اولیاء کرام کی سرزمین ملتان — تاریخ و ثقافت کا درخشاں ورثہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

اولیاء کرام کی سرزمین ملتان — تاریخ و ثقافت کا درخشاں ورثہ

ملتان، برصغیر کی قدیم ترین بستیوں میں سے ایک ہے جسے بجا طور پر “مدینة الاولیاء” کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی مٹی صدیوں سے تاریخ، روحانیت، علم اور ثقافت کی خوشبو بکھیر رہی ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے تہذیبی اور تمدنی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔
ملتان کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ قدیم سنسکرت کتابوں اور یونانی مورخین کی تحریروں میں اس شہر کو “مولستھان” یا “ملستھان” کہا گیا ہے۔ یہاں بدھ مت کے بڑے مراکز موجود تھے، جبکہ سکندر اعظم کے حملے کے وقت ملتان کا قلعہ اپنی شان و شوکت میں بے مثال تھا۔ قرونِ وسطیٰ میں یہ شہر اسلامی تہذیب کے ساتھ جڑا اور عرب فاتحین کے ذریعے اسلام کی روشنی یہاں پہنچی۔
ملتان کو “اولیاء کی سرزمین” کہنے کی اصل وجہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جنہوں نے اس دھرتی پر نہ صرف دینِ اسلام کی تبلیغ کی بلکہ انسانیت، رواداری اور اخوت کا درس دیا۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت شاہ شمس تبریز، حضرت حافظ جمال، حضرت شاہ یوسف گردیز اور دیگر کئی بزرگ ہستیاں آج بھی ملتان کے روحانی تشخص کی پہچان ہیں۔ ان بزرگوں کے مزارات پر آج بھی دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں اور فیض پاتے ہیں۔
ملتان کی ثقافت صدیوں پرانی تہذیب کا عکس ہے۔ یہاں کی خطاطی، قوالی، صوفیانہ کلام، میلوں ٹھیلوں اور روایتی میلاد و عرس تقریبات نے اسے ایک منفرد شناخت دی ہے۔ خاص طور پر “ملتانی نیلا” یعنی نیلی مٹی کے برتن آج بھی دنیا بھر میں ملتان کی پہچان ہیں۔ دستکاری، خطاطی اور صوفی موسیقی نے ملتان کو عالمی شہرت بخشی۔
ملتان کے باسی اپنی مہمان نوازی، سادہ مزاجی اور اخلاص میں نمایاں ہیں۔ یہاں کا معاشرہ اولیاء کرام کی تعلیمات کا عکس ہے، جہاں محبت، صلح جوئی اور امن کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔موجودہ دور میں بھی ملتان پاکستان کی سیاسی، ثقافتی اور روحانی زندگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ میٹروپولیٹن ترقی کے باوجود اس شہر نے اپنی روحانی اور تاریخی پہچان کو قائم رکھا ہے۔ یہاں کے اولیاء کرام کی تعلیمات آج بھی نوجوان نسل کو اخوت اور بھائی چارے کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔
ملتان صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی و روحانی درسگاہ ہے۔ یہ ماضی کی شان، حال کی پہچان اور مستقبل کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ اولیاءے کرام کی اس سرزمین کو دن دگنی رات چوگنی ترقی سے ہمکنار کریں اور یہاں کے باسی وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *