تھکی ہوئی ہوں، مگر ہاری نہیں
میں لہجوں سے تھکی ہوئی ہوں
محبت کی اک بول کو ترس جاتی ہوں
کوئی دیکھ لے مجھے ہنس کر
تو دل کے زخم بھی مسکاتے ہیں
خامشی میرے ساتھ چلتی ہے
لفظ چپ چاپ آنکھوں سے بہتے ہیں
جو کہنا تھا، وہ کہہ نہ سکی
اک چُپ ہے جو ہر پل کہتی ہے
کبھی خود سے باتیں کرتی ہوں
کبھی آئینے سے نظریں چراتی ہوں
ایک خالی پن ہے میرے اندر
جسے ہر روز ہنسی سے چھپاتی ہوں
وقت کے ساتھ کچھ خواب بکھر گئے
کچھ خواہشیں، خاموشی میں مر گئیں
پھر بھی دل کہتا ہے چپ نہ ہو
شاید یہ راہیں، کل سنور جائیں
تھکن بھی ہے، خامشی بھی ہے
پر دل میں کہیں ایک روشنی بھی ہے
جو ہر رات مجھ سے وعدہ کرتی ہے
کہ اندھیری رات کے بعد سحر بھی ہے
کاش کوئی آ کے چپکے سے کہے…
“یہ تھکن عارضی ہے، تُو ہار مت مان
خواب بکھرے سہی، پر وقت آئے گا
جب تُو خود میں پھر سے نکھر جائے گی”
