⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
تعلیم سےخوف زدہ اشرافیہ
پاکستان کا تعلیمی نظام آج صرف ڈھانچے کی حد تک
باقی رہ گیا ہے، جبکہ اس کی روح کب کی فنا ہو چکی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے مختلف قوتوں نے شعوری طور پر تعلیم کو کمزور رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ ایک طرف زبان، فرقے، قومیت اور قبیلے کی بنیاد پر تعلیم کو تقسیم کر کے اسے غیر مؤثر بنایا گیا، تو دوسری جانب حکمران طبقہ خود شعور سے خائف رہا۔ چونکہ تعلیم شعور پیدا کرتی ہے، اس لیے شعور یافتہ عوام ان سے سوال کر سکتے ہیں، اور یہ ان کے مفادات کے خلاف ہے۔اسی بات سے مجھے ایک کہانی یاد اتی ہے جس میں ایک علاقے کا سردار اپنے شہر میں سکول کھولنے پر ناراض ہو جاتا ہے، محض اس لیے کہ اس کے سیاسی دشمن نے فنڈنگ کی تھی۔
اس پر جب تعلیمی ادارے کے سربراہ نے یہ تجویز دی کہ آپ بھی اپنے سیاسی حریف کے علاقے میں ایک سکول کھلوا دیںتو وہ خوشی خوشی مان گیا۔ مگر چند روز بعد دونوں شہروں کے نمائندے (سردار ) اکٹھے آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے صلح کر لی ہے، لہٰذا اب دونوں علاقوں میں کوئی اسکول نہ بنایا جائے۔ یہ کہانی ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے پاکستان میں سرداری، وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ ذہنیت تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ کوئی تخیل یا ڈرامہ نہیں یہ ہمارے معاشرے کی کھلی سچائی ہے۔ ایک علاقے کا سردار اس لیے سکول کھولنے پر برہم ہو جاتا ہے کیونکہ فنڈنگ اس کے سیاسی حریف نے کی ہے۔ تعلیم دشمنی یہاں اتنی گہری ہے کہ وہ یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کے علاقے کے بچے شعور حاصل کریں، سوال کرنا سیکھیں، اور اپنے حقوق مانگیں۔ جب ادارے کے سربراہ نے اسے مشورہ دیا کہ خود بھی اسکول کھول لے، تو وہ مان گیا لیکن صرف اس لیے کہ وہ دوسرے کے خلاف چال چل سکے۔ مگر چند دن بعد، دونوں سردار ہاتھ ملا کر آتے ہیں اور کہتے ہیں اب دونوں علاقے میں سکول نہ کھولا جائے، ہم میں صلح ہو گئی ہے۔
یہ “صلح” دراصل شعور دشمنی کا اتحاد ہے۔ یہ کہانی نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے تعلیمی المیے کا نچوڑ ہے۔ سردار، وڈیرے، اور جاگیردار نہیں چاہتے کہ عوام پڑھے، کیونکہ پڑھا لکھا انسان سوال کرتا ہے، غلام نہیں بنتا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر سکول کھل گئے، تو ان کے تسلط کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی لیے وہ تعلیم کو روکتے ہیں، نصاب کو فرسودہ رکھتے ہیں، اسکولوں کو تباہ کرتے ہیں، اور استادوں کو کمزور بناتے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو اسمبلی میں بیٹھ کر تعلیمی بجٹ کاٹتے ہیں، مگر اپنے بچوں کو باہر کے سکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سرکاری سکول کی عمارت پر بیٹھ کر جان بوجھ کر گاؤں والوں کو جاہل رکھتے ہیں تاکہ کوئی ان سے یہ نہ پوچھے کہ تم دہائیوں سے اقتدار میں ہو، مگر ہسپتال کیوں نہیں؟ سڑک کیوں نہیں؟ پینے کا پانی کیوں نہیں؟اصل دشمن غربت نہیں، اصل دشمن یہ نظام اور وہ طبقہ ہے جو تعلیم سے ڈرتا ہے۔آج سرکاری اسکولوں کی حالت ابتر ہے، نصاب فرسودہ ہے، اور دیہی علاقوں میں شعور پیدا کرنے کی ہر کوشش کو سبوتاژ کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بچوں کو مختلف معیار کی تعلیم دی جا رہی ہے، جس سے ایک نابرابری پر مبنی معاشرہ پروان چڑھ رہا ہے۔ جب تک تعلیم کو سیاست سے، تعصب سے، اور ذاتی مفاد سے آزاد نہیں کیا جاتا، پاکستان ترقی کی شاہراہ پر قدم نہیں رکھ سکتا۔
پاکستان میں تعلیمی نظام محض ایک خالی خول بن چکا ہے۔ اس بحران کی بنیاد صرف غربت یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو شعور سے خائف ہے۔ تعلیم سے ڈرنے والا حکمران طبقہ نہ صرف تعلیمی پالیسیوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے، بلکہ اس کے نفاذ میں بھی روڑے اٹکاتا ہے۔پاکستان میں اس وقت تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار اسکول (سرکاری و نجی) موجود ہیں۔اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں UNICEF کے مطابق جو کہ دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے دیہی علاقوں میں اسکولوں کی 70 فیصد عمارتیں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جیسے بیت الخلا، صاف پانی، اور بجلی۔سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کا تناسب بعض علاقوں میں 30٪ سے زیادہ پایا گیا ہے۔ پاکستان کا GDP کا صرف 1.7% تعلیم پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ UNESCO کی تجویز کردہ حد کم از کم 4-6% ہے۔یہیں ہم پاکستانی تعلیمی نظام کو اگر مختلف دنیا کے ممالک سے موازنہ کریں تو برطانیہ میں تعلیم پر خرچ GDP کا 5.2٪ ہے، جبکہ اسکول چھوڑنے والے بچوں کا تناسب 1٪ سے بھی کم ہے۔فن لینڈ، جو دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، وہاں بچے بغیر ہوم ورک اور بغیر سخت امتحانات کے بھی تحقیق اور سوچ میں آگے ہیں۔ مغرب میں نصاب کریٹیکل تھنکنگ، سائنسی سوالات اور اخلاقی تربیت پر مشتمل ہے، جبکہ پاکستان میں نصاب آج بھی رٹہ سسٹم، مذہبی و قومی جذبات اور غیر سائنسی مواد پر مشتمل ہے۔ دنیا کی Top 100 یونیورسٹیز میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں۔پاکستان تعلیم کے میدان میں صرف پیچھے نہیں بلکہ پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سیاسی نیت کی خرابی ہے۔ سرداری نظام، فرقہ واریت، لسانی تعصب، اور استحصالی ذہنیت تعلیم کو اپنی دشمن سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے بچے آج صرف قلم سے نہیں، شعور سے محروم کیے جا رہے ہیں۔جب تک تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا، جب تک اسے سیاست سے پاک اور مساوی رسائی پر مبنی نہیں کیا جاتا، پاکستان نہ دنیا کے ساتھ کھڑا ہو سکے گا، نہ اپنی قوم کو بااختیار بنا سکے گا۔
