کربلا مزاحمت کا استعارہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

کربلا مزاحمت کا استعارہ

واقعہِ کربلا کو صدیاں بیت چکی ہیں، مگر یہ ایسا المناک واقعہ ہے جو مزاحمت کا استعارہ ہے۔ جو ہر ”دور“ میں ظلم و جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے اور ”حق“ پہ ثابت قدم رہنے کی علامت ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضہ اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی بیعت کرنے کو کہا۔
یزید فاسق و فاجر اور بگڑا ہوا بدبخت انسان تھا۔ ہر شر اور ہر برائی اس کے اندر موجود تھی۔
یزید کی حکومت بدی پر قائم ہو چکی تھی۔ جو مکمل طور پہ ”دین“ کے خلاف کھلی ”بغاوت“ تھی۔
تاریخ اسلامی میں ایسا ”فتنہ“ سر اٹھا چکا تھا۔ اگر کوئی کہتا، کہ میں یزید کی ”بیعت“ کے علاوہ قرآن و سنت کی بیعت قبول کرتا ہوں۔ تو اسی وقت اس شخص کا ”سر“ اڑا دیا جاتا تھا۔
یزیدی حکومت نے انسانی ”حقوق“ پامال کرتے ہوئے ظلم و ستم اور جبروں کی بدترین مثال قائم کر دی تھی۔
یہ ایسا نازک معاملہ بن گیا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
جو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی طور گوارا نہ تھا کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی موجود ہوں،اور زمین پر حکومت کا یہ ”نظام“ ہو جب کہ آپ اس وقت موجود ہوں۔
امام حسین نے کربلا کے میدان میں اپنی تہہ دامنی کے باوجود یزید کی بیعت سے محض اس وجہ سے انکار کیا کہ وہ ایک فاسق فاجر شخص تھا۔
وہ اس کام میں ملوکیت کا بیج بو کر دامن اسلام کو تار تار کرنا چاہتا تھا۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے سر و سامانی اور صرف چند جان نثاروں کے ساتھ ایک بڑے طاغوتی قوت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا، تاکہ حق پر بالادستی کو تسلیم کر لینے کا رواج نہ پڑ جائے۔
جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باطل کے خلاف جہاد کے لیے روانہ ہونے لگے، تو مدینہ کے لوگ امام حسینؓ کے سامنے آگئے،اور کہنے لگے کہ آپ وہاں نہ جائیں۔ کوفہ کے لوگ بد عہد اور دھوکے باز ہیں۔ لوگ آپ کو منع کرتے ہوئے رو، رو کر عرض کرنے لگے کہ حضور لوگ تو مدینہ آنے کے لیے تڑپتے ہیں۔آپ ہیں کہ مدینہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
تو اس پہ امام حسینؓ نے فرمایا :
“اے لوگوں! میں جانتا ہوں کہ وہ دھوکے باز ہیں،اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کربلا میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میں یزید کے عزاٸم سے بھی آگاہ ہوں۔ اس کے باوجود میں آگے بڑھ رہا ہوں۔ تاکہ باطل کو مٹا کر دین اور انسانیت کو بچا سکوں”
اور فرمایا:
“(میں اگر آج مدینے سے نہ گیا تو کل امت مدینے کیسے آئے گی؟)”
میں مدینہ چھوڑ کر امت کا مدینے آنے کا راستہ بنا رہا ہوں۔
میں دین حق اور انسانی اقدار کو بچانے جا رہا ہوں۔
کربلا کے میدان 7 محرم تک بات چیت ہوتی رہی۔ یزیدی آپ کو بیعت کے لیے کہتے رہے، مگر امام حسینؓ بیعت کے لیے رضامند نہ ہوئے تو بات چیت ختم کر دی گئی۔
10 محرم کا سورج خونی شعاٸیں بکھیرتا ہوا طلوع ہوا۔
یزیدی پھر سے کہنے لگے:
اے حسین، بیعت کرو یا پھر مقابلہ کےلیے تیار ہو جاٶ۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
(“صبر کرو، ہم تمہارا مقابلہ کریں گے”)
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ
حق کی خاطر امام حسین نے کربلا کے میدان میں اپنی جان دے کر، خود کو لہو لہان کر کے راہ ”عزیمت“ پر قدم رکھا اور باطل کو مٹا کر اسلام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
خانوادہ نبوت ﷺ کا کربلا کے میدان میں یہ مزاحمتی ”جہاد“حقیقت میں اسلام کی سربلندی اور حقوق “انسانی“کی بقا کے لیے تھا۔
ورنہ انسانی حقوق ہمیشہ کے لیے فنا ہو جاتے۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون نے ایک چمن آباد کر دیا۔ ایسا چمن جس میں خون سے اسلام کے چمن کی آبیاری ہوئی۔
امام عالی مقام، نے اپنے احباب و اقرباء کی راہ حق میں قربانی دے کر، ہم بنی نو انسان پر احسان کیا اور انسانوں کو زندہ رہنے کا وسیع درس دیا۔
جو آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع سے لے کر آخر تک حق و صداقت، صبر و شکر اور رب کی رضا پہ راضی رہنے کا عظیم درس دیا۔ ایسا درس جس نے انسانیت کو صبرِ کمال کی حقیقت سے روشناس کرا دیا۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا میں ”باطل“ کے خلاف ”مزاحمت“ کر کے دین کو زندگی دی اور انسانیت کو حوصلہ دیا۔
جب کوئی ظلم و جبر کے خلاف جرات سے میدان میں مزاحمت کرتے ہوئے قدم رکھتا ہے توامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیروکار کہلاتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مزاحمت کرنے کا تصور نکھرتا جا رہا ہے، غلامی کی زنجیریں ٹوٹتی جا رہی ہیں اور
میدان کربلا میں باطل کے خلاف مزاحمت کا یہ عظیم واقعہ اسلامی تاریخ کے دورِ خلافت کے بعد،اسلام کی دینی سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوا ہے۔
کربلا کا یہ پیغام ہر اس فرد کے لیے ہے جو ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر آواز اٹھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھاٸی جاتی ہے، تو کربلا اور امام حسینؓ کی مثال دی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *