من محرم

من محرم

اللہ جی۔۔۔ موسلا دھار بارش ہو اور ہمارے کمرے کی چھت نہ ٹپکے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ جب بارش ہونے والی ہوتی ہے تو لوگ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ہم کمرے کی چھت کی طرف کہ نجانے کب کس کونے سے آنسو بہانا شروع ہو جائے اور ہم اس کے قیمتی آنسوؤں کو اپنے برتنوں میں جمع کر کے دوبارہ زمین کے حوالے کر دیں. حزیمہ نے ٹپکتی چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر ان ٹپکتی بوندوں کو اکٹھا کرنے کی غرض سے جلدی سے بالٹی پتیلی اور چند دوسرے برتن اس ٹپکتی چھت کے نیچے رکھے۔ برتن میں گرتی بوندوں نے ایک دھن پیدا کر دی تھی۔ بارش کا موسم ہو یا ساون رت یہ سارے موسم تو ان اونچے عالیشان گھروں میں رہنے والوں کے لیے ہیں۔ جہاں صاف ستھرے فرش پر پھسلتی بوندیں بھی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔
اری خدا کا شکر ادا کر کہ یہ چھت جیسی بھی ہے اپنی ہے اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہے کہ ان اونچے گھروں میں رہنے والوں نے کڑی دھوپ بھی سہی ہو ۔ حمیدہ خاتون نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ لیکن امی دل ہر بار ان اچھی نصیحتوں پہ راضی نہیں ہوتا ۔ حزیمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
اچھا اچھا اب بس بارش کا تو کوئی پتہ نہیں کہ کب تک برستی رہے۔ تمہارے ابو واپس آنے والے ہیں جلدی سے دستر خوان لگاؤ۔ امی کے کہنے پر وہ کام کے لیے اٹھ گئی لیکن اس بارش اور اپنی حیثیت کو لے کے من ہی من اس نے اللہ میاں سے خوب گلے شکوے کیے۔
وقفے وقفے سے ہوتی بارش نے ساری رات سونے نہیں دیا۔ فجر کی اذان ہونے ہی والی تھی کہ اسے گہری نیند آگئی اور وہ سوتی رہی۔ جب آنکھ کھلی تو نو بج چکے تھے۔ امی مجھے جگایا کیوں نہیں؟۔ نماز بھی قضا ہو گئی اور آج انسٹیٹیوٹ جانا بھی ضروری تھا کیونکہ آج میرا اہم پریکٹیکل تھا۔
” لو جی اٹھتے ہی اس لڑکی کی شکایتوں کا تھیلا پھر سے کھل گیاامی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ صحت سے بڑھ کے کچھ نہیں ساری رات کروٹیں بدلتی رہی ہو نیند پوری نہیں ہوئی اور پھر سے کمپیوٹر پر کام کرتی تو میری بچی صحت پر اثر پڑتا اس لیے نہیں جگایا۔وہ منہ دھونے کے لیے اٹھ گئی۔ وہ ناشتہ ہی کر رہی تھی کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ چچی آمنہ کا فون تھا۔ سلام دعا کے بعد اس نے فون امی کو دے دیا۔ حزیمہ کے اندازے کے مطابق ضرور چچی کو کسی پکوان کی ترکیب یا مصالحہ جات کی معلومات چاہیئے ہوں گی بنا کام اور مقصد کے وہ انہیں یاد کرنے سے رہیں لیکن امی کا کھلتا چہرہ اور مبارکباد سن کر وہ تجسس میں پڑ گئی۔ کال کٹتے ہی اس نے پوچھا۔ ارے مومنہ کا رشتہ پکا ہو گیا ہے اور کل منگنی کی چھوٹی سی رسم ہے۔ ہمیں بھی بلایا ہے اور ہاں کہہ رہی تھی کہ صرف خاندان کے قریبی رشتہ داروں کو مدعو کیا ہے چھوٹی سی رسم ہے۔ تمہارے ابو کو پہلے ہی فون کر کے بتا دیا ہے لہذا آپ سب نے لازمی آنا ہے۔ بہت ہی اچھے اور امیر گھرانے میں رشتہ طے ہوا ہے۔ امی نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا تو وہ بھی خوش ہو گئی اسے کوئی تقریب اٹینڈ کیے ہوئے بھی کافی عرصہ ہو گیا تھا سو وہ کافی ایکسائنڈ تھی۔
اگلے دن وہ منگنی کی رسم میں جانے کے لیے تیار ہو کر امی کے سامنے آن کھڑی ہوئی ” امی میں کیسی لگ رہی ہوں” ؟ ایک بھر پور مسکراہٹ سجائے اس نے پوچھا۔ حمیدہ خاتون نے سر تا پا بغور دیکھا یہ اتنا سجنے سنورنے کی کیا ضرورت تھی ؟ منگنی مومنہ کی ہے تمہاری نہیں جب تمہارا وقت آئے گا تب سارے شوق پورے کر لینا۔ یہ بھاری جیولری اور یہ اتنی شوخ لپ اسٹک ۔۔ حمیدہ خاتون نے اسے گھورا ہاں تو کیا ہو گیا ہے امی آج کل سب لڑکیاں ایسے ہی تیار ہوتی ہیں۔ اس نے دلیل پیش کی۔ لیکن بیٹا سجنے سنورنے اور اوڑھنے پہننے کا بھی کوئی طریقہ سلیقہ ہوتا ہے آج کل تو ایسا کلچر نکل پڑا ہے کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں فرق معلوم کرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے لیکن امی وہ پرانا دور تھا اب زمانہ بدل گیا ہے۔ حزیمہ نے آخری حربہ آزمایا۔ میری بچی زمانہ نیا ہو یا پرانا ہر چیز وقت پر ہی اچھی لگتی ہے اور لڑکیوں کے معاملے میں لوگ زمانہ نہیں عادات و اطوار کا ترازو لیے پھرتے ہیں۔ خیر حمیدہ خاتون نے حکم دیا اور وہ بحث کا وقت نہیں ہے جاؤ یہ اپنا حلیہ لڑکیوں والا بنا کے آق وہ بے دل سی ہو کر دوبارہ تیار ہونے لگی۔ جونہی اس نے گیٹ کھولا تو وہاں کا ماحول ہی الگ تھا۔ ہر طرف مہمان ہی مہمان اور گھر کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ وہ زرا آگے بڑھیں لیکن چچی کہیں نظر نہ آئیں۔ حزیمہ نے کھوجتی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا تو وہاں تھوڑی دور چی آمنہ مسز فائزہ افتخار کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں ۔ اگرچہ وہ حمیدہ خاتون اور حزیمہ کو دیکھ چکی تھیں لیکن پھر بھی انجان بنی رہیں۔ وہ چچی کے اس رویے پر کلس کے رہ گئی۔ امی چچی نے تو کہا تھا کہ چھوٹی سی رسم ہے لیکن یہاں تو آدھا شہر مدعو ہے۔ حزیمہ نے مایوسی سے کہا۔ ہاں مجھے بھی ایسا لگتا ہے کافی دیر گزر گئی کوئی رسیو کرنے نہ آیا۔ باسط نے انہیں کھڑے دیکھا تو انہیں رسیو کرنے چلا آیا۔ چچی یہاں کیوں کھڑی ہیں ادھر ہال میں چلیں نا۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ انہیں ہال تک چھوڑ آیا۔ وہ صوفے پر بیٹھنے ہی والی تھی کہ چچی آمنہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے سامنے آگئیں اور اور اپنائیت کا ڈرامہ کرتے ہوئے گلے سے لگایا وہ کہنے لگیں ارررے حزیمہ بیٹی مومنہ کی منگنی ہے تو تھوڑا اچھے سے تیار ہونے میں کیا حرج تھی ہیں۔۔۔۔ دیکھیں ناں بھا بھی سب اپنے نصیب کی بات ہے ماشاء اللہ سے بہت ہی اونچے گھرانے میں جائے گی میری بیٹی عیش کرے گی عیش – آمنہ چچی نے ایک ہی سانس میں سب کہہ ڈالا اور حزیمہ کو یوں لگا جیسے وہ ان کی حیثیت کا مذاق اڑا رہی ہوں۔ بس آپ کو تو پتہ ہے نہ حمیدہ بہن کہ ہماری اکلوتی مومنہ کو گزارے کرنے کی عادت نہیں ہے اس کے بابا نے بڑے لاڈ پیار سے اس کی پرورش کی ہے۔ چچی نے کہا اور پھر حزیمہ کی طرف منہ کر کے کہا۔ خیر تم یہ بات نہیں سمجھو گی۔ چچی نے اس کے حلیے پر طنزیہ نگاہ ڈالی اور پھر سجے ہوئے ہال کی طرف دیکھنے لگیں۔ چچی کے اس انداز پر ایک بار پھر وہ من ہی من میں اللہ تعالیٰ سے کئی شکوے کر گئی ۔ کیا ہو جاتا اگر اپنے خزانے سے ہمیں بھی کچھ دولت مل جاتی عیش نہ سہی کم از کم اپنوں کے ہاتھوں اتنی ذلت تو نہ اٹھانی پڑتی ۔ وہ صبر کا گھونٹ پی گئی اور بے دل کی صوفے پر بیٹھ گئی۔ حمیدہ خاتون کو چچی کے اس رویے پر غصہ آیا لیکن موقعہ ہی ایسا تھا کہ اگر وہ کچھ کہتیں تو آمنہ نہ جانے کیا فساد برپا کر کے مزید ان کی تذلیل کرتی۔ سو حمیدہ خاتون خاموش رہیں ۔ اڑوس پڑوس کی خواتین رسمی سے حال احوال کے بعد اپنے مخصوص انداز میں سیلفی لینے کے بہانے اٹھ جاتیں۔اپنی حیثیت کا مان اور چاہت میسر ہو تو چہرے اطمینان صاف دکھائی دیتا ہے۔ جو اس نے ولید کے ہاتھوں انگوٹھی پہنتے ہوئے مومنہ کے چہرے پر دیکھا تھا۔ منگنی کی رسم شاندار انداز میں ہوئی۔ حزیمہ کہیں دور مسقبل کے خیالوں میں کھو سی گئی اور من ہی من اس نے ایک بار پھر اللہ تعالیٰ سے کئی شکوے کر ڈالے۔
گھر واپسی پر وہ خاموش رہی جبکہ حمیدہ خاتون چچی کے رویے پر شدید برہم ہوتی رہیں۔ اگر نہیں بلانا تھا تو نہ بلاتے اس طرح بلا کر بے عزت تو نہ کرتی آمنہ ۔
ہمیں تو یہ کہہ کر بلایا کہ صرف خاندان کے چند افراد کو بلایا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ہمیں ہماری حیثیت کا طعنہ دینے کے لیے بلایا تھا کیا؟ امی نے ابو کے سامنے کھل کر احتجاج کیا۔ شبیر احمد خاموشی سے سنتے رہے اور پھر بولے اس وقت ان سے شکایت کرنا فضول ہے وہ یہی سمجھیں گے کہ ہم ان کی خوشی میں فساد برپا کر رہے ہیں۔ سوت نہ کپاس جو لا ہے سے لٹھم لٹھا۔ شبیر احمد غصے میں باہر نکل گئے۔ عشاء کی نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانے ہی تھے کہ اس کے ذہن میں آج ہونے والی تذلیل گھوم سی گئی اور بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے کے بعد وہ پر سکون سی ہو گئی
اگلی صبح وہ سب کچھ بھول بھال کے انسٹیٹیوٹ چلی گئی اور اپنی ساری توجہ سیکھنے سکھانے کی طرف لگا دی۔ جب لوگوں کے رویے کی پرواہ نہ ہو تو وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے اور اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں کسی کی کڑوی کسیلی بات بھی آپ کے اندرونی سکون کو متاثر نہیں کرتی۔ مومنہ سسرال رخصت ہو گئی تھی۔ مومنہ کے اصرار کے باوجود اس نے شادی میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس کا کورس مکمل ہو چکا تھا تو اب اس نے گھر پر بچوں کو کمپیوٹر سکھانا شروع کیا۔ آغاز اچھا رہا۔ محلے کے چند بچے کمپوٹر کلاس لینے آتے تھے۔آج وہ بچوں کو ٹائپنگ سکھا رہی تھی کہ اس کے کانوں میں آمنہ بچی کی آواز گونجی۔ اس نے کھڑکی سے جھانک کے دیکھا تو چچی رو رہی تھیں اور ان کے ساتھ چچا نصیر بھی افسردہ سے لگ رہے تھے۔
” ہوا کیا ہے جو اس قدر رو رہی ہو ؟ حمیدہ خاتون نے پریشان لہجے میں پوچھا۔ بھا بھی میری پھول سی بچی یہ کہہ کہ بچی پھر سے آنسو بہانے لگیں۔ اللہ خیر کرے کیا ہوا مومنہ کو ” ؟ حمیدہ خاتون نے پوچھا ۔ بس بھا بھی میری معصوم سی بچی رل گئی۔ مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہے۔ کئی بار ان کے گھر گئی فون پر رابطہ کیا لیکن میری بات تک نہیں کروائی۔ محلے داروں سے پوچھا تو وہ انہوں نے بتایا کہ ولیمے کے دس بارہ دنوں بعد ولید اور مومنہ گاڑی میں کہیں جارہے تھے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید سرال یا پھر کہیں گھومنے پھرنے جارہے ہوں گے۔ چچی پھر سے رونے لگیں ۔ ” اللہ رحم کرے اور مومنہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے “۔ امی پریشان ہو گئیں تھیں۔ صرف یہی نہیں آج صبح جب میں ان کے محلے میں گیا تو معلوم ہوا کہ ولید کے والدین بھی محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ سب محلے داروں سے ان کے متعلق پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے۔ نصیر احمد نے مایوس انداز میں بتایا۔ حزیمہ کو بہت افسوس ہوا۔ابو کو معلوم ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے بھائی کی طرف چلے آئے۔ بھائی صاحب معاملہ تو بہت سنگین ہے سچ پوچھیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ پتہ نہیں مومنہ کس حال میں ہوگی؟ شبیر احمد نے کہا۔ خدا کے لیے کچھ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں دور نکل جائیں ۔ حمیدہ خاتون نے پریشانی کے عالم میں کہا۔ مومنہ کی تلاش شروع کر دی گئی تھی پولیس تھانہ غرض ہر جگہ کوشش کی مگر سنوائی تو پیسے کی ہی ہوتی ہے نا۔ پیسہ اگر پانی کی طرح بہایا جائے تو پردیس میں گرا سکہ بھی مل جاتا ہے لیکن چچا کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی سب مومنہ کی وی آئی پی شادی پر خرچ کر چکے تھے سو اب صرف رب کا سہارا تھا۔ امی نے سارا معاملہ رفیق ماموں کو بتایا ۔ رفیق ماموں محکمہ پولیس میں کلرک تھے ۔انہوں نے اپنے ساتھی افسر کی منت سماجت کی تو کارروائی کی گئی اور مومنہ گھر واپس آگئی۔ کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ولید اور اس کے والدین کسی گینگ کے لیے کام کرتے تھے جو امیر ہونے کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو لوٹتے تھے۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وقت پر کارروائی ہو گئی اور مومنہ ان کے چنگل سے آزاد ہو گئی۔ اتنے بڑے صدمے کے بعد تو مومنہ تو جیسے ہنسنا ہی بھول گئی ۔کسی سے ملنا تو دور بولنا ہی چھوڑ دیا تھا اور ایسے میں حزیمہ کو ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی اس کی طرح من ہی من ، من کے محرم سے باتیں کرنے لگی ہے تبھی تو اسے اپنا غبار نکالنے کے لیے کسی انسانی بت کی ضرورت نہیں رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *