سیانے لوگ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

سیانے لوگ



دور کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا اس کے چار بیٹے تھے ۔ کسان اور اس کے بیٹے انتہائی درجے کے بے پرواہ اور کاہل تھے۔ کسان کے پاس دس ایکڑ زرعی اراضی تھی۔ کسان نہ تو خود محنت کرتا تھا اور نہ ہی اس کے بیٹے ۔ کسان کے گھر میں تنگدستی نے جب ڈیرے ڈالے تو کسان پریشان ہو گیا اس نے اپنے تمام بیٹوں کو بلایا اور کہا اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہم بھوک اور افلاس سے ہلاک ہو جائیں گے لہذا اب ہمیں محنت کرنی ہوگی تاکہ ہمارا اچھا گزر بسر ہو سکے۔ سب نے مل کر باپ سے پوچھا ابا جی ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ باپ نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ہم اپنی زرعی زمین کو قابلِ کاشت بناکر اس سے اپنا روزگار کمائے گیں۔ پھر سب نے مل کر پوچھا ابا جی ہم کیا کاشت کریں گے؟ ابا جان نے کہا ہم گنا اگائیں گے۔ جس پر سب سے بڑا بیٹا بولا، ابا جی پاس ہی تو گاؤں ہے لوگ ہمارے گنے توڑیں گے جس سے ہمیں نقصان ہوگا۔ باقی سب نے بھی فکرمندی میں یہی سوال باپ سے کیا تو کسان نے کہا بچوں پریشان کیوں ہوتے ہو میرے پاس ایک حل ہے۔ سب نے یک لخت پوچھا وہ کیا ابا جی؟ ابا جی نے کہا تم سب ڈنڈے نکالو، پہلے زرا گاؤں والوں سے دو ہاتھ کر لیتے ہیں۔ سب مل کر گاؤں کی جانب چل پڑتے ہیں اور جو بھی راستے میں ملتا ہے اسے خوب پھینٹا لگاتے ہیں، مار کھانے والا جب استفسار کرتا ہے تو اسے آگے سے جواب ملتا ہے، ” اب توڑو گے ہمارے گنے” ۔ مار کھانے والے کے مزید استفسار پر بتایا جاتا کہ وہی گنے جو ابھی ہم نے لگانے ہیں۔
یہاں اس کہانی کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاست میں بھی ایک ایسا ہی ابا پایا جاتا ہے۔ جس نے سوا سال پہلے ہؤا میں ایک پرچہ لہرایا، پہلے اسے خط بولا گیا پھر اسے سائفر کا نام دیتے رہے ۔ اس سائفر کی بنیاد پر پروپیگنڈا مہم چلائی گئی ، سارے ملک کو سولی پر لٹکایا گیا ، کہیں جلسے ہو رہےہیں تو کہیں دھرنے ، کہیں جھڑپیں ہو رہیں ہیں تو کہیں جلاؤ گھیراؤ ، کہیں گالم گلوچ ہو رہی ہے تو کہیں کردار کشی، اس ایک سال میں ملک کی چولیں ہلا دی گئیں ۔ ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر لا کھڑا کیا ۔ معاشی معاملات گھمبیر صورتحال اختیار کر گئے لیکن سیاسی شعبدہ بازوں کو کوئی فرق نہیں پڑا، انہیں صرف اپنے گھناؤنے مقاصد سے غرض تھی ۔ عام لوگ اس سارے دورانیے میں ایسے ہی مار کھا رہی تھی جیسے کسان اور اس کے بیٹوں سے گاؤں والے گنے کی فصل کو خراب کیے بغیر مار کھا رہے تھے۔
اب جب اس شعبدہ باز کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی سزا کا اندیشہ ہوا تو ، جناب فرما رہے ہیں کہ جو کاغذ میں نے لہرایا وہ تو سائفر نہیں تھا۔ جناب کا کہنا ہے کہ سائفر تو گم ہوچکا ہے۔ جس کاغذ سے بات شروع ہوکر ملک میں انارکی اور خانہ جنگی تک شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا ، لوگوں نے سرکاری املاک کو دانستہ طور پر جلایا ، نقصان پہنچایا۔ اسی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مہنگائی چالیس فیصد تک پہنچ گئی ۔ وہ کاغذ ہے ہی نہیں ۔ کیسی بات ہے، یہ ہوتا ہے لیڈر، کیسا الو بنایا ؟

معصوم پاکستانیوں آپ سے گزارش ہے ان سیاسی شعبدہ بازوں سے بچ کر رہیں ، ہم ہی ان کو مضبوط کرنے والے ہیں ۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں کوئی ایک بھی ایسی جماعت نہیں جو عام آدمی کے حق کی نمائندگی کرتی ہو۔ عام آدمی صرف ان جماعتوں کے لیے نمبرز کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ جماعتیں اور ان کے نظریات ہمیں الگ کر رہے ہیں ، نفرت، عدم برداشت ، انفرادیت پسندی اور بدعنوانی کو ہوا دے رہیں ہیں ۔ ہمیں محبت ، برداشت ، باہمی تعاون اور شفافیت کی فضا قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سیاسی پارٹیوں کی بجائے ہمیں اپنے وطن کا وفادار ہونا چاہیے اور اپنی تمام قوتیں بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وقف کرنی چاہیے ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین ۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *