے متلاشیوں کی آنکھوں میں امید جاگتی ہے۔

جبر کی آندھیاں دوسروں کی آزادی چھین لیتی ہیں۔ ہر معاملے میں مداخلت، اپنی رائے کو مسلط کرنا، دوسروں کے فیصلوں پر قدغن۔ ایسے شخص کے جانے کے بعد گھٹن کا ماحول ختم ہوتا ہے۔

ایسے لوگوں کی موت پر چھپی ہوئی آہیں، آنکھوں میں چمکتی راحت اور دل میں اٹھنے والا سکون درحقیقت ان کی زندگی کے خلاف خاموش فیصلہ ہوتا ہے۔

یہ دو انتہائیں ہمیں بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف پہلی شاہراہ پر ہے۔ مگر انسان کمزور ہے، خطائیں ہوتی ہیں۔ فرق صرف نیت اور مسلسل کوشش میں ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: “مومن کی نیکی پر حیران نہ ہو، کیونکہ وہ اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے۔” ہر غلطی کے بعد توبہ کی راہ، ہر کوتاہی کے بعد اصلاح کا عزم ہی درحقیقت نجات کا راستہ ہموار کرتا ہے۔

جدید دور میں جہاں “میں” اور “میرا” سب پر حاوی ہو رہا ہے، یہ فلسفہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دکھاوے، مادیت کی پرستش، دوسروں کی کامیابی پر کڑھن — یہ سب ہمیں دوسری گھاٹی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں:
کیا میری موجودگی میرے گھر والوں کے لیے سکون کا باعث ہے؟
کیا میرے ساتھی مجھے قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں یا مجبوری برداشت کرتے ہیں؟
کیا میری زندگی کا کوئی عمل کسی پیاسے کو پانی پلانے کے برابر ہے؟
کیا میں اپنی موت کے بعد لوگوں کے دلوں میں یاد چھوڑوں گا یا صرف ایک خالی جگہ؟

زندگی ایک سفر ہے جس کا اختتام دو ممکنہ منزلوں میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے: یا تو آپ خود نجات پا جاتے ہیں، یا پھر آپ کی موت دوسروں کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ پہلی منزل کے مسافر کی مثال اس درخت کی سی ہے جو پھل دیتا ہے، سایہ دیتا ہے، اور مرنے کے بعد بھی اپنی لکڑی سے کام آتا ہے۔ دوسری منزل کے راہی کی مثال اس کانٹے دار جھاڑی کی مانند ہے جو راستہ روکتی ہے، چھلنی کرتی ہے، اور جڑ سے اکھاڑے جانے پر راہگیر خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں۔

حقیقی کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہماری زندگی دوسروں کے لیے رحمت بنے اور ہماری موت ہمارے اپنے لیے نجات کا ذریعہ۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو ہمیں اپنے رب کے قریب کرتا ہے اور انسانیت کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ آپ کا آج کا انتخاب آپ کے کل کے انجام کو تراش رہا ہے: اپنی نجات کا سامان کریں، دوسروں کے لیے وبال بننے سے بچیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *