دل کی چھپی صدا
خاموش چیخیں دل کی گہرائیوں میں چھپی ہیں
آنکھوں میں ٹوٹے خوابوں کی روشنی لٹتی ہے
یادوں کا بوجھ اٹھا کے دل لرز اٹھتا ہے
چپ کی زنجیر میں گم رہ کر صبر کرتی ہوں
فرحت ہوں میں، پر تنہائی نے مجھے گھیر رکھا
مدھم روشنی میں بجھے چراغ کی گواہی ہے
وہ خواب سا شخص اب حقیقت میں نہیں رہا
بچھڑ کے وہ لمحے صرف سکوت دے گئے ہیں
ہر موڑ پر امید کی راہیں خالی دکھائی دی
اب شکست خوردہ دل صبر کی صدا سناتا ہے
یادوں کی راکھ میں چھپی میری تنہائیاں ہیں
خوابوں کے جسم پہ اب بھی درد کی چھاپ ہے باقی
