ڈاکٹر انعم پری

ڈاکٹرانعم پری

السلام علیکم معزز قارئین
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر ایک نئے انٹرویو کے ساتھ میزبان رشنا اختر حاضر ہے ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں ڈاکٹر انعم پری صاحبہ جو کہ ماہر امراض قلب ہیں ۔ آج کے انٹرویو کا خاص مقصد آپ کی صحت کی طرف توجہ دلانا ہے تاکہ آپ صحت مند زندگی گزار سکیں ۔ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے ڈاکٹر صاحبہ سے گفتگو کرتے ہیں ۔

رشنا اختر : السلام علیکم
کیسی ہیں آپ ؟

ڈاکٹر انعم پری :وعلیکم السلام الحمدللّٰہ میں ٹھیک ہوں ۔

رشنا اختر : کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

ڈاکٹر انعم پری : ‎آپ سب نے سن رکھا ہوگا کہ ہماری قدیم روایت ہے کہ گھر کی پہلی اولاد ننھیال میں پپدا ہوتی ہے اِسی طرز کو مدِنظر رکھتے ہوئے میری پیدائش بھی میری نانو کے شہر فیصل آباد میں ہوئی۔ میں شروع سے ہی بہت ایکٹو اور اینرجیٹک بچی تھی ۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انتہا کی باتونی بھی پر ہر بات ایسی کرتی تھی کہ دل موہ لیتی تھی (ہی ہی ہی) ۔۔ اب اور کچھ کہا تو لگے گا کہ اپنے منہ میاں مٹھو (ہا ہا ہاہا ہا) ۔ پر ہاں سب کہتے تھے کہ کچھ کر دکھانے کا جنون بہت تھا ۔ تو بس لے لی کچھ بڑا کرنے کی ذمہ داری اور بن گئی ڈاکٹر۔ مگر وہ کرکے بھی تسلی نہ ہوئی تو بس میں نے کرلیا ارادہ وڈا ڈاکٹر بن کر ہی ماں باپ کا نام روشن کرنا ہے ۔حال ہی میں میر ی امراضِ دل کے شعبہ میں ایف۔سی-پی-ای میں پاس ہوگیا ہے اور میں اللہ کے بہت کرم سے سینئیر رجسٹرار کارڈیالوجی (ماہرِ امراضِ قلب) کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہوں۔ الحمداللہ۔۔! دوست بھی اللہ کا شکر بہت ہیں اور مشاغل میں کتاب بینی، بیڈ منٹن، لکھنا، پینٹنگ کرنا ‎اور دوست بنانا شامل ہے ۔

رشنا اختر : ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ادب سے وابستگی کیسے ؟

ڈاکٹر انعم پری : یہ ایک یقیناً بہت ہی گہرا تعلق ہے ۔ اس کا ڈائیریکٹ دل سے کنیکشن ہے ۔ دراصل میں سمجھتی ہوں کہ جو بھی آپ زندگی میں دیکھیں یا سنیں یا پھر محسوس کریں اُسے تجربے کے طور پر آگے ضرور پہنچائیں اور ہر کوئی منفرد سوچ رکھتا ہے لیکن صحیح اور غلط کی پہچان کرنا اور غلط کے لیے آواز اُٹھانا بےحد ضروری ہے اس لیے میں نے جب پہلی بار محسوس کیا کہ میں یہ لکھنے کا فن جانتی ہوں تو میںنے بغیر ہچکچائے اس سفر کا آغاز کردیا -میں سستھ سٹینڈرد (6th standard) میں تھی تو اک ڈرامے کہ زیرِاثر اپنی پہلی تحریر
”Parenting is a responsibility” میں لکھی جو کہ انگلش زبان میں تھی۔ تب مجھے لگتا تھا کہ مجھے صحیح اُردو نہیں آتی اور سچ بات بھی یہی ہے ۔ شروع کہ کچھ سال میری تحریریں میں انگلش زبان میں ہی لکھتی رہی زیادہ تر پبلش بھی ہوجاتی پر ایسے لگتا تھا کہ جیسے وہ میرے جذبات کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ میں ایک انتہائی اہم بات پر لکھ رہی تھی جیسے کہ ماں باپ کے رویوں کا بچوں پہ اثر ، ماں باپ سے اُن کی اُمیدیں ، اور بچوں کی پرورش وغیرہ ۔ پھر میں نے اُردو میں بہت کتابیں پڑھیں اپنی کورس کی کتابوں سے فری ہوتی تو میرے دو ہی مشغلے تھے اردو کی کتابیں پڑھنا اور ٹی-وی ‎میں نے کوشش کی کہ ہر طرح کی تحریریں پڑھوں دیکھنا اور پھر آہستہ آہستہ میں اردو میں نے تحریریں لکھنا شروع کی اور یہ سفر دیکھتے ہی دیکھتے میری زندگی کا اہم حصہ بن گیا ۔میں ہو سکتا ہے کہ بہت مشہور مصنفہ نہ ہوں لیکن جس نے بھی مجھے آج تک پڑھا میرے کام کو سراہا بہت اور کہا کہ پیغام بہت مضبوط ہے ۔ اور یہی میرے لکھنے کی وجہ ہےآج تک میری لکھی ہر تحریر کے پیچھے چھپی ایک کہانی سےحاصل شدہ ایک سبق ہے ۔ اور وہی آگے پہنچانا میرا مقصد ہے۔

رشنا اختر : مشکل پیشے کا انتخاب اپنوں سے دوری کا باعث بھی بنتا ہے اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی ؟

ڈاکٹر انعم پری : یہ تو آپ نے بہت گہری بات آرام سے کہہ دی ہے ۔ بے شک بہت مشکل ہے ۔ لوگ آپ کو آپ کی روٹین کو اور آپ کے بدلے ہوئے دن اور رات کو ڈائجیسٹ نہیں کر پاتے آپ اپنوں کو ٹائم نہیں دے سکتے ۔ آپ کی سوچ اٹھنے بیٹھنے اور بہت سی چیزوں میں فرق آجاتا ہے۔ لیکن اک بات ہے جو آپ سے محبت کرتے ہیں وہ ہر حال میں آپ کے ساتھ ہوتے ہیں۔

رشنا اختر : زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

سب سے بڑا اور ضروری سبق یہی ہے کہ مشکل وقت میں آپ ہوتے ہیں اور آپ کے ساتھ بھی آپ ہی ہوتے ہیں۔جیت اور کامیابی کے بعد بہت سے لوگ آپ کی کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانے کو آپ کو بہت سے فرضی احسانات آپ کو یاد دلائیں گے مگر آپ یاد رکھیں وہ کامیابی وہ جیت صرف آپ کی ہے اپنے آپ کو سہنا سیکھیں کیونکہ جو شخص اپنے آپ سے محبت نہیں کرتا وہ کسی سے محبت نہیں کرسکتا۔

رشنا اختر : آپ کو خاندان میں سب زیادہ سپورٹ کون کرتا ہے کہ آپ آج اس مقام پر ہیں ؟

ڈاکٹر انعم پری : شاید ماں باپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا ۔ بے شک اپنے ننھیال اور ددھیال دونوں طرف سے بہت محبت ملی لیکن آپ کو سمجھنے کا ہنر سب سے زیادہ ماں باپ رکھتے ہیں ۔ پھر بھی اگر آپ جاننا چاہیں تو میرے سب ماموں کا بہت رول رہا لیکن جسنے بنا کچھ کہے ہمیشہ اک الگ اُمید دی ہے وہ میرے سب سے چھوٹے ماموں ہیں اللہ تعالٰی اُنھیں ہمیشہ خوش رکھیں آمین اُن کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ نہ کسی کے معاملے میں زیادہ بولتے اور نہ کسی کو اپنے معاملوں میں بولنے دیتے ۔ آپ یقین کریں معاملہ فہمی ایک بڑی نعمت ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

رشنا اختر : مہنگے اور سستے ڈاکٹر کی کیا کہانی ہے ؟ عمومی خیال ہے کہ ڈاکٹر مہنگا ہے تو علاج اچھا ہوگا ۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گی ؟

ڈاکٹر انعم پری : یہ اصل ایک ذہنی بیماری ہے اور کچھ نہیں اصل میں ہوتا کیا ہے ایک رواج بنا ہوا ہے کہ جیسے ہم سوشل میڈیا پہ کچھ ٹرینڈ کو فالو کرتے ہیں . پرنٹ زمانے میں جب یہ رواج شروع ہوا تو ہوتا یہ تھا کہ گورنمنٹ ہسپتال میں بہت زیادہ پریشر ہے اور مریض کا بہت زیادہ لوڈ ہے تو وہاں پہ جب زیادہ ٹائم نہیں دے سکتے تھے تو جن کے پاس پیسے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر پرسنلی چاہیئے تو پرائیویٹ ہسپتال کھلتے گئے اور بزنس کی طرح بن گئے آہستہ آہستہ ڈاکٹروں کا مائنڈ بھی اس طرف ہو گیا کہ گورنمنٹ نے تنخواہ کم کر دی وہاں ٹائم زیادہ دینا پڑتا ہے اپنے لوگوں کے لیے اپنی آپ کو برانڈ بنانے کے لیے صبح میں وہ گورنمنٹ جاب کرتے ہیں اور شام کو وہی ڈاکٹر آپ کو زیادہ ٹائم بھی دیتے ہیں اور آپ سے اس ٹائم پے بدلے میں معاوضہ بھی لے لیتے ہیں اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اسکا حق بھی ہے آپ سوچیں کہہ پانچ سال میں ایم بی بی ایس ہوتا ہے اور پانچ سال میں اسپیشلائزیشن اور پانچ سال کے تجربے کے بعد پہلے رجسٹرار بھی سینئر رجسٹرار پھر اسسٹنٹ پروفیسر اور پھر پروفیسر کی سیٹ پر آتے ہیں اور پھر لوگ کیا کرتے ہیں کہ انکا ایک کانسیپٹ بنا ہوا ہے جتنا زیادہ پیسے دیں گے اتنا زیادہ اچھا علاج ہو گا تو وہ کنسلٹنٹ یا نارمل کنسلٹنٹ کے آنا بھی نہیں چاہتے تو یہ ہماری دماغ کی اپنی بنائی ہوئی ٹرینڈ ہے یہ کہہ لیں سوچ ہے بیماری ہے جس سے ہم خود بھی گزر رہے ہیں اور پوری قوم بھی .

رشنا اختر : فاسٹ فوڈز کے دور میں دل کا خیال کیسے رکھا جاۓ ؟

ڈاکٹر انعم پری : فاسٹ فوڈ کبھی کبھی کھا لینا جیسی مہینے میں ایک بار یہ ہفتے میں دو بار تو اس سے زیادہ مسئلہ نی ہوتا جب تک کہ آپ صحت مند ہیں اتنی ہی کیلوری کو برن کرسکتے ہیں اچھی ورزش کر کے نمک مرچ مصالحہ اور ویج آئل استمال کر کے زیتون کا تیل استمال کر کے آپ اس چیز کو کم کر سکتے ہیں آپ ایک چیز کو سمجھ لیں کہ اگر آپ ڈیلی بسیز پہ کھا رہے ہیں تو اس کو ہفتے پہ لے آئیں ہفتے پہ ہیں تو دو ہفتوں پہ لے آئیں اور اسی طرح آہستہ آہستہ اس چیز کو کم کر سکتے ہیں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فاسٹ فوڈ میں مرچ اور نمک کا استمال بہت زیادہ ہے جو سب سے زیادہ خطرناک ہے اسکو کم کرنا بہت ضروری ہے تو بس کوشش کرنا کہہ آہستہ آہستہ عادت کو کم کرتے ہیں اور زبان کے ذائقے کے لیے زندگی خراب کرنا ۔ زندگی ہے تو جینا چاہئے اپنی فیملی ٹائم کو انجوائے کریں اور چارم بھی اسی چیز میں رہتا ہے جو کبھی کبھی کی جائے اس میں چارم نہیں ہو گا تو مزا نہیں آئے گا۔

رشنا اختر : نوجوان نسل میں بڑھتے ہارٹ اٹیک کی وجوہات کون سی ہیں ؟

ڈاکٹر انعم پری : میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ سیڈنٹری لائف سٹائل کا مسئلہ ہے کیونکہ ہماری جو عادات ہیں ہم بہت زیادہ تر کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور موبائلز کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں ۔ ورزش نہ کرنا ، واک پر نہ جانا اور ایکٹیویٹی میں کوئی بھی سپورٹ کا نہ ہونا اس کا باعث ہے ساتھ ہی برائلر چکن کھاتے ہیں اس میں بہت زیادہ اسٹیرائیڈ کی مقدار ہے کیونکہ جتنی بھی کمپنیاں ہیں اپنے چکن کو بڑا کرنے کے لیے اور بیچنے کے لیے اسٹیرائیڈ کے انجکشن استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ اس لیے ہمیں اصل اور سادہ غذا سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اس لیے کوشش کریں دیسی مرغی استعمال کریں ۔ نمک ، چکنائی اور تلی ہوئی چیزوں کی مقدار کم کر دیں تو ہارٹ اٹیک کی شدت میں کمی آ سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ شیشہ جو کہ بہت زیادہ عام ہوگیا ہے ۔ سگریٹ نوشی اور کسی بھی قسم کی نشہ آور چیزوں سے اگر ہماری نوجوان نسل دور رہے اور خاص طور پر والدین بچوں کی عادات پر کڑی نظر رکھیں اور دوستانہ ماحول میں ان کو غلط اور صحیح کے بارے میں بتائیں تو بہترین تربیت ان ساری چیزوں سے ہمیں بچا سکتی ہے ۔

رشنا اختر : سوشل ایپس استعمال کرنے والوں میں چڑ چڑا پن بہت پایا جاتا ہے کیا زیادہ سکرین ٹائمنگ دماغی امراض کا سبب بن سکتی ہے ؟

ڈاکٹر انعم پری : جی بالکل ایسا ہی ہے ان کے زیادہ استعمال کرنے سے جسم کے کچھ ایسے ہارمونز ہیں جو جسم کو سڑیس کی طرف لے جاتے ہیں وہ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتے ہیں ۔ رات کو زیادہ دیر تک سکرین ٹائم اور جو ہمارے جسم کے سونے کا وقت ہے جسے ہم سرکیڈیئن ردھم بھی کہتے ہیں ۔ ہم اسے اپوزیٹ ٹو دی سن کر دیتے ہیں جس کے ساتھ بہت سارے نقصانات پیدا ہو سکتے ہیں چڑچڑاپن ،الجھنیں اور نیند کا نہ آنا سارا دن جسم کا بوجھل رہنا ، طبعیت ناساز ہونا یہ سب اسی کے اثرات ہیں جتنا ہم اس کو کم کرتے جائیں گے تو آہستہ آہستہ بہتری آ سکتی ہے ۔ دوسرا یہ کہ اگر ہم انہی پلیٹ فارمز کا مثبت استعمال کریں لمیٹیڈ اور فکس ٹائم رکھیں اور اپنی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائیں جس میں متوازن غذا ،ورزش اور لوگوں سے میل جول بھی ہو تو یہ چیزیں ہمارے لیے مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں ۔

رشنا اختر : صحت مند زندگی کے چند اصول جو پر شخص کو اپنانے چاہئیں ۔

ڈاکٹر انعم پری : دلوں میں محبت کا ہونا ۔ آپ حیران ہوں گی کہ صحت مند زندگی بات ہورہی اور میں محبت کی بات کر رہی ہوں ۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے بالکل ہے لیکن اصل میں آپ کا گھر پہلی درسگاہ ہے ۔ جو ماحول انسان کی پرورش میں گزارا ہے یعنی بچپن وہ اس کی صحت کا پہلا راز ہے اسی وقت جو خوراک اس کو دے رہے ہیں وہ بہت اہم ہے ۔ تازہ متوازن غذا کے ساتھ اچھی سوچ اور اچھی تربیت اور صحبت دیں ۔ بچہ محبتیں اور خوشیاں بانٹتے ہوۓ دیکھے گا تو کھلکھلاتا رہے گا یہی صحت مند زندگی کی علامت ہے ۔ کوشش کریں کہ بچوں روز مرہ زندگی سنت مبارکہ کے مطابق ہو جیسے صبح کا ناشتہ کرنا ، دوپہر میں سلاد کا استعمال اور رات کا کھانا لازمی کھانا اور خاص طور پر کھانا گھر پر پکائیں ۔ جاگنے کام کرنے اور سونے کی باقاعدہ روٹین بنائیں ۔ ہر کام کا وقت مخصوص کریں تو ایسے بچے میں باقاعدگی پیدا ہوگی ۔

رشنا اختر : بچوں میں چند واضح علامت جن سے معلوم ہو جائے کہ بچہ امراض قلب میں مبتلاء ہے ۔

ڈاکٹر انعم پری : اس سوال کا جواب دینے سے پہلے چاہوں گی کہ آپ لوگ واضح طور پر سمجھ لیں کہ بچوں میں دل کا مرض ہوتا کیا ہے ۔ دل کے چار خانے ہوتے ہیں جنہیں ہم چیمبرز آف ہارٹ کہتے ہیں ان کو چار الگ الگ والوز جوڑتے ہیں یعنی کھڑکیاں جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ ہیں جو خون کا بہاؤ ایک چیمبر سے دوسرے چیمبر میں لے جانے کا ذریعہ بنتے ۔ دل کی شریانیں ہوتی ہیں بڑی بڑی سی خون سپلائی کرتی ہیں آرٹریز جنہیں ہم کورنریز کہتے ہیں ۔ پوائنٹ یہ ہے کہ بچوں میں دل کے اٹیک نہیں ہوتے دل کا سوراخ ہو سکتا ہے یہ سوراخ اپنی نوعیت کے حساب سے چھوٹا یا بڑا ہوسکتا ہے ۔ بچوں میں دل کے مسائل پیدائش کے وقت ہی پتہ چل جاتے ہیں جیسے بچہ دیر سے رویا ۔ بچے کو بار بار کھانسی یا چیسٹ انفیکشن ہوتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ بچہ امراضِ قلب میں مبتلاء ہے ہوسکتا ہے والدین میں سے کوئی امراض قلب میں مبتلاء ہو یا بچہ ابنارمل ہارٹ کے ساتھ پیدا ہوا ہے یا پھر بچہ دائیں طرف دل کے ساتھ پیدا ہوا ہے لیکن ان ساری بیماریوں کی خاص علامت جن کا شروع میں یا پیدائش کے وقت پتہ نہیں چلتا ان میں تھوڑا سا بھی کام کرنے پر سانس چڑھنا ، بار بارچھاتی کا انفیکشن کھانسی ، بلغم وغیرہ ہو جانا یا تھوڑے ہی عرصے بعد تھوڑا سا کام کرنے کے بعد دل پر دباؤ پڑنا اور پورے جسم اور ناخنوں کا نیلا ہو جانا اور بار بار بے ہوش ہو جانا۔ ان تمام صورت حال میں خطرہ ہوتا ہے اور فورآ دل کے ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔ بچوں کے ڈاکٹر بھی ان چیزوں کو سمجھتے ہیں کہ وہ جب سٹیتھ یعنی دھڑکن چیک کرنے والا آلہ کے ذریعے چیک کرتے ہیں تو باقاعدہ ہارٹ بیٹ کی بجاۓ مرمر یعنی دل کی دھڑکن باقاعدہ ردھم میں سنائی نہیں دیتی ۔ اس لیے لازم ہے کہ جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

رشنا اختر : سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

ڈاکٹر انعم پری : یہ تو آپ نے میرے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ مجھے سفر کرنے کا بہت زیادہ شوق ہے لیکن بدقسمتی سے یا قسمت سے یہ میں نہیں جانتی میرا پروفیشن ایسا ہے کہ میں ابھی تک زیادہ سفر کر ہی نہیں پائی ۔ مجھے بہت شوق تھا کہ کم عمری یعنی تیس کو کراس کرتے ہوۓ ہی اسپیشلائزیشن کر لوں تو اسی میں مصروف رہی ہوں اور کتابی کیڑا رہی ہوں ۔ بہت کم جگہوں کو وزٹ کیا ہے جن میں مری اسلام آباد نتھیاگلی یہی دو چار مقامات ہیں ۔ باقی اب اسپیشلائزیشن مکمل ہے تو ان شاءاللہ ارادہ ہے کہ دنیا گھومنی ہے ۔

رشنا اختر : سوشل میڈیا پر صحت کے متعلق بتاۓ گئے ٹوٹکوں کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی کیونکہ زیادہ تر عوام شارٹ کٹ کے چکر میں انہی پر عمل بھی کرتی ہے ۔

ڈاکٹر انعم پری : میں ان کے خلاف بھی نہیں ہوں اور ان کے حق میں بھی نہیں ہوں ( ہاہاہاہا) کئی دفعہ پرانے زمانے کے ٹوٹکے کار آمد بھی تو ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اپنی سیلنگ کو بڑھانے کے لیے غلط ادویات ، کاسمیٹکس جن میں اسٹیرائیڈ بہت زیادہ ہوتا ہے خاص طور پر کریمز وغیرہ جن کا مقصد صرف ویڈیوز وائرل کرنا ہوتا ہے اور ہربل کے نام پر بغیر تحقیق کے جڑی بوٹیاں فروخت ہوتی ہیں وہ سراسر جرم ہے ۔ پاکستانی عوام جذباتی باتوں میں بہت جلد آجاتی ہے اور دھوکہ کھا جاتے ہیں اس لیے ان چیزوں سے پرہیز کریں ۔

رشنا اختر : آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

ڈاکٹر انعم پری : زندگی بہت خوب صورت چیز ہے جس میں کچھ بھی ہو جاۓ تو کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اصل میں زندگی امید کا نام ہے جو کہ انسان کو تخلیق کر کے اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا میں اتار لیا ہے تو میرا خیال ہے کہ جو چیز تخلیق ہی آپ کے لیے کی گئی ہے تو اسے انجوائے کرنا چاہیئے ۔

رشنا اختر : آپ نے حال ہی میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی پہلی ادبی کانفرنس میں شرکت کی تو کیسا تجربہ رہا ؟

ڈاکٹر انعم پری: انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ یونیٹی بیسڈ ہے اور یہ لکھاریوں کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں شرکت کرکے بہت خوشی ہوئی بالکل فیملی کی طرح لگا جب آپ کو بیٹی کہہ کر پکارا جائے ۔ زبیر انصاری صاحب صرف بیٹی پکارتے ہی نہیں بلکہ مانتے بھی ہیں ۔ ثمینہ آپا سے ہمیشہ مثبت وائبز ملی ہیں ۔ ریحانہ آپا، فاطمہ شیروانی سے ہمیشہ محبت ملی ہے ۔ رشنا آپ سے مل کر بہت اپنائیت کا احساس ہوتا ہے ۔ ہما کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے ۔میں پوری کوشش کروں گی کہ میں اپنی خدمات پیش کرتی رہوں ۔

رشنا اختر : نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

ڈاکٹر انعم پری: نئے یا پرانے ساز تو بننے کا نام ہے ۔ لکھتے جائیں آپ کوشش کریں سر لگانے کی ساز بنتا جاۓ گا لیکن ایک بات کا ہمیشہ خیال رکھیں جو بھی لکھیں احتیاط سے لکھیں آپ کا لکھا ہو کسی کی زندگی میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی چھوٹا یا بڑا معاملہ بدل سکتا ہے ۔ سچ کا ساتھ دیں غلط کے لیے آواز اٹھائیں ۔ بے جا حمایت ماڈرن ازم کی ، غلط چیزوں کی یا ایسی چیزوں کی جو کسی کے لیے نقصان دہ ہو بالکل نہ کریں ۔ لکھنا ایک ذمہ داری ہے اس کو ذمہ داری سمجھ کر نبھائیں گے تو بہترین ہوگا اور معاشرے کے لیے مفید ہوگا ۔

رشنا اختر : معزز قارئین امید ہے آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *