⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سیلاب: اسباب، حل اور بھارت کا کردار
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک پانی پر انحصار کرتی ہے۔ لیکن یہی پانی جب قدرتی آفت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشوں کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب آتے ہیں، جو قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان کرتے ہیں۔
سیلاب کے اسباب:
دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے برف کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال دریاؤں میں پانی کی سطح کو غیر متوقع حد تک بڑھا دیتی ہے۔
درخت زمین کی نمی کو محفوظ رکھتے ہیں اور پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن جنگلات کی بے دریغ کٹائی زمین کو ننگا اور کمزور کر دیتی ہے، جس سے بارش کا پانی سیدھا بہتا ہوا تباہی مچاتا ہے۔
پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب تعداد میں ڈیم موجود نہیں، جس کی وجہ سے اضافی پانی کو روکا نہیں جا سکتا اور وہ ندی نالوں کو توڑتا ہوا آباد علاقوں میں داخل ہو جاتا ہے۔
خاص طور پر بڑے شہروں میں نالوں کی صفائی نہ ہونا، غیر قانونی تجاوزات اور پرانے نکاسی آب کے نظام کی خرابی شہری سیلاب کا سبب بنتی ہے۔
دریاؤں اور نالوں کے کنارے آبادیاں بسانا یا زمین کو بغیر منصوبہ بندی کے استعمال کرنا خطرناک ہے، جو سیلاب کے دوران شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔
بھارت کا کردار:
سیلاب کی شدت میں اضافہ صرف قدرتی عوامل کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اس میں پڑوسی ملک بھارت کا کردار بھی قابل ذکر ہوتا ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ آبی معاملات میں۔
1960 میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تقسیم کا بین الاقوامی معاہدہ ہے، لیکن بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزیاں سامنے آتی رہی ہیں، خصوصاً مغربی دریاؤں پر ڈیم بنا کر پانی کی روانی متاثر کی گئی ہے۔
مون سون کے موسم میں بھارت اکثر بغیر اطلاع دیے دریاؤں میں اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑ دیتا ہے، جس سے پاکستان کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق، بھارت کو پانی چھوڑنے سے پہلے پاکستان کو مطلع کرنا ہوتا ہے تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ مگر عملی طور پر بھارت کی جانب سے اکثر یہ معلومات بروقت فراہم نہیں کی جاتیں۔
بعض بھارتی رہنما اور میڈیا پانی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
حل:
بڑے ڈیم، جیسے بھاشا اور مہمند ڈیم، نہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ سیلاب کے پانی کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی جائیں تاکہ زمین کی قدرتی تحفظی صلاحیت بحال ہو۔
شہروں میں نکاسی آب کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے اور نالوں کی باقاعدہ صفائی کی جائے۔
مقامی سطح پر سیلاب کی پیش گوئی اور فوری انتباہی نظام کو فعال کیا جائے تاکہ شہریوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔
پاکستان کو چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی آبی پالیسیوں پر آواز اٹھائے اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری پر زور دے۔
ندی نالوں، دریاؤں اور قدرتی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کو ہٹایا جائے تاکہ پانی کی قدرتی روانی بحال ہو۔
سیلاب ایک قدرتی آفت ہے، لیکن اس کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے اگر سنجیدگی، منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے ساتھ اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان کو اندرونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بیرونی خطرات، خاص طور پر بھارت کے کردار، پر بھی گہری نظر رکھنی چاہیے۔ یہ وقت محض بیانات یا وقتی امداد سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے سالوں میں سیلاب ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔
