بے رنگ آسمان
دنیا کی تاریخ کا سب سے بھیانک دن وہ تھا، جب سرحدوں کے پار کھینچی لکیریں انسانیت کے گلے کا پھندا بن گئیں۔ طاقت کے نشے میں چور ملکوں نے ایٹمی ہتھیار داغ دیے۔ ایک ہی لمحے میں شہروں کے شہر مٹی کے ڈھیر ہو گئے۔ فضاؤں میں دھواں اور گرد اس قدر پھیل گئی کہ سورج کی روشنی بھی زمین تک پہنچنے سے انکاری ہو گئی۔ چاند اور ستارے تو گویا صدیوں پرانی کہانی کے کردار لگنے لگے۔ آسمان، جو کبھی زندگی کی علامت تھا، اب بے رنگ اور بوجھل دکھائی دیتا تھا۔
زمین پر انسانیت کا وجود نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ چند گنے چنے انسان، جو حادثاتی طور پر بچ نکلے تھے، وہ بھی زندگی اور موت کے درمیان لٹک رہے تھے۔ انہی میں دو بہن بھائی، ارسلان اور اس کی چھوٹی بہن حوّا بھی شامل تھے۔
ارسلان جب آنکھ کھولتا تو ہر سمت اجڑا ہوا منظر اس کا استقبال کرتا۔ وہ سوچتا تھا کہ شاید خواب دیکھ رہا ہے، لیکن ہر بار دھوئیں کی گھٹن اور بہن کی نحیف آواز حقیقت کا یقین دلا دیتی۔ کبھی وہ بہن کو دیکھتا جو ایک مٹھی بھر اناج کے دانے کو بھی یوں چباتی جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو، تو کبھی وہ آسمان کو تکتا، جہاں کوئی رنگ نہ تھا، کوئی امید نہ تھی۔
حوّا اکثر اپنی ماں کی بات دہراتی:
“بیٹا، آسمان ہمیشہ ہمارے اوپر ایک چھت کی طرح ہے، جو ہمیں سہارا دیتا ہے۔”
مگر اب وہی چھت ان پر یوں جھکی ہوئی تھی جیسے بوجھل پتھر کی سل۔
کھانے کو کچھ نہ تھا، پانی زمین سے غائب تھا۔ وہ پرانے کھنڈرات میں پھرتے، کبھی راکھ کے ڈھیر میں کوئی سوکھا پھل ملتا تو کبھی کسی تباہ شدہ دکان کے ڈبے میں آدھی سی بوتل۔ وہ اپنی بھوک کو ان ٹکڑوں سے سہارا دیتے۔ لیکن بھوک صرف جسم کی نہ تھی، وہ روح کی بھوک تھی جو امید اور سکون کی طلبگار تھی۔
ایک شام جب ہوا اور زیادہ سیاہ اور بوجھل ہو گئی تو حوّا کھانستے کھانستے ارسلان سے لپٹ گئی۔ اس کے ہونٹوں پر پیاس کی لکیریں تھیں اور آنکھوں میں سوال۔
“بھائی! کیا کبھی سورج دوبارہ نکلے گا؟ کیا ہم کبھی نیلے آسمان کو دیکھ سکیں گے؟”
ارسلان کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ بہن کو گلے سے لگا کر بولا:
“حوّا، انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے آسمان کے رنگ چھین لیے ہیں۔ کچھ لوگوں کی انا، نفرت اور لالچ نے یہ زمین جلا دی۔ مگر شاید! شاید کوئی نیا دن آئے گا، کوئی نیا آسمان۔”
مگر یہ الفاظ صرف دلاسہ تھے۔ ارسلان جانتا تھا کہ اب زمین پر سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ نباتات نہ تھیں، پرندے نہ تھے، اور نہ ہی وہ ہنسی جو کبھی گلیوں میں گونجتی تھی۔
حوّا کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ بھوک اور بیماری نے اس کی چھوٹی سی جان کو نگل لیا تھا۔ ارسلان ہر دن اسے تسلی دیتا، کبھی کہتا “کل بارش ہوگی”، کبھی کہتا “ہم کوئی کھیت ڈھونڈ لیں گے”، لیکن اس کے دل میں خوف کا پہاڑ بیٹھا تھا۔
آخری رات، جب دھواں کچھ ہلکا ہوا اور آسمان کے اس بے رنگ پردے پر بجلی سی چمکی، حوّا ارسلان کے بازو میں سمٹ کر آہستہ بولی:
“بھائی! میرا آسمان اب بھی بے رنگ ہے۔” یہ کہہ کر اس کی سانسیں رک گئیں۔ حوا نیلے آسمان کو دیکھنے کی خواہش لیے چپ سادھ گئی۔ ارسلان نے چیخ مارنی چاہی لیکن آواز گم تھی رونا چاہا پر آنسو نہ تھے۔ ارسلان نے بہن کی آنکھیں بند کیں اور ساکت ہو کر اوپر دیکھا۔ آسمان واقعی بے رنگ تھا۔ اس پر کوئی سورج، کوئی چاند، کوئی ستارہ نہ تھا۔ صرف دھواں اور خاک کی چادر، جو انسان کی خود غرضیوں اور نفرتوں کی آخری یادگار تھی۔
وہ جان گیا کہ انسان نے نہ صرف زمین کو، بلکہ آسمان کو بھی قتل کر دیا ہے۔
بے رنگ آسمان، انسان کے گناہوں کا مقبرہ بن چکا تھا۔
