سینے سے لگا کر زخموں کو مقتل سے نکل کر آئے ہیں
مت چھیڑنا ہم دیوانوں کو ہم آگ میں جل کر آئے ہیں
اک درد کہ جس کی لہروں نے تھا خاک کیا نابود کیا
اک زخم کہ جس کی ٹیسوں کی شدت سے پگھل کر آئے ہیں
اندر کی خلش ہونٹوں پہ میرے آنے کو تڑپتی رہتی ہے
کیا ان سے کروں فریاد جو خود کانٹوں پر چل کر آئے ہیں
اک ہنستا بستا گلشن تھا اک ہنستی بستی نگری تھی
پر آج وہاں سناٹاہے ہم جس سے دہل کر آئے ہیں
تھی رونق ساری بستی میں اک سانس کی ڈوری سے قائم
جب سانس گیا تو وحشت کے عفریت نکل کر آئے ہیں
جو لوگ میری خاموشی کے اسرار کو پانے نکلے تھے
ان بےدردوں کے جیون میں کچھ درد مچل کر آئے ہیں
کچھ اول صبح کی خاموشی کچھ شام کا ظالم سناٹا
جتنے سنگین مسائل تھے سب امبر حل کر آئے ہیں
-
عظمیٰ رحمٰن ہاشمی ایک شاعرہ ہیں۔ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔پیشے کے اعتبار سے گریڈ16کی ہائی اسکول ٹیچر ہیں۔آپ کا ایک شعری مجموعہ لمحات کرب کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔شاعری کے ساتھ ساتھ آپ ایک مضمون نگار بھی ہیں ۔آپ مختلف سماجی پہلوؤں پر لکھ چکی ہیں۔ آپ کے مضامین بہت سے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔بچوں کے ادب کے حوالے سے بھی آپ نے کافی کام کیا۔ماہنامہ پھول اور ماہنامہ الف نگر میں آپ کی کہانیاں اور نظمیں شائع ہوئیں ۔ آپ نے سوشل میڈیا پر ہونے والے ادبی مقابلوں میں کئی ایوارڈز حاصل کیے۔کچھ عرصہ اپنی کنیت "ام حذیفہ"سے بھی لکھتی رہیں ۔ آپ کا شعری مجموعہ بھی اسی نام سے ہے ۔بی بی سی لندن کی اردو سروس میں ایک طویل عرصہ علاقائی مسائل کے حوالے سے آپ کی تحریریں شامل ہوتی رہیں۔وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں آپ کی زندگی کی کہانی آپ کی اپنی آواز میں نشر ہوئی۔ پروگرام میں سامعین نے کالز کرکے آپ کے انداز تحریر پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
