بدگمانی

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

” بدگمانی “

ہمارے معاشرے کی بنیاد بھائی چارے، حسن ظن،عدل و انصاف، اعتماد جیسے ستون پر کھڑی ہے۔ یہ اوصاف ہم انسانوں میں محبت پیدا کرتے ہیں اور اسی سے معاشرہ خوبصورتی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اگر یہ اوصاف ختم ہو جائیں تو معاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے برائیاں جنم لیتی ہیں اور ان برائیوں میں سے ایک برائی ” بدگمانی “ بھی ہے۔
بدگمانی سے مراد بغیر تحقیق کے کسی انسان کے لیے اپنے دل میں کینہ و بغض رکھنا اور اس کے اچھے فعل کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھںا۔ بدگمانی ایک ایسی آگ ہے جو بہت سے رشتوں کو نیست و نابود کردیتی ہے۔ دلوں میں دوریاں آ جاتی ہیں اور یہی نہیں بہت سے معاملات تو قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں۔
دن بھر ہمارا واسطہ مختلف لوگوں سے پڑتا ہے اور اگر ہمارے دل میں کسی کے لیے بھی ہلکی سی بدگمانی آ جائے تو ہمارا برتاؤ اس کے ساتھ بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی دفتر میں کام کرنے والے دو لوگوں میں سے کسی ایک کو ترقی مل جاتی ہے اور دوسرا اس سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والا بھی قابل ہے لیکن ترقی کسی دوسرے کو مل گئی۔ اب اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہی خیال آ جاتا ہے کہ اسی نے کمپنی کے مالک کو میرے خلاف کیا ہوگا اور اسی وجہ سے مجھے وہ عہدہ نہ مل پایا۔ یہ اس کے اپنے منفی خیالات اسے سکون نہیں لینے دیتے اور دھیرے دھیرے ہی سہی وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے لگتا ہے، حالانکہ اصل میں نقصان اسی کا ہوتا ہے اور دوسروں کی عزت بڑھتی چلی جاتی ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ

(سورۃ الحجرات: 12)
ترجمہ:
“اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”

قرآن کے اس پیغام سے واضح ہو جاتا ہے کہ بہت زیادہ گمان سے بچو کیونکہ دوسروں کے بارے لگائے گئے اندازے ہمارے لیے ہی مشکل کھڑی کرتے ہیں اور بیشتر گمان کا شمار گناہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے خیالات کو مثبت رکھا جائے تاکہ ہمیں دلی سکون میسر رہے اور ہم اپنے مقصد حیات کی طرف دھیان دیتے رہیں۔

ہمارا دین اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں اور تحقیق کے بغیر کسی پر الزام نہ لگائیں کیونکہ بدگمانی دلوں کو دور کرتی ہے اور معاشرتی رشتوں کو کمزور کرتی ہے۔ نبی اکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اس برائی سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

“إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

ترجمہ:
“بدگمانی سے بچو، کیونکہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔”

قرآن و احادیث سے بدگمانی کے بارے میں واضح کردیا گیا ہے کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ نہ صرف ہمیں دلی طور پر ایک دوسرے سے دور کرتی ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کو بھی کمزور بناتی ہے اور اس کی وجہ سے نت نئی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب انسانوں کو بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

نوٹ

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

  • محترمہ کا نام عمارہ عابد ہے اور آپ صادق آباد کی رہنے والی ہیں۔ آپ ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی جستجو کررہی ہیں۔ ابھی تک مختلف انتھالوجی کتابیں جن میں ” شعاع افگن، سلسلہ ہجر، روشن راہوں کے مسافر، کوہ نور، حی علی الفلاح، ہر کہانی ہر صفحہ، عصمت حوا، امن کی چھاؤں“ میں آپ کی تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاؤہ چند کتابیں ابھی زیر اشاعت ہیں جن میں آپ نے اپنے قلم کا ہنر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف میگزین، ڈائجسٹ، اخبارات میں آپ کا لکھا ہوا شائع ہوتا رہتا ہے۔ ادب اطفال کے لیے لکھی گئی کہانیاں بھی اشاعت کا جامہ اوڑھ چکی ہیں۔ کرن کرن میگزین اور نئے افق میں بھی آپ کی کہانی شائع ہوچکی ہے۔ آپ مقابلہ جات میں حصہ لیتی رہتی ہیں جس میں مختلف اسناد کے ساتھ انعام سے بھی نوازی جا چکی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *