اخلاقیات کا زوال اور ہماری خاموشی

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

اخلاقیات کا زوال اور ہماری خاموشی


اخلاقیات کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ اقدار، اصول اور ضوابط ہیں جو انسان کو صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتے ہیں، اس کی شخصیت کو سنوارتے ہیں اور ایک خوش گوار معاشرے کے قیام میں معاون ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اُسے ”اخلاقیات کا زوال“ کہنا کسی مبالغے سے کم نہیں ہے۔
معاشرے کے ہر طبقے میں اخلاقی زوال کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ سیاست ہو یا تجارت، تعلیم ہو یا میڈیا، حتیٰ کہ عام گھریلو زندگی بھی اس زوال سے محفوظ نہیں رہی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، حسد، بددیانتی، بدتمیزی اور بدعنوانی اب معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم سب اس زوال کے گواہ بھی ہیں اور اس پر خاموش بھی٬ مگر کیوں؟
ہمارا معاشرہ رفتہ رفتہ مادہ پرستی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ انسان کی قدریں اب اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کی جیب کی موٹائی اور اثرورسوخ سے جانی جاتی ہیں۔ صداقت، امانت، ایثار، رحم دلی اور خلوص جیسے اوصاف اب پرانے زمانے کی کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ ہم نے تعلیم تو حاصل کر کی ہے لیکن تربیت کا دامن چھوڑ دیا ہے۔
اس زوال کی بڑی وجہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ ہم برائی دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، غلط بات پر احتجاج کرنے کے بجائے صرف تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشوت لینا جرم ہے لیکن کسی کام کو نکلوانے کے لیے ”چائے پانی“ کی رقم دینا برا نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہے لیکن اپنے فائدے کے لیے اسے ”چالاکی“ کا نام دے کر قابل قبول بنا لیتے ہیں۔
ہماری خاموشی ہی اس اخلاقی زوال کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔ جب برائی کرنے والے کو روکنے والا کوئی نہ ہو، تو وہ نڈر ہو کر مزید برائیاں کرتا ہے۔ خاموشی برائی کو پنپنے کا موقع دیتی ہے اور رفتہ رفتہ برائی معاشرے کا حصہ بن جاتی ہے۔
اخلاقیات کا زوال صرف فردِ واحد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات پر نظر ڈالیں، تو ہمیں نظر آئے گا کہ بے حسی عام ہو چکی ہے۔ دوسروں کا دکھ، ان کی مجبوری یا ان کا نقصان ہمیں متاثر نہیں کرتا۔ ہمیں صرف اپنے مفاد کی فکر ہے۔ یہی رویہ ہمیں سنگ دل بناتا جا رہا ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ نئی نسل اسی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ جھوٹ بول کر، چالاکی سے یا سفارش کے ذریعے لوگ ترقی حاصل کر رہے ہیں، تو وہ بھی اسی راہ پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم انہیں نیکی کا درس دیتے ہیں لیکن ہمارے اپنے عمل ان کے لیے تضاد کا باعث بنتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
سب سے پہلا قدم خود احتسابی ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم اس معاشرتی زوال میں کس حد تک شریک ہیں؟ کیا ہم خود دیانت داری، ایمانداری، سچائی اور عدل کے اصولوں پر کاربند ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو ہمیں خود کو اس قابل بنانا ہے۔
دوسرا قدم عملی اقدام ہے۔ برائی کو دیکھ کر خاموشی اختیار نہ کریں۔ اگر ہم اپنے اداروں، دفاتر، اسکولوں اور گھروں میں صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ پیدا کر لیں، تو یہی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔
تیسرا قدم تعلیم و تربیت ہے۔ ہمیں نئی نسل کو صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ کردار سازی کی تعلیم بھی دینی ہوگی۔ والدین، اساتذہ اور علماء کو اس ضمن میں خاص کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں؛ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اخلاقیات کے زوال کا علاج صرف قانون سازی یا سزاؤں سے ممکن نہیں ہے بلکہ یہ بیماری اندر سے ہے اور اس کا علاج بھی اندرونی ہے یعنی ضمیر کی بیداری، خود آگہی اور اخلاقی تربیت ہے۔ ہمیں انفرادی سطح پر بیدار ہونا ہوگا تاکہ اجتماعی سطح پر تبدیلی آ سکے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پھر سے وہی حسن، وہی سچائی اور وہی خلوص و محبت کا گہوارہ بنے، تو ہمیں اپنی خاموشی توڑنی ہوگی کیونکہ اگر ہم اب بھی خاموش رہے، تو آنے والے کل میں ہمارے بچوں کو ایک ایسا معاشرہ ملے گا جہاں انسانیت صرف کتابوں کی زینت ہوگی۔

One thought on “اخلاقیات کا زوال اور ہماری خاموشی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *