الیکٹرانک میڈیا انسانوں میں دوری کا باعث

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

الیکٹرانک میڈیا انسانوں میں دوری کا باعث

آج کا انسان جدید برقی ذرائع سے جُڑا ہوا ہے۔ دستی آلہ، عکس بین، شمارندہ اور سماجی ذرائع نے جہاں معلومات تک فوری رسائی کو آسان بنایا، وہیں انسان کو اس کی اصل دنیا، یعنی رشتوں اور تعلقات سے دُور کر دیا۔ ایک زمانہ تھا جب خاندان کے افراد اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرتے، مل کر کھانا کھاتے، اور دل کی بات دل سے کرتے تھے۔ مگر آج ہر چیز اسکرین کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ ہم ایک ساتھ ہو کر بھی الگ الگ ہیں۔ سماجی ذرائع پر لاکھوں پیروکار ہوں، تب بھی دل کی سچی بات سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں ملتا۔ خوشی اور غم اب تحریروں یا کیفیتوں میں بانٹے جاتے ہیں، لیکن خلوص، تسلی اور اپنائیت کہیں کھو گئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے فاصلے تو گھٹائے، مگر دلوں کے درمیان اجنبیت بڑھا دی۔ تنہائی اب صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی بن چکی ہے۔ یہ وہ تمام ذرائع ہیں جو برقی توانائی کے ذریعے معلومات، تفریح اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جیسے عکس بین، دستی آلہ، شمارندہ، بین الاقوامی جال اور سماجی ذرائع۔ یقیناً یہ ذرائع سہولت، آگہی اور تفریح مہیا کرتے ہیں، لیکن یہی سہولتیں ہمیں تنہائی کے خاموش اندھیروں میں دھکیل رہی ہیں۔ ہم گھروں میں ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے کٹے ہوتے ہیں۔ ہر فرد اسکرین میں محو ہے، نہ بات، نہ تعلق، نہ حقیقی رفاقت۔ لاکھوں “دوست” سوشل میڈیا پر، مگر دل کی بات کہنے والا، تسلی دینے والا، اور خالص ہمدرد کوئی نہیں ہوتا۔ دوسروں کی مصنوعی زندگی دیکھ کر خود کو کمتر محسوس کرنا، مایوسی، حسد، اور احساسِ محرومی جنم لیتے ہیں۔ برقی ذرائع کا حد سے زیادہ استعمال نیند متاثر کرتا ہے، دماغ تھکا ہوا رہتا ہے، انسان چڑچڑا، الگ تھلگ، اور خود سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اس سب کے نتائج یہ ہیں کہ خاندانی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے، بچے والدین سے دُور ہوتے جا رہے ہیں، ذہنی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اصل خوشیوں کا فقدان ہے، اور خوش خلقی ناپید ہو رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وقت کی منصوبہ بندی کریں، سونے اور کھانے کے وقت برقی ذرائع بند رکھیں، ہر روز کچھ وقت اسکرین سے ہٹ کر گھر والوں کے ساتھ گزاریں۔ کتابوں سے دوستی کریں، کیونکہ وہ انسان کی بہترین ساتھی ہیں، علم بڑھاتی ہیں اور تنہائی کم کرتی ہیں۔ ہفتے میں ایک دن مکمل طور پر موبائل و سوشل میڈیا سے دُوری اختیار کریں۔ برقی ذرائع ہمارے لیے سہولت ہیں، مگر جب یہ حد سے بڑھ جائیں تو انسان کو اس کی حقیقت سے جدا کر دیتے ہیں۔ ہم مشینوں سے جُڑتے جُڑتے انسانوں سے بچھڑ چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم توازن پیدا کریں، دلوں کے ربط کو بحال کریں، اور اصل زندگی کی طرف لوٹیں۔ ہم آن لائن تو ہر وقت ہوتے ہیں، مگر اپنے رشتوں سے دن بہ دن دُور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری فہرستیں تو بھری ہوئی ہیں، لیکن دل اکثر خالی سا لگتا ہے۔ اشاعت پر پسندیدگیاں تو آتی ہیں، مگر کسی کے لمس، کسی کے وقت کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ سگنل مکمل ہیں، مگر احساس اکثر “رابطہ منقطع” دکھاتا ہے۔ ہم نے رابطے گننے سیکھ لیے، مگر رشتے نبھانا بھول گئے۔ اپنے آلے کی اسکرین سے نظریں ہٹائیں، اور ان آنکھوں میں جھانکیں جو برسوں سے آپ کی توجہ کی منتظر ہیں۔ روزانہ کچھ لمحے اپنوں کے ساتھ گزاریں، کبھی کبھی صرف پیغام نہ دیں، ملاقات کریں۔ یاد رکھیے، آخر میں وہی رشتے بچتے ہیں جنہیں ہم وقت، خلوص اور محبت سے سینچتے ہیں۔ اب انسانوں سے جڑنے کا وقت ہے، نیٹ ورک نہیں، دل کے ربط قائم کرنے کا وقت ہے۔ شاید کسی کی آنکھوں میں وہ کنکشن موجود ہو جو کسی وائی فائی سے نہیں، محبت سے چلتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *