الفاظ کی طاقت سوچ کی تبدیلی

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

الفاظ کی طاقت سوچ کی تبدیلی

انسانی معاشرے کی تعمیر میں جتنی اہمیت سوچ کی ہے، اتنی ہی اہمیت الفاظ کی بھی ہے۔ یہ میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے روشنی اور چراغ۔ اگر سوچ چراغ ہے تو الفاظ اس کی روشنی ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں الفاظ کے اثر کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی الفاظ انسان کی شخصیت کو بامِ عروج پر بھی لے جا سکتے ہیں اور پاتال کی گہرائیوں میں بھی گرا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ زبان میں ہڈی نہیں ہوتی، مگر یہ انسان کی ہڈی پسلیاں تک توڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایک شفیق جملہ کسی کو زندگی بھر کے زخم بھلا سکتا ہے اور ایک سخت یا تلخ لفظ کسی کو عمر بھر کا روگ دے سکتا ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، بدگمانی اور ذہنی انتشار کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے الفاظ کے استعمال کی نزاکت کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔
بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ زبان پر قابو پانا دل کو قابو میں رکھنے کے مترادف ہے۔ جب زبان سے الفاظ نکلتے ہیں تو وہ تیر کی طرح ہوتے ہیں، جو نشانے پر لگیں یا نہ لگیں لیکن واپس نہیں آ سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان سوچے سمجھے بغیر کچھ نہ بولے۔ اکثر اوقات غصے کی حالت میں ادا ہونے والے چند جملے ہمارے خوبصورت رشتوں کو بے رنگ کر دیتے ہیں۔ سوچ کی تبدیلی کے بغیر لفظوں کی طاقت بے اثر ہے۔ اگر سوچ منفی ہو تو مثبت لفظ بھی اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ ایک منفی ذہن کبھی دوسروں کو امید نہیں دے سکتا۔ اس لیے تبدیلی ہمیشہ سوچ سے شروع ہوتی ہے۔ ایک اچھی سوچ اچھی بات کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح اچھی بات اچھے عمل کو٬ جب عمل اچھے ہوں گے تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہو گی کہ آج کے دور میں میڈیا، سوشل میڈیا اور موبائل فون کے بے تحاشا استعمال نے لفظوں کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ اب ایک فرد کے الفاظ صرف چار دیواری تک محدود نہیں رہتے بلکہ سیکنڈز میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب اگر آپ کی سوچ زہریلی ہے تو آپ کے الفاظ معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیں گے۔ اس لیے اس نئے دور میں الفاظ کی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور اس کے اثرات بھی کئی گنا زیادہ شدید ہیں۔
سوچ کو مثبت رکھنے کے لیے خود احتسابی ضروری ہے۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے تو اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے، اپنی کمزوریوں کو قبول کرتا ہے، تب ہی اس کی سوچ میں تبدیلی آتی ہے۔ اچھی سوچ سے ہی زبان کی شیرینی پیدا ہوتی ہے۔ اگر سوچ میں حسد، بغض، تعصب یا نفرت ہے تو زبان سے کڑواہٹ ہی نکلے گی۔
الفاظ کو سنوارنے کا سب سے بڑا ذریعہ مطالعہ ہے۔ اچھی کتابیں پڑھنے سے سوچ کے دریچے کھلتے ہیں، انسان کو اپنی جہالت کا اندازہ ہوتا ہے، وہ نئے خیالات سے آشنا ہوتا ہے اور اس کی زبان میں نکھار آتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔
اسی طرح صحبت کا اثر بھی زبان اور سوچ دونوں پر ہوتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کی سوچ کو جِلا بخشتی ہے، اس کے الفاظ میں وزن پیدا کرتی ہے۔ جب آپ اہلِ علم کی محفلوں میں بیٹھتے ہیں تو اندازِ گفتگو، بولنے کا سلیقہ اور الفاظ کا انتخاب خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔
کسی دانا نے کہا تھا کہ انسان کو اس کے الفاظ اور دوست پہچان لیتے ہیں۔ آپ کیا بولتے ہیں، کس لہجے میں بولتے ہیں اور کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، یہی آپ کی اصل شخصیت ہے۔ اس لیے اگر آپ اپنی شناخت کو مثبت بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی سوچ کو صاف کیجیے اور پھر اپنے الفاظ کو نکھا ریے۔
معاشرتی سطح پر بھی ہمیں لفظوں کی طاقت کو سمجھ کر ان کا استعمال کرنا ہو گا۔ اساتذہ کے الفاظ شاگردوں کو خواب دیکھنے کی ہمت دیتے ہیں۔ والدین کے الفاظ بچوں کی خوداعتمادی کی بنیاد بنتے ہیں۔ حکمرانوں کے الفاظ قوم کی سمت طے کرتے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں کے الفاظ لاکھوں دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے جس کے پاس جو بھی ذمہ داری ہے، وہ بولنے سے پہلے سوچے کہ اس کے الفاظ کس دل کو جوڑیں گے اور کس دل کو توڑ دیں گے۔
آخر میں اتنا ہی کہوں گی کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ محبت، برداشت اور امن کا گہوارہ بنے تو ہمیں اپنی سوچ کو مثبت اور الفاظ کو نرم و شیریں بنانا ہو گا کیونکہ سوچ کی تبدیلی ہی لفظوں کی طاقت کو روشنی میں بدلتی ہے، جو اندھیروں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *