پاک فوج — تیری عظمت کو سلام

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پاک فوج — تیری عظمت کو سلام

ہر قوم کی بقاء اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط فوج کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو آزادی محض ایک خواب اور خودمختاری ایک کمزور سا دعویٰ رہ جاتی ہے۔ خوش بخت ہیں ہم کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی جری اور بہادر افواج میں سے ایک، “پاک فوج” جیسا ادارہ عطا کیا ہے۔ یہ صرف ایک فوج نہیں بلکہ ہماری قومی غیرت، وقار اور بقاء کی علامت ہے۔ آج اگر پاکستان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہ شہداء اور غازی ہیں جنہوں نے اپنے لہو سے اس دھرتی کی آبیاری کی ہے۔
پاک فوج کی تاریخ قربانی، وفاداری اور شجاعت کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ 1948ء میں کشمیر کے محاذ پر پاک فوج نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ 1965ء کی جنگ میں جب دشمن نے رات کی تاریکی میں لاہور پر حملہ کیا تو ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ 1971ء میں بھی پاک فوج نے دشمن کے خلاف بے مثال مزاحمت کی اور اپنے وطن کے دفاع کی خاطر جانیں قربان کیں۔ کارگل کی بلندیوں پر دی جانے والی قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
یہ وہ داستانیں ہیں جنہیں پڑھ کر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ ہر شہید کے خون نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ پاک فوج کا ہر جوان پاکستان کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کو اعزاز سمجھتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاک فوج کے لیے ایک بہت بڑا امتحان تھی۔ دشمن نے پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی سازش کی، مگر ہمارے جوانوں نے آپریشن “راہِ نجات”، “ضربِ عضب” اور “ردالفساد” کے ذریعے دہشت گردوں کو شکست دی۔ ہزاروں افسران اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کو امن کا گہوارہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ قربانیاں دنیا کے لیے مثال ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرتی ۔
پاک فوج صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عوام کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں یا سیلاب کی ہولناکیاں، قوم نے ہمیشہ اپنے فوجی بھائیوں کو مشکل وقت میں سب سے پہلے پہنچتے دیکھا ہے۔ جب کبھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو یہی جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج محض دفاعی ادارہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ایک مثالی کردار بھی ہے۔
آج کی دنیا میں طاقتور وہی ملک ہے جس کا دفاعی نظام مضبوط ہو۔ پاک فوج نے محدود وسائل کے باوجود جدید دفاعی ہتھیار اور ٹیکنالوجی تیار کی۔ ایٹمی پروگرام سے لے کر میزائل ٹیکنالوجی تک، دفاعی میدان میں پاکستان نے خود کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت ثابت کیا ہے۔ یہ سب ممکن نہ ہوتا اگر پاک فوج اور سائنس دان مل کر دن رات محنت نہ کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں ہے۔
ہماری سرحدوں پر ایسے جوان تعینات ہیں جو برف کی سختی اور ریگستان کی تپش میں بھی اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں۔ وہ نیند، آرام اور سکون کو بھلا کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ وطن محفوظ رہے، قوم چین کی نیند سوئے اور سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رہے۔ ان کے عزم کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اصل ہیرو وہی ہیں جو دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں۔
فوج اور قوم کا رشتہ ماں اور بیٹے کی مانند ہے۔ فوج اس قوم کے بیٹوں پر مشتمل ہے جنہیں عوام پیدا کرتی ہے اور جو اپنی جانیں وطن پر قربان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہید کا جنازہ جب اٹھتا ہے تو پورا گاؤں، قصبہ یا شہر اس پر فخر کرتا ہے۔ “شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے” کا عملی مظاہرہ صرف پاکستان میں نظر آتا ہے۔
ہمیں اپنی پاک فوج پر ناز ہے اور ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں، اس کا حوصلہ بڑھائیں اور اسے عزت و توقیر دیں۔
پاک فوج ایک ادارہ نہیں، یہ ایک جذبہ ہے۔ یہ ایک ایسی دیوار ہے جو دشمن کے سامنے سینہ سپر رہتی ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو پاکستان کو زندہ، تابندہ اور محفوظ رکھتی ہے۔ ہم سب کے دل سے یہی دعا نکلتی ہے:
پاک فوج! تیری عظمت کو سلام — تو زندہ رہے، تو سلامت رہے، تیرا وقار ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *