⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
ادب، ادیب اور آداب
میں نے جتنا سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی اور بانو قدسیہ کو پڑھا اور سمجھا، اسی بنیاد پر ان کے افکار کی ترجمانی کی جسارت کر رہا ہوں۔ اگر کہیں کوئی لغزش ہو جائے تو قارئین سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ احساس، سچائی اور سماجی شعور کا آئینہ ہے۔ یہ آئینہ کبھی چمکدار ہوتا ہے، تو کبھی ایسا گرد آلود کہ سچ دکھا تو دیتا ہے، مگر چبھنے بھی لگتا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اس آئینے کو معاشرے کے چہرے پر بے رحمی سے تھام دیا۔ ان کا سچ برہنہ، تلخ اور بے لاگ تھا۔ وہ کہتے تھے، “اگر میرے افسانے فحش ہیں تو یہ سماج فحش ہے۔”
منٹو نے ادب کو جھنجھوڑنے کا ہنر سکھایا، چاہے معاشرہ کتنا ہی خفا کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس احمد ندیم قاسمی نے سچ کو تہذیب کے پیرائے میں بیان کیا۔ ان کا قلم شائستگی سے سچ لکھتا تھا، تاکہ قاری کا ضمیر بیدار ہو، نہ کہ صرف چونک جائے۔ وہ ادب کو صرف عکاس نہیں، رہنما سمجھتے تھے۔ بانو قدسیہ نے ادب کو روح کی آواز قرار دیا۔ ان کے نزدیک لفظ محض اظہار نہیں، نیت کا عکس ہیں۔ ان کا ادب قاری کو شرمندہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے باطن میں خاموش ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ یہ تینوں ادیب سچ کے قائل تھے، مگر ہر ایک کا اسلوب جدا تھا.
منٹو کا سچ تیز دھار۔
قاسمی کا سچ شائستہ۔
بانو کا سچ روحانی۔
آج جب اظہار کی آزادی بے لگام ہو رہی ہے، ہمیں سچ اور فحاشی، ادب اور تحریر، اثر اور اشتعال میں فرق سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ادب کا کام صرف چونکانا نہیں، سوچ دینا ہے۔ صرف دکھانا نہیں، نکھارنا ہے۔ منٹو نے سچ لکھنے کا حوصلہ دیا، قاسمی نے اس حوصلے کو وقار بخشا، اور بانو آپا نے اسے روح کی گہرائیوں سے جوڑ دیا۔ ادب اگر سماج کو بہتر نہ بنائے — تو وہ صرف الفاظ کا شور ہے، تاثیر نہیں۔
