پھر یوں ہوا کہ
پھر یوں ہوا کہ دل میں خزاں اترنے لگی
خاموشیوں کی راہ سے جاں گزرنے لگی
آنکھوں میں جم گیا تھا کوئی ساتھ چلنے والا
پھر اک ہوا چلی، وہ دھواں بکھرنے لگی
باتیں تو رہ گئیں تھیں لبوں کی دہلیز پر
پر لفظ سو گئے، سانس بھی ٹھہرنے لگی
اک رشتہ تھا، چراغ تھا، کوئی امید تھی
لیکن وہ روشنی بھی ہوا سے ڈرنے لگی
کچھ فاصلے تھے جن کی کوئی سمت ہی نہ تھی
کچھ راہیں تھیں جو بے وجہ بچھڑنے لگیں
پھر یوں ہوا کہ ہم بھی مسافر سے ہو گئے
اور زندگی کسی اور موڑ پر مڑنے لگی
