خوابوں کی تعبیر
وہ لڑکی جیسے خوابوں کے دیس سے اتر آئی تھی۔ بچپن ہی سے قلم اس کی انگلیوں میں یوں گھل گیا تھا جیسے خوشبو پھول میں۔ غزلیں، نظمیں اور افسانے — سب اس کی سانسوں کی لے پر جنم لیتے تھے۔ مگر نصیب نے اس کے لیے سائنس کے راستے کھولے۔ زوالوجی جیسے سائنسی مضمون میں ڈوبے رہنے کے باوجود اس کے دل میں ادب کا چراغ مسلسل روشن رہا۔ ہم جماعت اکثر حیرت سے پوچھتے، “یہ کیسے ممکن ہے کہ سائنس کی عمیق دنیا میں رہنے والی لڑکی ایسے خوبصورت الفاظ تخلیق کرے؟” اور وہ مسکرا کر کہہ دیتی، “یہ سب عنایتِ خداوندی ہے۔”
کالج سے یونیورسٹی تک وہ مشاعروں اور تقاریر کی جان بنی۔ مگر وقت کی ریت نے اسے کسی بڑے ادبی منبر سے محروم رکھا۔ خواب زندہ تھے، لیکن تعبیر کی راہیں دھند میں گم تھیں۔
پھر تقدیر نے در کھولا۔ ایک آن لائن ادبی گروہ میں شمولیت ملی جہاں روز نئے مقابلے ہوتے تھے۔ جب بھی وہ قلم اٹھاتی اور نتیجہ آتا، اس کا نام نمایاں مقام پر جگمگا اٹھتا۔ سرٹیفیکیٹس اور اسناد اس کے حصے میں آئیں اور اس کے فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام اکاؤنٹس ان کامیابیوں کی روشنی سے جگمگا اٹھے۔
ایک دن گروپ کے سرپرست نے اعلان کیا: “یہ لڑکی صرف شریکِ مقابلہ نہیں رہی، یہ ہماری ادبی انجمن کا وقار ہے۔” اُسے ایک اعلیٰ عہدے سے نوازا گیا، اور جلد ہی اس کی تحریریں مطبوعہ رسالوں اور اخبارات کی زینت بن گئیں۔ تب اُس نے جانا کہ خوابوں کی اصل تعبیر کاغذی اسناد نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جو لفظوں کے ذریعے دلوں پر ہمیشہ کے لیے لکھا جاتا ہے۔
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
