ہنگامی زیارت

ہنگامی زیارت

قدم تیزی سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے کیونکہ وقت پر پہنچنا سیدھا راستہ بتانا اور سب کے لیے سچ بولنا بھی زندگی میں کسی نا کسی مقام پر کام آتا ہے ۔صبح کا یہ وقت حقیقت میں زندگی کی روشن چال کی عکاسی کرتا ہے اس سبب سے کہ ہر با شعور آگے کی سوچ رکھتا ہے اسکول والے کو جلدی دفتر والے کو جلدی وغیرہ وغیرہ کو بھی سڑک کی دھول نے قدم اٹھانے والے پیروں سے بندھے بوٹوں کا رنگ بتدیل کر دیا تھا یہ قدم بھی وقت کے ساتھ چل رہے تھے ۔ پتہ نہیں آج ماحول میں زیادہ گھٹن بھی نہیں تھی اور لمحہ افسردگی کا نام بھی نہیں تھا مگر پھر بھی بکا کا بے ترتیب رقص فضا میں کافی محسوس ہو رہا تھا ۔ چلتے ہوٸے آوارہ مزاج بھی ساتھ چل رہے تھے بیگانی سوچ کا مخالف رخ سے دھاوا بھی بکا کا پیغام دے رہا تھا۔ بوٹوں کی پالش بھی کالی سے ستیا ناس والی حالت کچھ ناساز ماحول کی نشاندہی کر رہی تھی ۔ ہاتھ میں جب مستند بستہ ہو تو آپ کا ذہنی رستہ ایک مخصوص چال چلن والا ہوتا ہے۔ اور منتشر خیالات قریب نہیں آتے (پہلے میں یا وقت کی تیزی ) چلتے ہوٸے ہرکسی کو یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ ساتھ چلنے والا مرد کار ہے یا صنف نازک ۔
پھیری کا مال بیچنے والا بھی صبح صبح پھلوں کو ترتیب کے ساتھ رکھنے کے عمل میں مصروف تھا۔ جیسے ہی وکیل نے زیبراکراسنگ پر قدم رکھا تو داٸیں جانب سے تیزی سے آتی کار سےآمنا سامنا ہو گیا پھر کیا ہواکہ وکیل نے بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کر لیں اور کلمہ پڑھ لیا ۔ اور واپسی کے رستے کو ناممکن سجھاوکیل کی بند آنکھیں کھلی تو زیبرا کراسنگ کراس ہو چکی تھی۔ حیرانگی ہوٸی کہ سڑک کے دوسرے کنارے کیسے پہنچی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ہاں البتہ ( اللہ کے نام پہ دے دو بیٹا) والی دھیمی سی آواز آ رہی تھی غور کیا توایک بے ترتیب بال ,بے رنگ چہرہ, کے ساتھ سوالی کی نظریں مجھ پر تھیں اور یہ سوالی فقرہ بھی ۔ تو فوراً وکیل نےپرس ٹٹولا اور بیس روپے کو اسے تمھا دیا سوالی نے جواباً اللہ بھلا کرے کہنے کی بجاٸے کہا( اپنا خیال رکھا کرو) اب تمھارا ماں باپ تو ہے نہیں ۔ چلتے ہوٸے وکیل کی ہلکی سی چیخ بلا ساختہ نکلی اس سوالی کو کیسے معلوم ہے والدین کے بارے میں۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوٸی نہیں تھا وقت کے لحاظ اور حیرانگی سے وکیل کو رونا پڑا۔ آنسو تھے خوف سے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔

سردی میں اپر تھوڑالیکن اندر بدن ڈھاپنے والے کپڑے گھبراہٹ اور ڈر سے گیلے ہو چکے تھے۔ماں باپ کو سڑک کنارے پر بہت مس کیا اور اس کا اظہار ایسے کیا کہ آنکھوں سے نکلے آنسو وہی پہ پھیلا دیے اور لبوں کو آپس میں زور سے ملایا جو بھی رونے کا عمل تھا غاٸب ہو گیا۔
ایسی حالت میں پیدل چلتے ہوٸے بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے اورسر بھی چکرا سا جاتا ہے۔اس سے پہلے گرنے والا عمل ہوتا ۔ فورا سوچ کو بڑا کیا اور سنبھلنے کو ترجیح دی ۔عدالت کی طرف جاتے قدموں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
ننھے منے بچے بھی ہاتھ میں بھاری بستہ لیے سکول کی طرف رواں دواں تھے۔ ایک چھوٹی عمر کی لڑکی چلتے ہوٸے میرے آگے تھوڑا سڑک پر آ گٸی جیسے باڈی گارڈ یا پھر تعنیات فرشتہ ہو۔ وکیل کی سوچ میں یہ بچپناعمل تھا مگر جلدی کے عمل میں سب کچھ بھول جانا ہی اچھا ہوتا ہے۔
اچانک سامنے سے آتی گاڑی بے قابو ہوٸی اور اس بچی کو سامنے سے ہٹ کیا مگر پتہ نہیں وکیل کیسے اور لڑکی کی حالت نہ دیکھنے والی ہو گٸی ماں باپ کو یاد کرنے والے ٹاٸم نے مجھے روک کر اس لڑکی کو آگے جانے دیا ۔جس پر اس سکول کی بچی کو جان کی بازی داو پر لگانی پڑی ۔ زخمی لڑکی بے یارومددگار سڑک پر بے ہوش پڑی ہے ۔سب کچھ دیکھ کر وکیل صاحبہ کے اوسان خطا ہو گٸے۔لڑکی کاحادثہ تھا ۔ ہمارے معاشرے کے مطابق نظارے کے لیے چار گنا ہجوم زیادہ تھا ادھر حالت ایسی کہ رویا بھی نہیں جا رہا تھا۔ایمولینس آگٸی زیادہ زخمی تھی وہ بچی امید کم تھی بچنے کی , ایک طرح سے وہ مر چکی تھی۔ رستہ دو بہن جی والی آواز نے وکیل کو ہوش دلایا ۔ساتھ فٹ پاتھ پر کھڑی تھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔
سب کچھ الٹے عمل کا حصہ تھا کہ اتنے میں آفس بواٸے کا فون آیا مس چوہدری صاحب آٸے ہوٸے ہیں, تاریخ پر پیشی مانگنے پر ریڈر اور جج کی آپس کی گفتگو کے بعد جج نے فیصلہ سنا نے کا فیصلہ کر لیا وہ تو چوہدری صاحب کے رونے پر کل تک کی مہلت دی ہے عدالت نے , اچھا اچھا آ رہی ہوں چاٸے پلا ان کو۔ یہ کیس نہیں لینا چاہیے تھا شاید اس کی وجہ، شور اور وکیل کافاصلہ اتنا تھا جتنا بال کا بال سے, پھر بھی سوچنے کا عمل جاری تھا.ساتھ پیدل سفر بھی ۔بار بار وہ چھوٹی عمر کی لڑکی آنکھوں کے سامنے آجاتی اور خوف بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیتا۔
زلفی چاٸے پلاٸی ان کو .میری بات کراو ان سے , وکیل کی آواز کامخصوص انداز ۔معذرت میں لیٹ ہو جاوں گی , راستے میں حادثہ ہو گیا ہے۔اور دوسری معذرت آپکا کیس نہیں لڑ سکتی آپ کوٸی اور وکیل کر لیں شکریہ۔یہ کہہ کر اپنے موباٸل کو پرس رکھ دیا۔ ان کا کیس بھی میرے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے جب بھی آپ کسی گناہ کرنے والے کے ساتھ کھڑے ہو جاٸیں گے تو تنزلی آپ کی جییب میں جگہ بنا لے گی ۔ٹھیک ہے منشی مجھے ساری کی ساری فیس ابھی واپس چاہیے فیصلہ پہلے کرتے ہیں نا کہ بعد میں۔ فون بند نہ ہونے پر بڑبڑانے والی کارواٸی سنی جا چکی تھی اور یہ اس کا ری ایکشن تھا۔وکیل کو یہ عمل اس وقت معلوم ہوا جب دوسری کال پر فورا موباٸل کو پرس سے نکالا مگر پھر بھی وکیل کو اس حرکت پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہو رہا تھا کہ براٸی سے جان چھوٹی۔
پتہ نہیں وکیل کو اپنے آپ میں اک بو سی محسوس ہونے لگی۔کچھ دیر کے لیے رکنا پڑا کیونکہ چلا نہیں جا رہا تھا بوجھ کم کرنے کے لیے تھوڑا ماحول کو بدلنے کا فیصلہ کیا تاکہ تازگی کا عمل محسوس ہو۔ سڑک پر فٹ پاتھ کے ساتھ ہی جوس کارنر سے گنے کا جوس بنوایا ساتھ فٹ پاتھ پر پڑی میز پر بیٹھ گٸی۔ سامنے سے ایک جوڑا گزرا اس کے پاس دو پہیوں والی سواری تھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔پرانی یادوں میں سابقہ خاوندجو کہ بواٸے فرینڈ بھی تھے یاد آٸے جلدی بازی کے فیصلے غلط ہوتے ہیں اس لیے شادی کے دو مہینے بعد طلاق لے لی تھی ۔خیر شام صبح نہیں, صبح شام بھولا ,بھٸی کیا ہے مطلب صبح کا بھولا شام کو گھر آ جاٸے تو اس کو بھولا نہیں کہتے.اور ساتھ ساتھ پاکیزگی والی ندامت ہو رہی تھی ۔جوس کو سب کے سامنے ایسے پیا جیسے مرد کسی بھی چیز کو بلاوجہ دیکھ کر جیتا ہے۔

جوس پینے کے بعد ماحول میں کچھ تازگی محسوس ہوٸی۔ فٹ پاتھ کے ساتھ سرکاری گرل لگی ہوٸی تھی۔ پیچھے غور کیا تو محبت کی آنکھ کو گلاب کے پھولوں کا گلدستہ نظر آیا ۔دور سے ملاقات کی مگر خوشبو کو اپنی کشش سے اتنا نزدیک بلا لیا ,جنتا فاصلہ سانس لینے میں ہوتا ہے پورا بدن کچھ ہلکا پلکا سا ہو گیا، اور ہوا سا لگنے لگا جیسے ری سمبل کی پالیسی ہوتی ہے۔ پھر اچانک کسی نے سر ہاتھ رکھ کر سوال کیا ،وہ ایک بوڑھی عورت تھی۔

بیٹا خیرات دے دو اللہ کے نام پے اوپر والا تمھاری مشکلیں آسان کرے۔ مگر یہ سارا عمل منہ سے نہیں بلکہ آنکھوں سے تھا وکیل نے فورا اس کا جواب دیا اور عمل کو نظر انداز کیا۔ اتنے میں ایک جذباتی بلی دوسری بلی سے لڑتی ہوٸی بھاگی سڑک درمیان میں حاٸل ہوٸی اور دو سکینڈ میں کہانی ختم پھر آنسو کو نکلنا پڑا پیچھے بھاگنے والی بلی بھی فٹ پاتھ پر سہمے بیٹھی تھی ۔مسلسل ایک ہی سفر سے اکتا گٸی تھی۔
دیکھنا سبز چاہتی تھی ملتا لال تھا۔جوس والے کو اس کا معاوضہ دیا اور پھر عدالت جانے والے مگر انجان سفر پر چل پڑی ۔اب حالت یہ تھی کہ عدالت کی زیادہ قربت میں چلا نہیں جارہا تھا لہذا ایک عدد آٹو والے کو اشارہ کیا اور بقیہ سفر پیروں سے نہیں بلکہ پیسوں سے مکمل کیا عدالت کے گیٹ کے تھوڑی دور پہلے ہی آٹو رکا اس کو کرایہ ادا کر رہی تھی اتنے میں پیچھے سے ایک عدد آواز جو کہ جانی پہچانی تھی کانوں میں دھیمےسے آٸی مگر اس عمل نے بھی پریشان کیا ۔میڈم وہ ہمارا کیس لگوا دیں اب کافی عرصہ ہو گیا ہے آپ کی فیس بھی دے چکے ہیں مگر ہم وہیں کھڑے ہیں ۔ہاں ہاں بس اگلے مہینے نکلواں گی آپ کی پیشی ۔میڈم گاڑی میں اماں حضور بیٹھی ہیں ذرا مل لیں گی تو وہ میری بات کو سچ سمجھیں گی ۔
ٹھیک ہے سامنے گاڑی میں آپ کی اماں کو ملتی ہوں پھر ملاقات ہو گی جلدی آفس پہچنا ہے اور سڑک کے دوسری طرف گاڑی کی طرف چل پڑی , گاڑی کا دروازہ کھولا اور سامنے سے فاٸر ہوا بس پھر کیا گرنا نصیب میں تھا اور۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *