اس کے خیال میں دل بہک گئے
اس کے خیال میں دل بہک گئے — ہائے کیا کہنے
آنکھوں کی دنیا بھی سنور گئی — ہائے کیا کہنے
چاندنی راتیں بھی خوشبو سے مہک رہی ہیں
ستارے بھی دل کے ساتھ جھلک گئے — ہائے کیا کہنے
لبوں پہ مسکان خودبخود آ گئی ہے
یاد اُس کی دل میں بسا گئی — ہائے کیا کہنے
راستے سب خوشبو میں ڈوب گئے ہیں
قدم قدم پر پھول بھی جھوم گئے — ہائے کیا کہنے
ہوا بھی اُس کا پیغام لے کر چلتی ہے
ہر منظر، ہر رنگ حسین ہو گئے — ہائے کیا کہنے
انتظار کی گھڑیاں خوشی سے بھر گئی ہیں
دل کے ہر ساز نے محبت بجا دی — ہائے کیا کہنے
اک لمحہ وہ آئے تو ہر دل روشن ہو جائے
چہرے سب روشنی سے بھر گئے — ہائے کیا کہنے
پھول بھی اُس کی یاد میں مہک اٹھے ہیں
دھوپ بھی اُس کے قدموں میں ڈھل گئی — ہائے کیا کہنے
ہر شعر میں بس اُس کا ذکر آیا
غزل اور میرے لفظ سنور گئے — ہائے کیا کہنے
