یہ آزادی جھوٹی ہے

یہ آزادی جھوٹی ہے

رات کا پچھلا پہر تھا۔ چھوٹی سی کچی بستی میں مٹی کے چولہے بجھ چکے تھے۔ صرف ایک کمرے سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔ وہ کمرہ مزدور کریم کا تھا، جو دن بھر اینٹوں کے بھٹے پر محنت کرتا تھا۔
کریم کے سامنے ایک خالی ٹاٹ بچھی تھی جس پر تین بچے بھوکے سوئے تھے۔ بیوی پاس بیٹھی تھی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ کریم کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا۔
“ابا، کل روٹی ملے گی نا؟” سب سے چھوٹے بچے نے معصومیت سے پوچھا۔
کریم نے نظریں جھکا لیں۔ دل چاہا کہ چیخ کر کہہ دے: “بیٹے، یہ آزادی جھوٹی ہے، جب تک تم بھوکے ہو!” مگر وہ خاموش رہا۔
اگلی صبح شہر میں جشنِ آزادی کی ریلی تھی۔ سڑکوں پر سبز پرچم لہرا رہے تھے، گاڑیوں پر لاؤڈ اسپیکر بج رہے تھے: “پاکستان زندہ باد! آزادی مبارک!”
کریم بھی بچوں کو دیکھنے کے لیے بستی سے باہر آیا۔ ایک طرف امیروں کے بچے نئی قمیصوں میں نعرے لگا رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں۔ دوسری طرف اس کے اپنے بچے ننگے پاؤں کھڑے تھے، ہاتھ خالی اور آنکھوں میں حسرت۔
بیوی نے آہ بھری:
“یہ آزادی صرف ان کے لیے ہے، ہمارے لیے تو وہی غلامی ہے۔”
ریلی کے پاس کھڑے ایک بڑے سرمایہ دار کی تقریر ہو رہی تھی:
“ہم آزاد ہیں! ہم خوشحال ہیں! یہ دن ہماری قربانیوں کی یاد دلاتا ہے!”
کریم کے کانوں میں یہ الفاظ زہر کی طرح اترے۔ اسے لگا جیسے یہ الفاظ سیدھے اس کے بچوں کی بھوک پر پڑ رہے ہیں۔ وہ بڑبڑایا:
“کون سی خوشحالی؟ کہاں کی آزادی؟ اگر مزدور کا پیٹ خالی ہے، کسان کی فصل جاگیردار لے جاتا ہے، مزدوری کی اجرت قرض چکانے میں جاتی ہے… تو پھر آزادی کہاں ہے؟”
اُسی دن شام کو بستی میں ایک خبر پھیلی ریڑھی لگانے والا جمیل، جو تین دن سے بچوں کو کھانا نہیں دے سکا تھا اور بیس ہزار کا بل ادا کرنے کو کچھ نہ تھا نے ریلوے لائن کے سامنے آ کر خود کو ہمیشہ کے لیے سلا لیا۔ ٹرین گزری اور وہ کچلا گیا۔ لوگ کہنے لگے: “غربت نے مار دیا۔”
کریم نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ترانے، جھنڈے، نعرے سب اس کے کانوں میں شور کر رہے تھے۔ مگر اس کے دل میں ایک ہی صدا تھی:
“یہ آزادی جھوٹی ہے… جب تک جنتا بھوکی ہے۔”
رات کو کریم کا بڑا بیٹا، جو دسویں جماعت میں پڑھتا تھا، باپ کے پاس آیا۔
“ابا، کل اسکول میں آزادی پر تقریر کرنی ہے۔ کیا کہوں؟”
کریم نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا:
“بیٹے، سچ کہہ دینا کہ یہ آزادی جھوٹی ہے، جب تک تمہاری ماں کے آنسو سچے ہیں۔ یہ آزادی جھوٹی ہے، جب تک تمہارا چھوٹا بھائی روٹی کے لیے سوال کرتا ہے۔ یہ آزادی جھوٹی ہے، جب تک مزدور خود کشی کرتا ہے اور جاگیردار جشن مناتا ہے۔” یہ آزادی جھوٹی ہے۔
اگلے دن اسکول کے اسٹیج پر جب سب بچے “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا رہے تھے، کریم کا بیٹا آگے بڑھا۔ اس نے کانپتی آواز میں مائیک پکڑا اور کہا:
“یہ آزادی جھوٹی ہے جب تک جنتا بھوکی ہے۔ جب تک غربت اور خودکشی ہمارے حصے ہیں اور خوشیاں صرف امیروں کے گھر میں ہیں، یہ دن جشن نہیں ماتم ہے۔”
اسٹیج پر سناٹا چھا گیا۔ اساتذہ گھبرا گئے، مہمانوں کے چہرے سرخ ہو گئے۔ مگر نیچے بیٹھے سینکڑوں بچوں کی آنکھوں میں پہلی بار روشنی جھلکی وہ روشنی جو سوال پیدا کرتی ہے۔
کریم دور سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں ایک عجیب سی طاقت جاگ رہی تھی۔
“شاید یہ نسل وہ دن لائے گی جب آزادی جھوٹی نہیں، سچی ہوگی۔”

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

One thought on “یہ آزادی جھوٹی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *