صرف تم ہی نہیں بدلے


صرف تم ہی نہیں بدلے
کہ ہر شے کی طبیعت میں
عجب سا اک تغیر ہے
نہ پہلے جیسا موسم ہے
نہ پہلے کی طرح
پیپل کے پیڑوں پر
پنچھی شام سے پہلے
کوئی نغمہ ہی گاتے ہیں
نہ پہلے کی طرح
چاند آسماں سے دیکھتا ہے
اور ہنستا ہے
نہ پہلے کی طرح
ہوا کی انگلیاں
آسماں پر
تمھارا نام لکھتی ہیں
نہ میں اب پہلے جیسا ہوں
صرف تم ہی نہیں بدلے ۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *