قیامِ پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی ایک عظیم داستان ہے، جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین نے بھی بے مثال قربانیاں دیں۔ اگرچہ تاریخ کی کتابوں میں خواتین کا کردار اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی تحریک میں خواتین کی خدمات نہایت اہم اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان بہادر خواتین نے نہ صرف سیاسی اور سماجی میدان میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا بلکہ عملی جدوجہد اور مالی معاونت کے ذریعے بھی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اُس دور میں جب عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا، تب مسلم خواتین نے اپنی روایتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تحریکِ پاکستان میں بھی غیر معمولی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ یہ خواتین اپنے خاندانوں کی تربیت، مردوں کی حوصلہ افزائی اور نسلِ نو میں آزادی کا شعور بیدار کرنے میں پیش پیش رہیں۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ انہوں نے نہ صرف مسلم لیگ خواتین ونگ کو منظم کیا بلکہ خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی تلقین کی۔ بیگم رعنا نے مسلم خواتین کو جلسے جلوسوں میں شرکت کی ترغیب دی اور انہیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ہمت دی۔ انہوں نے خواتین کو ووٹ کی اہمیت اور اپنے حقوق کے شعور سے بھی روشناس کرایا۔
اسی طرح بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم شمس النساء جیسی باہمت خواتین نے مسلم لیگ کے جلسوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ عورتوں کو گھروں سے نکال کر عوامی اجتماعات میں لے آئیں، جو اُس دور میں ایک انقلابی قدم تھا۔ ان خواتین نے مسلم خواتین میں بیداری کی لہر پیدا کی اور انہیں سیاسی طور پر باشعور بنایا۔
محترمہ فاطمہ جناح کو مادرِ ملت کہا جاتا ہے اور بجا طور پر وہ اس لقب کی حقدار ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ ہونے کے ناتے انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ بطور ایک سیاسی رہنما، خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھریں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران خواتین کو منظم کیا، مسلم لیگ کی خواتین کمیٹیوں کو فعال بنایا اور نوجوان لڑکیوں میں حب الوطنی کا جذبہ پروان چڑھایا۔ انہوں نے نہ صرف خواتین کی سیاسی تربیت کی بلکہ مہاجرین کی مدد کے لیے فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔
قیامِ پاکستان کی تحریک میں عام مسلم خواتین نے بھی اپنی بساط کے مطابق خدمات انجام دیں۔ کئی خواتین نے اپنی زیورات اور نقدی مسلم لیگ فنڈ میں جمع کروائی تاکہ تحریک کو مالی استحکام مل سکے۔ بہت سی خواتین نے اپنے مردوں کو ہمت دلائی کہ وہ آزادی کی اس جدوجہد میں پیش پیش رہیں۔ دیہاتوں کی عورتیں ہوں یا شہروں کی، سب نے کسی نہ کسی طرح اس مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔
تحریکِ پاکستان کے دوران خواتین نے قلم کے ذریعے بھی اپنا کردار نبھایا۔ کئی خواتین مصنفین اور شاعراؤں نے مضامین، نظمیں اور تقاریر کے ذریعے عوام میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔ اُن کے خیالات اور تحریروں نے مردوں کو بھی تحریک دی کہ وہ انگریز سامراج اور ہندو اکثریت کے ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں۔
اس کے علاوہ مہاجر خواتین کی قربانیاں بھی ناقابلِ بیان ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کے کٹھن سفر میں بے شمار خواتین نے جانوں کے نذرانے پیش کیے، اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر سرحدیں عبور کیں، اور نئے وطن کی تعمیر میں حصہ لیا۔ ان مہاجر خواتین نے کیمپوں میں بھی بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا، لیکن اپنے حوصلے اور عزم کو کمزور نہ ہونے دیا۔
اگر ہم آج کے دور کی خواتین کو دیکھیں تو ان کے لیے ان عظیم مسلم خواتین کی قربانیاں مشعلِ راہ ہیں۔ موجودہ نسل کو چاہیے کہ وہ قیامِ پاکستان میں مسلم خواتین کے کردار کو یاد رکھے اور اسی حوصلے اور جذبے کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ قیامِ پاکستان کی تاریخ مسلم خواتین کی بہادری، عزم اور قربانیوں کے بغیر نامکمل ہے۔ اُن کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے پیغام ہے کہ اگر مقصد نیک اور ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی طاقت کسی قوم کو اُس کے خوابوں کی تعبیر پانے سے روک نہیں سکتی۔

بہترین اور شاندار
بہت بہت شکریہ