⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
7ستمبر یوم ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم،(تاریخ کے آئینہ میں،)
تحریر و تحقیق؛ ظفر مغل، 7ستمبر 1974ء پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جب وزیراعظم پاکستان (وقت) ایشیا کے عظیم لیڈر ذلفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں ایک تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے قادیانی، احمدی اور لاہوری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے آئین پاکستان 1973ء میں دوسری آئینی ترمیم کے مسودہ پر دستخط کیئے،
اس تاریخی دن کو منانے کا مقصد عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد دہانی اور اس کے تحفظ کے لیے تجدید عہد کرنا ہے تاکہ علمائے کرام اور دیگر اہم دینی شخصیات اس دن کی مناسبت سے مساجد، مدرسوں، سکولوں،کالجوں اور دیگرمقامات پر کانفرنسوں و سیمینارز میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس پر ایمان رکھنے کی ضرورت کے حوالہ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں نوجوانوں اور عام عوام کو اس پر کاربند رہنے اور دنیا و آخرت کو سنوارنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں، قرآن پاک کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 کے مطابق “محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم النبیین یعنی(اخری نبی) ہیں” جبکہ حدیث پاک میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی لوگ آتے اور حیرت سے اس کو دیکھتے اور کہتے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں”(صحیح بخاری حدیث 3535)۔
آئین پاکستان 1973ء کی شق نمبر 106میں ترمیم کر کے قادیانی، مرزائی و لاہوری گروپس کو اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور آئین کی شق نمبر 260 میں ایک نئی شق شامل کی گئی جس کے مطابق” ہر فرد جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو وہ قانون و آئین کے لحاظ سے مسلمان نہیں ہے” یہ ترمیمی بل وزیر قانون(وقت) عبدالحفیظ پیرزادہ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے قومی اسمبلی نے 130 ووٹوں کی حمایت سے متفقہ پاس کر لیا، اس موقع پر قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے آدھ گھنٹہ عقیدہ ختم نبوت کے مسودہ بارے جاندار تقریر بھی کی بعدازاں اس ترمیمی بل کو سینٹ میں بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اور رات آٹھ بجے ریڈیو پاکستان سے اس بل کی منظوری کا 7ستمبر 1974ء کو سرکاری طور پر اعلان بھی کر دیا گیا۔ عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اگر اس پر ایمان نہ ہو یا تردد ہو تو ایسا شخص کسی طور بھی مسلمان نہیں کہلا سکتا ہے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر بے حد شفیق اور مہربان رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے اہم فتنوں سے متعلق اگاہ بھی فرمایا صحابہء کرام بالخصوص خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کے طریقے پر چلنے کا حکم فرمایا اور نئے پیش آنے والے مسائل میں فقہہا و عظام اور علمائے کرام کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا اسی طرح قرب قیامت پیش آنے والے حالات سے امت مسلمہ کو آگاہ بھی فرمایا اور امام محمد مہدی کے پیدا ہونے، نام، والدہ کا نام، خلافت وغیرہ کے بارہ میں بھی بتایا، حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان سے اترنا٫ دجال کو قتل کرنا, یہودیت اور عیسائیت کو ختم کر کے اسلام کو دنیا میں غالب کرنا،نکاح کرنا ،روزہ رسول پر حاضر ہو کر سلام عرض کرنا، وفات اور ان کے جائے مدفون وغیرہ کو بھی تفصیل سے بیان فرمایا جن کا تذکرہ احادیث صحیحہ میں موجود ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی رہنمائی کے لیے یہ سب کچھ کیا لیکن کسی ایک حدیث میں بھی اشارتا یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد بھی کوئی نبی بن کر آئے گا جس پر ایمان لانا ضروری ہو گا ، بلکہ اس کے برعکس جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا کہ” کچھ لوگ خود کو نبی سمجھیں گے مگر حقیقت میں وہ کذاب اور دجال ہوں گے” جس سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی تاویل و تخصیص کے اللہ تعالی کے آخری نبی مرسل ہیں آپ کے بعد کسی قسم کی نئی نبوت کی قطعا ضرورت نہیں ہے اس لیے جو شخص آپ کے بعد کسی نئی نبوت کا دعوی کرے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، عقیدہ ختم نبوت اجماع سے ثابت ہے امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں “جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نئے نبی پر وحی آتی ہے اس کے کافر ہونے پر اجماع ہے یعنی امت محمدیہ کے تمام مسلمان متفق اور متحد ہیں کہ کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں”(الفتاوی المفقھیتہ الکبری کتاب الانتبیاہ لتحقیق عویص مسائل الاکراہ )۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی اس لیے اس اسلامی مملکت میں کسی طور پر بھی منکرین ختم نبوت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور جب بھی کبھی منکرین ختم نبوت اس اسلامی مملکت کی سلامتی اور اسلامی حیثیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی تو اسلامیان پاکستان نے ان کے مزموم مقاصد کو ہر پلیٹ فارم پر دلیل کے ساتھ مسترد کرنے کی سعی کی۔22 مئی 1974 کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ مطالعیاتی و تفری دورے پر پشاور جا رہے تھے کہ جناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے اپنا لٹریچر تقسیم کرنے کی کوشش کی تو طلباء نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ختم نبوت کے حق میں شدید نعرہ بازی کی جس پر طلبہ کے قافلہ پر 29 مئی کو واپسی پر نشتر اباد ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے جناب نگر کے اسٹیشن ماسٹر کے ذریعے طلبہ کی بوگی کو روک کر سینکڑوں مسلح افراد نے حملہ ہاور ہو کر 30 نہایت طلبہ کو شدید زخمی کر دیا اس وقوعہ کا پورے ملک میں شدید ردعمل ہوا اور 30 مئی کو لاہور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ہڑتال ہوئی اور 31 مئی کو اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے حکومت نے صمدانی ٹربیونل قائم کیا اور پھر 13 جون کو وزیراعظم ذلفقار علی بھٹو نے اپنی نشری تقریر میں بجٹ کے بعد اس مسئلہ کو قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا اور 14 جون کو ملک گیر ہڑتال ہوئی پھر 30 جون قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد پیش ہوئی 24 جولائی کو وزیراعظم نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی جو فیصلہ کرے گی وہ ہمیں منظور ہوگا پھر پانچ اگست سے 23 اگست تک وقفہ وقفوں سے 11 دن مرزا ناصر پر قومی اسمبلی میں جرا ہوئی اور 20 اگست کو سمجھانی ٹرمنل نے ائینی رپورٹ سانحہ ربوا سے متعلق وزیراعلی پنجاب کو رپورٹ پیش کی جو 22 اگست کو وزیراعظم ذلفقار علی بھٹو کو پیش کی گئی اور 24 اگست کو وزیراعظم ذلفقار علی بھٹو نے فیصلہ کے لیے سات ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی اور چھ ستمبر کو ال پارٹیز مجلس تحفظ ختم نبوت کی وزیراعظم سے راولپنڈی میں ملاقات کا فیصلہ کیا گیا ملک کے تمام مسالک کی مذہبی اور سیاسی بالخصوص قیادت مفکر اسلام مولانا مفتی محمود اور ان کے دیگر افقاس سمیت مولانا محمد یوسف بنوری مولانا محمد حیات مولانا عبدالرحیم اشعر مولانا تاج محمود مولانا محمد شریف جلندھری جیسے اکابرین سے نے شبانہ روز محنت سے قادیانیوں کے مذہبی وا سیاسی عزائم پر مبنی لٹریچر کو جمع کیا اس محنت میں قادیانیوں کی مذہبی حصے کی ہی ترتیب و تدوین مفتی محمد تقی عثمانی سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ واہ وفاقی شریعت عدالت نے جبکہ سیاسی حصے کی مولانا سمیع الحق سابق ممبر سینٹ پاکستان نے اپنے ہاتھوں سے کی قومی اسمبلی میں وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کے پیش کردہ بل کی تائید اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمت اللہ علیہ نے کی اور وزیراعظم سمیت ان کی کابینہ و اراکین قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا اور اس طرح سات ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا اور اسی شام ساڑھے سات بجے سینٹ کے عوان بالا نے بھی قومی اسمبلی کے بعد قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
1971ءسے آزاد کشمیر اسمبلی کے منتخب رکن میجر(ر) محمدایوب خان نے آزاد کشمیر اسمبلی سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی کے ایوان قرارداد پیش کی جو 29 اپریل 1973ء بالاتفاق پاس ہو گئی۔ (بعض احباب کے بقول میجر محمد ایوب خان نے قرارداد 22 مارچ 1973ء کو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کو پیش کی اور 28 اپریل 1973ء کو بحث کے بعد29اپریل 1973ء کو منظور کر لی گئی)اس قرارداد کے منظور ہونے کی خبر جب ملک کے طول و عرض میں پھیلی تو کراچی سے خیبر تک اس کا خیر مقدم ہوا اور مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ملتان، فیصل آباد، لاہور اور کراچی وغیرہ میں خیر مقدمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ 8مئی 1973ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد مولانا تاج محمود کی سربراہی میں صدر سردار عبدالقیوم سے ملاقات کے لئے آزاد کشمیر روانہ ہوااس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد مرزائیت پر اوس پڑ گئی اور پھر صدر آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان نے 25 مئی 1973ء کو اس قرارداد کی توثیق کر دی۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد سے پیدا شدہ قادیانی بحران پر قابو پا لیا اور یوں قادیانیوں کا منہ کالا ہوا اور ان کی سازش اپنے انجام کو پہنچ گئی۔قرارداد کے پیش ہونے کے بعد جب حکومت پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا توعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک کے طول و عرض میں کانفرنسوں کا جال بچھایا اور بڑے شہروں کی تمام مرکزی مساجد میں اس قرارداد کے پاس کئے جانے پر صدر آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان محرک قرارداد ختم نبوت میجر(ر)محمد ایوب خان اور اراکین آزاد کشمیر اسمبلی کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی آزاد کشمیر اسمبلی کی تقلید کرتے ہوئے پاکستان میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کیونکہ پاکستان کی سلامتی کا راز اسی میں مضمر ہے۔
اسی طرح آزاد کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 2 کا ترجمان ختمِ نبوت کا حلف نامہ جسے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے 13،اکتوبر2020ء کو اپنے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد نمبر 200 کی صورت میں پاس کر رکھا ہے ماسوائے نکاح کے پرت کے کہیں پر نافذ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہِ پاکستان کے آئین 1973ء کے آرٹیکل 260 کلاز 3 میں جو مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف کی گئی ہے وہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 2 میں کی گئی مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ پاکستان کے اندر واضح طور پر خود کو غیر مسلم تسلیم کرتے والوں کے علاوہ چھپے ہوئے غیر مسلموں میں سے صرف قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ کے افراد کو ہی غیر مسلم قرار دیا گیا ہوا ہے جب کہ آزاد کشمیر کے آئین میں اضافی بات یہ بھی شامل کی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص جو خیر القرون سے قائم ضروریاتِ دین میں سے کسی ضرورت کا انکار کرے وہ بھی غیر مسلم ہے اور مذید یہ کہ صرف فتنہ مرزائیت کا بانی ہی کذاب نہیں بلکہ جو کوئی بھی اس کی طرح کے دعوی کا حامل ہوگا وہ بھی کذاب اور گمراہ کرنے والا ہے مثال کے طور پر فتنہ گوہرشاہی اور فتنہ اسحاق ملعون وغیرہ کے بانی بھی بتقاضہِ قانون غیر مسلم ہیں.
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیئے ایک تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے فرنچائز کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جائے اور دوسرا ممبران اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے ممبران کے کاغزاتِ نامزدگی اور ووٹر لسٹ میں مسلمانوں کے لیئے ختمِ نبوت کا وہی حلف نامہ شامل کیا جائے جو 13 اکتوبر 2020ء کو آزاد کشمیر اسمبلی نے اپنی متفقہ قرارداد نمبر 200 کے ذریعہ پاس کر رکھا۔اہم مناصب پر فائز شخصیات کے حلف کے حوالے سے آل جموں وکشمیر جمیعت علماء اسلام کے قائدین کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اور آزاد کشمیر سے متفقہ مسودہ منظور کروانے کے بعد وزارت قانون کو بھی تحریک کی جاچکی ہے امید ہے کہ جلد از جلد حکومت اس مسلہ کوحل کردیگی۔
2024ء کو آل جموں وکشمیر جمیعت علماء اسلام کے چیرمین پارلیمانی بورڈ مولانا پیر محمد مظہر سعید کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں صدر وزیراعظم سمیت تمام اہم عہدوں پرمامور ہونے والے عہدیداروں کے لئے ختم نبوت پرایمان رکھنے کے حلف کولازمی قرار دینے کے ساتھ ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلموں کی الگ ووٹر لسٹوں کو الگ سے مرتب کرنے کی قرارداد کو اتفاق راے سے منظور کرنے پر وزیراعظم چوہدری انوار الحق، وزیر قانون میاں عبد الوحید،چیرمین پارلیمانی بورڈ پیر مظہر سعید شاہ سمیت تمام اراکین اسمبلی کومبارکباد پیش کرتے ہوئے3 2024ء کویوم تحفظ ختم نبوت کے طور پرتمام مساجد جمعہ میں اس قرار داد کی تائید کرتے ہوئے ختم نبوت ناموس رسالتﷺ ناموس صحابہؓ واہل بیت کے لیے منظور شدہ قرار دادوں اورقوانین پرعملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا جاے. انٹرنیشنل ختم نبوت ورلڈ کے امیرشیخ الحدیث ڈاکٹر سعید عنایت اللہ نایب امیر مولانا عبدالروف مکی جنرل سیکرٹری مجاہد ختم نبوت موومنٹ حضرت مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج پاکستان کے امیر مولانا الیاس چینوٹی جنرل سیکرٹری مولانا زاہد قاسمی ازاد کشمیر کے امیر۔ ترجمان مدارس دینیہ و ختم نبوت صدر اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ آزاد کشمیر وامیر جے یو آئی مولانا قاضی محمود الحسن اشرف، چیرمین پارلیمانی بورڈ پیرمظہر سعید سواد اعظم کے امیر مفتی محمد اختر ناظم عمومی مولانا قاضی منظور الحسن سمیت دیگر علماء کرام، نے ریاست. بھر میں مختلف جماعتوں کی طرف سے پیرمظہرسعید کی پیش کردہ قرارداد کو اتفاق راے سے منظور کرنیکا خیر مقدم کیاگیا، 3مئی 2024ء کو پاکستان اورآزاد کشمیر کی تمام مساجد اور مدارس میں یوم ختم نبوت والقدس کے طور پر منانے کی اپیل کی. جس میں قادیانی اور اسرائیلی گھٹ جوڑکی مذمت کی جانے کیساتھ منطور شدہ قوانین اور قرار دادوں پرعملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا
ٓآزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی29 اپریل 1973ءکی منظور شدہ قرارداد ختم نبوت کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیر عتیق الرحمن فیض پوری صدر جمعیت علمائے جموں و کشمیر،صاحبزادہ حامد رضا اور پیرعلی رضا بخاری نے بھی اپنے اپنے دور میں اسمبلی فلور پرختم نبوت کے حق اور قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوں کے خلاف قراردادیں منظور کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور بالخصوص پیر محمدعتیق الرحمن فیض پوری نے متعدد سالوں تک تاجدار ختم نبوت کانفرنسز منعقد کیں اور انکے وصال کے بعد سے اہلسنت والجماعت کے پلیٹ فارم سے یہ تسلسل اب مفتی وسیم رضا کی قیادت میں دیگر کئی علماء مشائخ نے ہرسال تاجدار ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی صورت میں جاری رکھا ہوا ہے۔اسی طرح
پاکستان میں بھی تحریک ختم نبوت منظم ہوئی۔ اسمبلی سے باہر عوامی سطح پر شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری رح کی قیادت میں تمام جماعتیں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے منظم کیاگیا جب کہ قومی اسمبلی میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور علامہ شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار خاں نیازی سمیت اسمبلی میں موجود تمام قوتوں نے ایک ماہ کی طویل بحث و تمحیص کے بعد7ستمبر1974ءکو قادیانیوں اورتمام منکرینِ ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے انہیں اسلامی شعائر کے استعمال سے بھی روک دیا۔
۔اسی دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے تحریف قرآن کے قادیانی مجرم مبارک ثانی کو قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے منافی ریلیف دیا گیا۔جس پر نظر ثانی کے موقع پر سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلہ میں 2 دفعات کو اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان،شیخ الاسلام مولانا مفتی، محمد تقی عثمانی سمیت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متنازعہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھر پور تحریک چلائی۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی اس ماورائے آئین و قانون فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔حکومت پاکستان نے بھی قومی اسمبلی کے اراکین کے جذبات کی روشنی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو فیصلہ کی متنازعہ شقوں پر تشویش سے آگاہ کیا گیا اور عوام کی طرف سے بھی بھر پور رد عمل کا اظہار کیا گیا۔تمام دینی جماعتوں کی قیادت کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے لاکھوں مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کا عزم کیا۔ایک سال قبل 7 ستمبر
2024ءکولاھور میں مینار پاکستان کے سائے تلے پچاس سالہ عظیم الشان جلسہ۔تجدید عہد۔تحفظ ختم نبوت وناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔کے مبارک عنوان پر تاریخ ساز کانفرنس میں تمام دینی وسیاسی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے تشکر کے ساتھ نظریہ پاکستان اور تحفظ ختم نبوت وناموس رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے اجتماعی طور پر تجدید عہد کیاگیا تھا اور آذاد کشمیر میں موجود قانونی سقم کو دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ علماءکرام آزاد ریاست جموں وکشمیر میں1973ءو 1985ءاور7 ستمبر 1974ء اور 2فروری2018ءکے منظورشدہ 12ویں آئینی ترمیم اور ہر سال7ستمبرکو آذاد کشمیر میں پیر مظہر سعید شاہ وزیر اطلاعات و چیرمین پارلیمانی بورڈ آل جموں وکشمیر جمیعت علمائے اسلام کی طرف سے 2024ءمیں پیش کردہ قرارداد منظور کرنے کے بعد سرکاری سطح پر یوم ختم نبوت کے طور پر منانے کے فیصلے کے تسلسل میں سیرتِ سید المرسلین وخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے کانفرنسوں کا انعقاد کیا جانا ازحد ضروری ہے۔
