⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
تنہائی کی آواز
تنہائی محض ایک خالی کمرہ نہیں ہوتی، یہ ایک اندر کی گونج ہوتی ہے، جو صرف دل سنتا ہے۔
یہ وہ کیفیت ہے جو انسان کو بھیڑ میں بھی اکیلا کر دیتی ہے۔ایسی کیفیت جہاں لفظ نہیں، صرف خاموشی بولتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب سب رشتے ایک طرف ہو جاتے ہیں، اور انسان خود سے سوال کرتا ہے:
“کیا میں واقعی اتنا خالی ہوں؟”تنہائی دل کو توڑتی نہیں، بلکہ آئینہ دکھاتی ہےان لمحوں میں ہم اپنی خامیوں، خواہشوں اور فیصلوں سے دوبارہ روبرو ہوتے ہیں۔اکثر وہی لمحے ہمیں مکمل کرتے ہیں جنہیں ہم سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں ،تنہائی کے لمحے۔
“أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
“خبردار! دلوں کا سکون تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔”
(سورۃ الرعد، آیت 28)
تنہائی میں انسان اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا چاہتا ہے، حالانکہ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان صرف خود سے، اور اپنے خدا سے بات کرتا ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ تنہائی انسان کو سنبھلنے، خود کو پہچاننے، اور ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔
“وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ”
“اور تمھاری اپنی جانوں میں بھی (ہماری نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟”
(سورۃ الذاریات، آیت 21)اسی تنہائی میں خدا کے جلوے نظر آتے ہیں ۔کبھی تنہا شام میں، تھکے ہوئے ستاروں کی مدھم روشنی میں،
زمین کے کسی گوشے میں بیٹھ کر جب انسان خود کو اپنے رب کے سپرد کرتا ہے،تو وہ اپنی ذات کی گہرائی میں اترنے لگتا ہے۔
“وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ”
“اور ہم (اللہ) انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔”
(سورۃ ق، آیت 16)
تنہائی ہمیں دوسروں کے رویوں پر غور کرنے کا وقت دیتی ہے،ان کے لہجوں کی گہرائی کو سمجھنے، اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت عطا کرتی ہے۔یہ خدا سے قربت کا ذریعہ بنتی ہےتہجد کے وقت، جب لب خاموش، دل بے چین، اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔تو انسان اپنے رب کے سامنے بے بس ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔شاید یہی تنہائی اس کی آخرت کو سنوارنے کا ذریعہ بن جائے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“سب سے افضل نماز، فرض نمازوں کے بعد، رات کے وقت (تہجد) کی نماز ہے۔”
(صحیح مسلم)شاعری کی جھلک
تنہا شام ہو تہجد کا وقت ہو
صرف میں ہوں اور میرا رب ہو
سجدے میں سر ہو لب پہ دعا ہو
میرے رب کا کن ہو اور مجھے عطا ہو
لیکن جہاں تنہائی کے فوائد ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی کم نہیں۔اگر انسان منفی سوچ کو گلے لگا لے،
تو یہی تنہائی موت کا سبب، انتقام کی آگ، اور زندگی کو قبر جیسا عذاب بنا سکتی ہے۔
“وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ”
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں۔”
(سورۃ یوسف، آیت 87)
ضروری نہیں کہ انسان ہمیشہ کسی سے بات کرے، یا کوئی اسے سمجھے۔کبھی کبھی انسان بس اکیلا ہونا چاہتا ہے ، تنہا، خاموش، پر سکون۔کیونکہ تنہائی ذہن کو ہلکا کرتی ہے،سوچ کو نکھارتی ہےاور زندگی کو جینے کا سلیقہ سکھاتی ہےیہ خاموشی رب کا پیغام ہے شاید،کہ وہ کہہ رہا ہے: میرے قریب آ جا۔شاید اسی لیےتنہائی کوئی بوجھ نہیں،بلکہ ایک خاموش معلم ہے،جو بغیر شور کیے سکھا جاتا ہےکہ زندگی میں سب کچھ پا لینا مکمل ہونا نہیں ہوتا۔کبھی کبھی خود سے جُڑ جانا ہی اصل تسکین ہوتا ہے۔
