⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
دل پسیجتا ہے… پر عقل روک لیتی ہے
مجھے مان لینا چاہیے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اکثر بھکاریوں کو پیشہ ور سمجھتی ہیں اور نظرانداز کر دیتی ہوں۔ مگر یہ بات کہنے میں جتنی آسان ہے، زندگی میں اتنی ہی پیچیدہ ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب دل کہیں درمیان میں بولنے لگے۔
یاد ہے ایک بار کی بات ہے۔ سردیوں کی ایک ٹھٹھرتی شام میں یونہی چہل قدمی کا ارادہ کیا۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا بچہ دکھائی دیا۔ ننگے پاؤں، نیم وا آنکھیں، اور نیند سے بوجھل قدم۔ دل بے ساختہ پگھل گیا۔ پرس میں ہاتھ ڈالا، کچھ نکالا اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لمحے بھر میں وہ سست قدم پھسل کر اسپیڈ میں بدل گئے، جیسے کسی نے بریک چھوڑ دی ہو۔ وہ بچہ، جو ابھی تھکن سے ہارا ہوا لگتا تھا، اچانک کسی ریموٹ کنٹرول کار کی طرح فراٹے بھرنے لگا۔ یہ جا وہ جا، اور میں دیکھتی رہ گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ “کسٹمر” کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔
گرمیوں کی سنہری شامیں بھی کم یادگار نہیں ہوتیں۔ ایک روز برانڈ روڈ کی گلیوں میں ونڈو شاپنگ کا ارادہ کیا۔ مگر جو گلی پکڑو، وہاں ایک ہی جیسے نین نقش والی بھکاری لڑکیاں نظر آتیں۔ سب مظلومیت کا چولا اوڑھے، مگر چہروں پر چمکتے تازہ فیشل، آنکھوں میں کاجل کی ترتیب، اور ناک کان میں جھلملاتے بھاری زیورات دیکھ کر ہمدردی نے خود ہی راستہ بدل لیا۔ میری نگاہ نے ان کے دعووں کی صفائی مانگی، مگر انہیں شاید اس کی عادت تھی۔
ایک اور واقعہ ابھی بھی ذہن میں ترو تازہ ہے۔ بازار میں ایک بچی ملی، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس، ٹوٹی چپل میں ، چہرے پر بھوک کی تحریر۔ دل میں خیال آیا کہ شاید یہ واقعی مستحق ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ ماں باپ دنیا میں نہیں رہے، اور وہ بھوکی ہے۔ میں نے بھی فوراً کچھ پھل اور پیسے اس کے ہاتھ میں تھما دیے۔
چند لمحوں بعد ایک مانوس سی آواز سنائی دی:
“چرکے تھی گئی؟ اورہاں مر، پیو ویندا اے!”
چونک کر پیچھے دیکھا، تو بچی کا “مرحوم باپ” نہ صرف زندہ تھا بلکہ دوسری انتظاری ٹیم کے ساتھ اگلے “کسٹمر” کا منتظر بھی۔
یہ وہ لمحے ہیں جب دل پسیجتا ہے، مگر عقل بازو تھام لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس پر یقین کریں؟
کون واقعی مستحق ہے اور کون پیشہ ور؟
اب تو یہ حال ہے کہ دل بھی دھوکہ کھا چکا ہے اور نگاہ بھی۔
مگر کیا ہم نے ہار مان لی ہے؟
نہیں، ابھی بھی کوشش ہے کہ جو واقعی مستحق ہے، وہ نظر آ جائے۔ مگر اب ہمدردی کے ساتھ احتیاط کا چشمہ بھی لگانا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ دور صرف “دکھ” کا نہیں، “ڈرامے” کا بھی ہے۔
