⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
استاد کی عظمت کو سلام
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی و عروج کا دار و مدار تعلیم پر اور تعلیم کی بنیاد استاد پر ہے۔ استاد وہ عظیم ہستی ہے جو جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتی ہے، جو انسان کو محض پڑھنا لکھنا نہیں سکھاتی بلکہ اسے انسانیت، اخلاق، کردار اور خدمت کا درس دیتی ہے۔ استاد کی رہنمائی کے بغیر انسان کا کوئی بھی سفر — خواہ وہ علمی ہو یا عملی — ادھورا رہتا ہے۔
استاد معاشرے کا معمار ہے۔ وہ محنت اور اخلاص سے نسلوں کو تراشتا ہے۔ جس طرح ایک مالی اپنے باغ کی آبیاری کرتا ہے، ویسے ہی استاد طلباء کے ذہنوں کو علم و شعور سے سیراب کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ کردار سازی کرتا ہے، خواب دیکھنا سکھاتا ہے اور پھر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔
اسلام میں بھی استاد کے مقام کو انتہائی بلند درجہ حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔”
یہ حدیث استاد کے رتبے کو واضح کرتی ہے کہ تعلیم و تربیت انبیاء کا ورثہ ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی علم والوں کو بلند درجات کا وعدہ دیا گیا ہے۔ درحقیقت، جو استاد اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر ادا کرتا ہے، وہ دراصل قوم کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے ہر بڑے رہنما، سائنسدان، ادیب یا مصلح کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی محنت، دعا اور رہنمائی کارفرما ہوتی ہے۔ استاد وہ چراغ ہے جو دوسروں کو روشنی دینے کے لیے خود جلتا ہے۔ وہ تھکن نہیں جانتا، شکایت نہیں کرتا بلکہ اپنے شاگردوں کی کامیابی میں اپنی خوشی تلاش کرتا ہے۔
ضرورت اس بات ہے کہ معاشرے میں استاد کو اس کا جائز مقام دیا جاءے اور اس کی عزت و تکریم کی جاءے جو اس کا حق ہے۔ معاشرتی نظام میں استاد کا مرتبہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب بست و کشاد کو چاہیے کہ وہ اس مقدس پیشے سے وابستہ افراد کو سہولیات اور عزت دیں، جبکہ والدین اور طلباء کو بھی چاہیے کہ استاد کے قدموں میں بیٹھنے کا ادب سیکھیں، کیونکہ اسی ادب سے علم میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
آئیے! ٹیچرز کے عالمی دن کی مناسبت سے ہم سب مل کر اس عظیم پیشے اور اس کے نمائندوں کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ استاد صرف ایک فرد نہیں، بلکہ وہ چراغ ہے جو نسلوں کو منور کرتا ہے۔ اس کی محنت، قربانی اور تربیت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سلام ہے ان اساتذہ کو جو خاموشی سے روشنی بانٹتے ہیں،
جن کی دعاؤں سے تقدیریں بدلتی ہیں،
اور جن کے قلم کی نوک پر قوموں کی بقا لکھی جاتی ہے۔
