نازیہ کنول نازی

نازیہ کنول نازی


السلام علیکم معزز قارئین! انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر میزبان رشنا اختر نئے انٹرویو کے ساتھ حاضر ہے ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں نازیہ کنول نازی صاحبہ جو کہ قومی و بین لاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار ہیں اور وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا ، برف کے آنسو ، جھیل کنارہ کنکر شب ہجر کی پہلی بارش جیسے مشہور ناولز لکھ کر قارئین کے دلوں میں گھر کر چکی ہیں ۔ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے ان سے مزید گفتگو کرتے ہیں ۔

رشنا اختر: السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟
نازیہ کنول نازی وعلیکم السلام! الحمدللہ میں ٹھیک ہوں ۔

رشنا اختر: باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب ہوا ؟

نازیہ کنول نازی: میں بہت چھوٹی سی تھی پیاری رشنا جب مجھے کہانیاں لکھنے کا جو ہے وہ خیال آیا اور اس کی بنیادی وجہ جو تھیں وہ میری امی تھیں ہم جب رات کو سونے لگتے تھے تو میری امی بچوں کے جو چھوٹے چھوٹے میگزین ہوتے تھے ان میں بچوں کی کہانیاں آتی تھیں تو وہ کہانیاں ہمیں پڑھ کے سناتی تھیں پھر ہم سوتے تھے۔ میں جب وہ کہانیاں سنتی تھی تو میرا دل چاہتا تھا میں سوچتی تھی یہ کون سی دنیا کے لوگ ہیں جو کہانیاں لکھتے ہیں؟ یہ کہاں رہتے ہوں گے؟ کیسے دکھتے ہوں گے؟ کیا میں بھی کبھی ان کی جیسی بن سکتی ہوں ؟ اس طرح کے خیالات آتے تھے دل کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ یہ خواہش خواب بنتی گئی اور میں آگے سے آگے بڑھتی گئی۔ میں ان دنوں شاید تیسری یا چوتھی جماعت میں جب میں نے لکھنا شروع کیا اور مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ مجھے اس وقت ٹھیک سے لکھنا بھی نہیں آتا تھا لفظ صحیح لکھنے نہیں آتے تھے ۔ میں غلط ایڈریس پر چیزیں بھیجتی رہتی تھی غلط سلط لکھ کے جیسے بھی آتا تھا اپنی کاپی کے صفحے پھاڑ کے اس کے اوپر لکھ کے اور جو پاکٹ منی کے پیسے ہوتے تھے ان سے لفافہ خرید کے اس کے اوپر غلط سلط ایڈریس لکھ کے تو وہ بھیجتی رہتی تھی جو شاید کبھی صحیح منزل تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ غالبا 2000 یا اس کے بعد کی بات ہے کہ روزنامہ جنگ کے ایک صحافی تھے افسر خان ہزاروی ان تک میرا کوئی خط پہنچا کوئی تحریریں تھیں پہنچی تو وہ انہوں نے شائع کر دیں جب وہ شائع ہوئی تو پھر میری خوشی کا عالم دیکھنے والا تھا میں بھی اپنے اپ کو اسی دنیا کا باسی سمجھنے لگی تھی۔ جس کے میں خواب دیکھتی تھی وہ چیز میرے لیے اتنی زیادہ موٹیویشن کا باعث بنی کہ پھر یہ سفر رکا نہیں آگے سے آگے بڑھتا گیا۔
اس روز ہمارے گھر کڑھی بنی تھی اور مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی تھی مگر جب سنڈے میگزین آیا اس میں اپنی تحریر دیکھی تو ساری بھوک خوشی سے اڑ گئی۔
روزنامہ جنگ کے بعد روزنامہ خبریں میں میری تحریریں پھر تواتر کے ساتھ شائع ہوتی گئیں تو اور مضبوطی آتی گئی دل کے اندر کہ نہیں یہ سفر رکنا نہیں چاہیئے بڑھنا چاہیے۔ اس کے بعد ماہ نامہ جواب عرض کے اندر میری پہلی کہانی شائع ہوئی “معصوم محبت ہار گئی” جو کہ قارئین نے بہت پسند کی پھر غزلیں شائع ہونے لگیں پھر اسی دوران میرے ابو جو ہے وہ آپی کی شادی کے بعد ہمارے گھر میں الحمدللہ ٹی وی تھا یعنی کہ سب چیزیں تھیں لیکن میرے ابو اپنے لیے ریڈیو لے کے آئے تھے ان کو شوق تھا ریڈیو کا تو وہ میں نے سننا شروع کیا ۔ اس کے پروگرامز کے اندر لکھنا شروع کیا ۔ حوصلہ افزائی ملی ان لوگوں نے بہت پیار دیا تو ریڈیو میری زندگی کا ایک بہت ہی لازمی حصہ بن گیا اس طرح سے یہ سفر شروع ہوتا ہوتا کئی ملکوں تک پھیل گیا پھر دوسرے ملکوں کے میڈیا تک رسائی ہو گئی اور یہ جو چیزیں ہیں یہ بڑھتی گئیں ۔ کامیابیاں ملتی گئیں پھر پیچھے پلٹ کے نہیں دیکھا۔

رشنا اختر: عصر حاضر میں ادبی محافل کیوں ضروری ہیں ؟

نازیہ کنول نازی: عصر حاضر میں ادبی محافل اس لیے ضروری ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ادب جو ہے اس کا وجود جو ہے وہ مٹتا جا رہا ہے ہماری نوجوان نسل کو دیکھ لیجئے وہ اپنی اقدار اپنی اخلاقیات اور رہن سہن سب بھولتے جا رہے ہیں جو ہمارے پیچھے لوگوں کا رہا ہے وہ ناپید ہوتا جا رہا ہے اج کی نسل میں اخلاقیات کا جنازہ نکلتا جا رہا ہے لوگ اپنے اقدار کو اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں تو ایسے میں اگر ادبی محافل ہوں گی تو شاید لوگوں کے جو ذہن ہیں ان کی بہترین پرورش ممکن ہو سکے گی اور ان کو اسی راستے پر جو راستہ ہمارے آبا و اجداد کا تھا اس راستے پر گامزن رکھنے میں مدد ملے گی۔

رشنا اختر: کوئی ایسا ناول جو بہت دل سے لکھا ہو اور بہت پسند ہو؟
نازیہ کنول نازی: جی میرے ادبی سفر کے اغاز میں میں نے ایک ناول لکھا تھا
“اے مزگان محبت “
یہ ناول جب میں لکھ رہی تھی تو ساتھ ساتھ بہت زیادہ رو بھی رہی تھی میری امی نے جب مجھے اس طرح سے روتے ہوئے دیکھا تو ڈانٹتے ہوئے بولی کہ ایسا ناول لکھ کیوں رہی ہو جس کے لیے تمہیں اتنا رونا پڑے اگر تم لکھتے ہوئے اتنا رو رہی ہو تو اسے پڑھتے ہوئے لڑکیاں کتنا روئیں گی اور یہی ہوا اس ناول کو پڑھتے ہوئے پڑھنے کے بعد لڑکیاں بہت روئی تھیں یہی وہ ناول تھا جو ادب کی دنیا میں میری پہچان کا باعث بنا تھا یہی وہ ناول تھا جس نے مجھ پر کامیابیوں کے دروازے کھولے تھے اس کے بعد ایک اور ناول تھا جھیل کنارہ کنکر اور ہم کسی کا خواب تھے یہ دونوں ناول بھی بہت دل سے لکھے تھے اور بہت زیادہ پسند کیے گئے اج بھی جب لوگ مجھے ان دونوں ناولز کے حوالے سے پہچانتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے ہم کسی کا خواب تھے جو ناول تھا وہ ریشم ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا اور اس کے لیے بشرا مسرور نے خاص طور پر مجھے فون کر کے کہا تھا کہ میرے میاں خواتین رائٹرز کو رائٹر نہیں مانتے لیکن نازیہ اپ کے اس ناول نے انہیں اپنی سوچ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے اپ کے اس ناول کو بند کمرے میں پڑھتے ہوئے وہ بہت روئے ہیں اور پہلے دفعہ انہوں نے کہا ہے کہ اس لڑکی نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خواتین رائٹرز کو بھی اللہ نے بہت
قابلیت اور ہنر سے نوازا ہے معاوضے کے ساتھ ساتھ اس ناول پر اس وقت مجھےدو ہزار روپے انعام بھی ملا تھا۔

رشنا اختر: ادب معاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے یا تہذیب کی بقا کے لیے ؟

نازیہ کنول نازی : ادب معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی ضروری ہے اور تہذیب کی بقا کے لیے بھی ، بہت ساری ایسی رائٹرز ہیں جو کچھ غیر اخلاقی لکھتی ہیں لیکن ہمارے معتبر ادارے ان کو مسترد کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر ایسی تحریر شائع کریں گے تو اس سے معاشرے میں ایک غلط پیغام جاۓ گا ۔ ہماری نوجوان نسل اس سے غلط راستے پر چلے گی تو یہ معاشرے کی اصلاح ہے ۔ نئی نسل کو سیدھے راستے پر رکھنے کے لیے ادب آکسیجن کی طرح ہے لیکن افسوس کی بات ہے جب سے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور آیا ہے لوگ اصل ادب سے بہت دور ہوگئے ہیں ۔ پرنٹ میڈیا سے بہت دور ہوگئے ہیں اس سے نہ صرف جو اچھے لکھنے والے لکھاری ہیں ان کا نہ صرف استحصال ہوا ہے بلکہ جو معتبر ادارے ہیں ان کا بھی کبھی نہ پورا ہونے والا نقصان ہوا ہے ۔ اچھے رسائل کی بدولت ہماری نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں کی ذہنی راہنمائی ہو جاتی تھی لیکن اب زیادہ تر سوشل ایپس پر وقت ضائع کرتی ہیں ۔

رشنا اختر: کیا حکومتی سطح پر ادیب کی پذیرائی کے لیے ایک میڈل کافی ہے ؟
نازیہ کنول نازی: رائٹرز کو میڈلز کی ضرورت نہیں ہوتی ان کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے جہاں پر وہ معاشرے کے لوگوں کی آنے والی نسلوں کی راہنمائی کر سکیں ۔ جہاں تک میرا خیال ہے تو حکومتی سطح پر ادب کو اہمیت دی جاۓ اس کے مقام کو اہمیت دی جاۓ ۔ پرنٹ میڈیا کے معتبر ادارے کو عرصہ دراز سے ادب کی خدمت کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔ سوشل میڈیا پر اخلاقیات سے گرا ہوا مواد پڑھنے کو ملتا ہے اس کی روک تھام ہونی چاہیئے ۔ اصلاحی مواد ہونا چاہیئے جو ہماری نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں کی عملی زندگی میں کام آۓ اور وہ بہتر زندگی کی طرف لے کر جاۓ ۔

رشنا اختر: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
نازیہ کنول نازی: لوگوں کے بارے میں رشنا میری ہمیشہ اچھی رائے رہی ہے میں کسی کی اچھے برے کردار کی جو ہے وہ میں نے اس کا کوئی ٹیکہ نہیں لیا ہوا کہ میں کہوں کہ فلاں بندہ اچھا ہے یا فلاں برا ہے میں ہمیشہ سب کو اچھا ہی سمجھتی ہوں اور کہتی ہوں لیکن جو ہمارا موجودہ معاشرہ ہے نا یار اس میں ایک تو وہ اخلاقیات نہیں رہی جو پہلے لوگوں کے اندر تھی اور وہ کردار نہیں رہا لوگوں کا وہ سوچ نہیں رہی لوگوں کی وہ احساس نہیں رہا جو پہلے لوگوں کا ہوتا تھا ہمارا یہ معاشرہ میں سمجھتی ہوں ا اس کو نا بہت زیادہ ضرورت ہے ادب کی اور پچھلے زمانے کا جو ہمارا ایک میسج جاتا تھا ایک پیغام جاتا تھا تحریروں کے ذریعے اور ان کی اصلاح کرتا تھا اس کی بڑی اشر ضرورت ہے موجودہ جو معاشرہ ہے وہ گمراہی کا معاشرہ ہے جس طرف دھکیل دو سب کے سب اسی کنویں کے اندر جا گرتے ہیں۔

رشنا اختر: تاریخ ادب پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے ؟

نازیہ کنول نازی: یہاں تک اپ کا یہ سوال ہے کہ تاریخ ادب پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے تو ادب پر تاریخ کے یار اثرات ہی اثرات ہیں ۔ جب ہم تاریخ کھولتے ہیں تاریخ پڑھتے ہیں جو ہمارے بہت ہی نامور لوگ گزر چکے ہیں تاریخ کے میں ان کی زندگیوں کے بارے پڑھتے ہیں تو ہمارے اندر ایک تحریک بیدار ہوتی ہے کچھ کرنے کی کچھ بہت اچھا کرنے کی اور یہی ایک چیز ہوتی ہے جو انسان کو اگے سے اگے دھکیلتی ہے اور کچھ اچھا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

رشنا اختر: مشہور و معروف ڈائجسٹوں پر سینئرز لکھاریوں کا قبضہ ہے صرف انہی مشہور لکھاریوں کی کہانیاں ہی شائع ہوتی ہیں نئے لکھنے والوں کو بہت ہی کم موقع ملتا ہے ایسا کیوں ؟

نازیہ کنول نازی: اپ کا یہ سوال بالکل درست ہے رشنا کے مشہور و معروف ڈائجسٹوں پر سینیئر رائٹرز کا قبضہ ہے اصل میں سینیئر رائٹرز جو ہیں یار انہوں نے وقت گزارا ہے چیزیں لکھی ہیں لوگوں کے ذہنی اصلاح کی ہے انہیں پتہ ہے کس طرح کے موضوعات شائع ہوتے ہیں اور کس طرح کے موضوعات مسترد کر دیے جاتے ہیں تو ان کی کہانیاں لوگوں کے لیے ایک اصلاح کا پیغام ہوتی ہے انہیں جو ہے وہ اچھا انٹرٹین کرتی ہے جو نئے لکھنے والے ہیں بدقسمتی سے انہیں پتہ ہی نہیں ہے کس طرح کے موضوعات پہ قلم اٹھانا ہے ۔ کچھ نئے رائٹرز بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور اچھا لکھ بھی رہے ہیں ۔ انہیں میں تو ہمیشہ نئے آنے والوں کو بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتی ہوں اور یہ چاہتی ہوں کہ نئے لوگ آگے آئیں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میں کتنی مشکل سے جو ہے وہ اپنی نے جگہ بنائی ہے کتنی مشکل سے میں نے یہ مقام پایا ہے میں کبھی کسی کو ڈس ہارٹ نہیں کرتی اور میں ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتی ہوں نئے لکھنے والوں کی لیکن یہ ہے کہ سینیئر رائٹرز نے چونکہ ایک وقت گزارا ہے ادب کے ساتھ اس کو بہتر سمجھتی ہے تو اس لیے میرا خیال ہے معتبر ادارے ان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

رشنااختر: حکومت عوام الناس کے لیے مختلف معاشی سہولت کارڈ جاری کر رہی ہے ایسے میں کیا ایک ادیب جس نے ادب کی ترویج اور معاشرے کی اصلاح میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت صرف کیا ، کیا وہ ایک حکومتی کارڈ کا بھی حقدار نہیں ؟ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گی ؟

نازیہ کنول نازی: ہاں یہ جو ادیب ہے نا یار ہر زمانے میں اس کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ہے تو حکومت نے کہاں کارڈ جاری کرنا ہے ادیبوں کو ادیبوں کو تو کسی کھاتے کے اندر ہی نہیں رکھا جاتا بہت سارے ممالک ہیں جہاں اساتذہ اور ادیبوں کو ایک عزت ایک مقام ملتا ہے اور لوگ ان کی عزت اور قدر کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بہت ہی یعنی کہ بدقسمتی کی بات ہے ہمارے پاکستان میں ادیبوں کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاملہ نہیں ہے یہاں پر تو بہت نامور نام وہ سسکتے اور روتے اس دنیا سے چلے گئے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا تو ہمارے رائٹرز کے حالات جو ہے نا وہ بڑے خراب ہیں ان کو تو ان کی محنت کے مطابق معاوضہ بھی نہیں ملتا تو رائٹرز کو کارڑ کہاں سے ملے گا۔

رشنا اختر: اکثر رسالے ناولز تو لکھوا لیتے ہیں اور کافی مقبولیت بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن معاوضہ ادا کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیا شہرت پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے ؟

نازیہ کنول نازی: جی رشنا جہاں تک رسائل کی بات ہے تو وہ چاہے پاکستان کے ہوں یا انڈیا کے اس وقت ان کی جو سرکولیشن ہے سبھی نا پریشانی کا شکار ہیں پرنٹ میڈیا جو ہے وہ بہت پیچھے چلا گیا ہے سوشل میڈیا کے بعد اپ سوشل میڈیا پہ لوگ فری میں ناول پڑھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ خرید کے پڑھیں تو اس وجہ سے میرا خیال ہے رائٹرز کے معاوضے پر بھی اس کا اثر پڑا ہے کچھ جو ادارے ہیں جو اچھی شہرت نہیں رکھتے وہ بھی رائیٹرز کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں ان کی محنت کا معاوضہ ادا نہیں کرتے لیکن جو اچھے اور پرانے ادارے ہیں وہ ایسے نہیں کرتے دوسری طرف جو رائٹرز ہیں وہ بھی آپ دیکھیں نا کتنے مشکل حالات میں بچوں کے ساتھ لکھ رہی ہیں تو صرف شہرت پیٹ بھرنے کے لیے کافی نہیں ہے بہت محنت سے لکھا جاتا ہے تو اس کے لیے معاوضہ ضروری ہے اور اچھا معاوضہ بے حد ضروری ہے۔

رشنا اختر: ادب کا دنیا میں آپ کا کردار؟

نازیہ کنول نازی: الحمدللہ ثم الحمدللہ ادب کی دنیا میں میرا کردار ہمیشہ یہ رہا ہے کہ میں نے ہر نئے آنے والے کی حوصلہ افزائی کی ہے کبھی اپنی شہرت اور نام کا غرور نہیں کیا کبھی خود کو کوئی خاص چیز نہیں سمجھا میرا یہ ماننا ہے کہ رزق ہر کسی کو اپنے نصیب کا ملتا ہے اور کسی کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنے سے ہم چھوٹے نہیں ہو جاتے مجھ سے جتنا ہو سکتا ہے میں ہمیشہ ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کوئی نہیں بھی اچھا لکھتا پھر بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں تاکہ وہ مزید آگے چل کر اچھا لکھنے لگے اور میرے خیال سے تمام سینیئر رائٹرز کا یہی کردار ہونا چاہیے۔ آپ کا علم کسی کنویں کی طرح نہیں ہونا چاہیے کہ پیاسے کو چل کر اپ کے پاس آنا پڑے بلکہ ایسے بادل کی طرح ہونا چاہیے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں وہ برس پڑے۔

رشنا اختر: آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
نازیہ کنول نازی: میرے نزدیک اگر زندگی کو صرف ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے ” درد “

رشنااختر: کچھ نئے مشہور شعرا رومانوی شاعری کی آڑ میں بے ربط اور بے وزن شاعری سے مقبولیت حاصل کر چکے ہیں جبکہ یہی صورتحال نثر نگاری میں بھی دیکھی جا رہی ہے ۔ اس بے ہنگم ادب کے بارے کیا کہنا چاہیں گی ؟

نازیہ کنول نازی: جی رشنا جہاں تک اپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ کچھ نئے شعراء بے ربط اور بے وزن شاعری میں بھی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اج کل جو پڑھنے والے ہیں ان کا ذوق بھی کچھ ایسا ہی ہے لوگ اب تحریر کا معیار نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ جو لفظ ہیں وہ ان کے جذبات کی عکاسی کس حد تک کر رہے ہیں اور اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر جو نام نہاد شعراء یا رائیٹرز ہیں وہ شہرت حاصل کر رہے ہیں۔

رشنااختر: خواتین کا انڈیپینڈنٹ ہونا کیوں ضروری ہے ؟

نازیہ کنول نازی: خواتین کا انڈیپینڈنٹ ہونا اس لیے ضروری ہے کیونکہ جس معاشرے میں ہم خواتین رہ رہی ہیں وہ مردوں کا معاشرہ ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس میں مرد کو ہر گناہ کا حق حاصل ہے اور اختیار حاصل ہے لیکن کسی عورت کے دامن پر لگا ایک چھوٹا سا داغ بھی یہ معاشرہ برداشت نہیں کرتا یہ وہ معاشرہ ہے جس میں ایک عورت شادی کے نام پر اپنے ساتھ زندگی بھر کا ضرورت زندگی کا سامان بھی لاتی ہے اس کے باوجود صرف دو وقت کی روٹی کے عوض نہ جانے کتنی ماریں کھاتی ہے کتنی ذلالت اٹھاتی ہے کتنی خدمتیں کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نصیب نہیں ہوتی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ عزت و آبرو سے پالنے کے لیے مردوں کے اس معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے لیے میری نظر میں عورت کا انڈیپینڈنٹ ہونا بے حد ضروری ہے۔

رشنا اختر: خود اعتمادی کے نام پر زبان درازی عام ہوگئی ہے چاہے وہ کوئی بھی شعبہ زندگی ہو اس کا ذمہ دار کون ہے کیونکہ ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے ؟ آپ اس بارے میں کیا کہیں گی ؟

نازیہ کنول نازی: خود اعتمادی کے نام پر زبان درازی تو عام ہونا ہی تھی رشنا کیونکہ جیسے رائٹرز اج کل سوشل میڈیا کے اوپر اپ کو بھی دیکھنے کو مل رہے ہوں گے جس طرح سے وہ تحریریں لکھ رہے ہیں اور ناپختہ ذہنوں کی برین واشنگ کر رہے ہیں اس کا یہ نتیجہ تو نکلنا ہی تھا انتہائی واہیات تحریریں جس کا کوئی مقصد نہیں کوئی مطلب نہیں اور پڑھنے والی لڑکیاں واہ واہ کر رہی ہوتی ہیں انہیں یہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہوتا کہ ان کے ذہنوں کے ساتھ خوابوں کے نام پر کیسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس معاشرے کے ادیب سستی شہرت کے عوض نہ پختہ ذہنوں میں شر پھیلائیں گے وہاں یہ سب تو ہوگا اور اس کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے اچھے رسائل اور اچھی رائٹرز کو پیچھے دھکیل کر اس طرح کے نام نہاد رائٹرز کو اگے انے کا موقع فراہم کیا۔

رشنااختر: انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی ؟

نازیہ کنول نازی: انٹرنیشنل یونین اف رائٹر میری نظر کے اندر ایک ایسی بیٹھک ہے ایک ایسا چوپال ہے جہاں تمام اچھی لکھنے والی لکھاری بہنیں ایک خاندان کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اپنی بے حد مصروف زندگی کی وجہ سے میں زیادہ تو نہیں دیکھ پاتی مگر جتنا کچھ میری نظر سے گزرتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے میں اس یونین کے تمام ممبرز کو دل سے سراہنا چاہوں گی کہ ان کا یہ قدم بے حد اچھا ہے انٹرنیشنل یونین اف رائٹرز حقیقی معنوں میں ادیبوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔

رشنا اختر: لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
نازیہ کنول نازی: لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام !
زندگی بہت مختصر ہے سفر اخرت میں نہ ہمارا کوئی حوالہ کام ائے گا نہ شہرت نہ دولت تو پھر غرور کس بات کا کوشش کیجئے کہ اپ کا ہر لمحہ ایک شمع کی طرح گزرے جو خود تو جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے یقین جانیے دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ( آمین)
معزز قارئین امید ہے آپ انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اپنی راۓ کا اظہار ضرور کیجئے ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *