آسمان کا بوجھ — دبئی ایئر شو اور دنیا کے المناک حادثات

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

آسمان کا بوجھ — دبئی ایئر شو اور دنیا کے المناک حادثات

ہوابازی کی تاریخ انسانی جرأت، ذہانت اور تکنیکی ارتقاء کا درخشاں باب ضرور ہے، مگر اس کے صفحات پر ایسے سیاہ دھبے بھی موجود ہیں جو یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ آسمان کبھی مکمل طور پر انسان کا فرماں بردار نہیں بنا۔ دبئی ایئر شو 2025 میں بھارتی طیارے تیجس کا حادثہ انہی تلخ یادوں میں ایک تازہ اضافہ ہے۔ شو کے دوران طیارے کا اچانک گھوم کر بے قابو ہونا، پھر زمین سے ٹکرا کر شعلوں میں بدل جانا، اور اس کے ساتھ ہی فضا میں چھا جانے والی وہ خاموشی — جو صرف بڑے سانحات کے بعد محسوس ہوتی ہے — یہ سب لمحے حاضرین کے ذہنوں میں دیر تک نقش رہیں گے۔ اس حادثے میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ، ونگ کمانڈر نمنش سیال کی حادثاتی موت نے ہر دل کو لرزا دیا۔ سرحدیں اپنی جگہ، مگر انسانی جان کا احترام کسی نقشے کا پابند نہیں ہوتا۔ ایک پائلٹ، جو ہر روز اپنی جان کو آسمان کے سپرد کرتا ہے، اس کی موت کسی ایک قوم کا نہیں، پوری انسانی برادری کا نقصان ہوتی ہے۔دبئی کا یہ سانحہ منفرد نہیں۔ دنیا کے بڑے ایئر شوز اس سے پہلے بھی ایسی آزمائشوں سے گزرتے رہے ہیں۔ 16 ستمبر 2011 کو امریکہ کی نیواڈا ریاست میں رینو ایئر ریسز کے دوران P-51 Mustang طیارہ Galloping Ghost تماشائیوں میں جا گرا۔ چند ہی لمحوں میں خوشی کا منظر قیامت خیز چیخوں میں بدل گیا اور 11 افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ امریکہ جیسے ملک میں، جہاں ہوابازی کا ہر معیار دنیا کے لیے نمونہ سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی F-16 اور F/A-18 جیسے جدید طیارے مظاہروں کے دوران گر چکے ہیں۔ جون 2016 میں کولوراڈو کے شو میں F-16 کا حادثہ پیش آیا، جبکہ جولائی 2007 میں ورجینیا میں F/A-18 ہارنیٹ مظاہرے کے دوران تباہ ہوا۔ یہ واقعات ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، ایک معمولی تکنیکی خرابی یا زاویے کی ذرہ بھر غلطی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یورپ بھی ایسے سانحات سے محفوظ نہیں رہا۔ 30 اگست 2009 کو پولینڈ کے رادوم ایئر شو میں دو TS-11 Iskra طیارے فضا میں ٹکرا گئے اور دونوں پائلٹس ہلاک ہوگئے۔ 20 اگست 2011 کو سلوواکیہ میں MiG-29 مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوا، جبکہ ہنگری میں 2001 کے ایئر شو کے دوران L-39 Albatros کا حادثہ اسی تلخ سلسلے کی ایک اور کڑی تھا۔ تربیت، مہارت اور تجربہ اپنی جگہ، مگر آسمان ایک لمحے کی خطا کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ روس اور اس کے سابق اتحادی ممالک کی مثالیں بھی کم نہیں۔ 30 اگست 2009 کو ہی لتھوانیا میں روسی SU-27 ایئر شو کے دوران گر گیا۔ 27 جولائی 2002 کو یوکرین کے شہر لویو کے ایئر شو میں دنیا کا بدترین ایئر شو حادثہ پیش آیا، جب SU-27 تماشائیوں پر جا گرا۔ 77 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ الجزائر میں بھی 2010 اور 2014 کے دوران MiG-29 اور SU-30 طیارے مظاہروں میں تباہ ہوئے۔ رفتار اور طاقت کے یہ شہکار طیارے لمحوں میں خاک ہو گئے اور آسمان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ صرف بہادر نہیں، بے رحم بھی ہے۔ ان تمام مثالوں کا مقصد دبئی کے حادثے کی سنگینی کو کم کرنا نہیں بلکہ اسے اس بڑے عالمی تناظر میں رکھ کر دیکھنا ہے، جس کے بغیر ایئر شوز کی حقیقت پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ ایئر شوز اب صرف تکنیکی مظاہرے نہیں رہے، بلکہ قومی وقار، دفاعی سفارت کاری اور تجارتی مقابلے کی علامت بن چکے ہیں۔ ممالک اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے جس حد تک خطرناک manoeuvres کرتے ہیں، وہ انسانی جان کے تحفظ کی روایتی حدود سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انداز واقعی ضروری ہے؟ کیا ایک پائلٹ کی زندگی سے بڑی کوئی نمائش ہو سکتی ہے؟ کیا دنیا کو اس شعبے میں ایک نیا عالمی ضابطہ نہیں بنانا چاہیے؟میرے نزدیک اس سانحے کا اصل پیغام یہی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں انسان کی جان سب سے قیمتی ہے۔ طیارے دوبارہ بن سکتے ہیں، ٹیکنالوجی بہتر ہو سکتی ہے، سسٹم اپ گریڈ ہو سکتے ہیں، مگر ایک پائلٹ — جو ہزاروں گھنٹوں کی تربیت اور بے شمار خطرات کے بعد آسمان کا اعتماد حاصل کرتا ہے — وہ دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے دبئی کا حادثہ صرف افسوس نہیں، غور و فکر بھی چاہتا ہے۔ ہم ونگ کمانڈر نمنش سیال کی حادثاتی موت پر غمزدہ ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دعاگو ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے پائلٹس ہمیشہ اللہ کی امان میں رہیں۔ ایئر شوز آتے رہیں گے، طیارے اڑتے رہیں گے، مگر یہ حادثات ہمیں یاد دلاتے رہیں گے کہ آسمان کا بوجھ کبھی ہلکا نہیں ہوتا۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *