سوچ در سوچ میری خواب اترتے ہی رہے

سوچ در سوچ میری خواب اترتے ہی رہے
تیری یادوں کے کئی چاند پگھلتے ہی رہے

رات ہولے سے سرکتی رہی سر سے میرے
پر تیرے خواب میری آنکھ میں جلتے ہی رہے

زندگی بھر کا کوئی ساتھ نہیں دنیا میں
کیسا دستور ہے کچھ لوگ بچھڑتے ہی رہے

رات جب چاند اتر آیا مرے آنگن میں
تارے آکاش پہ پلکوں کو جھپکتے ہی رہے

آبلہ پائی کا دکھ تھا نہ مسافت کی تھکن
سوئے منزل یونہی چپ چاپ سے چلتے ہی رہے

اک کہانی ہی رہی دنیا میں ہر دم زندہ
یہ الگ بات ہے کردار بدلتے ہی رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *