⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
معلومات تک رسائی(RTI) کا عالمی دن
پاکستان میں وفاقی سطح پر ”حقِ معلومات” کے لیے Right of Access to Information Act, 2017 نافذ ہے جس کا مقصد شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ حکومت کی کارکردگی کو شفاف بنایا جا سکے۔ اس قانون کے تحت ہرشہری درخواست دے کر کسی بھی سرکاری ادارے سے معلومات حاصل کرسکتا ہے،اور اداروں کو ان درخواستوں کا جواب دینا ضروری قرار ہے اس طرح
صوبوں میں سے پنجاب میں ”Right to Information Act, 2013” نافذ ہے، جو شہریوں کو معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
(KPK): خیبر پختونخوا بھی 2013 میں RTI قانون پاس کیا گیا،سندھ میں ”Sindh Transparency and Right to Information Act,2016, ” ،نافذہے اسی طرح بلوچستان میں ”Right to Information Act, 2005” نافذ ہے، لیکن اس کے اثرات اتنے مضبوط نہیں رہے اور دیگر صوبوں میں بھی آر ٹی آئی قوانین مکمل طور پر عمل میں نہیں لائے جا رہے، اور کئی دفاتر معلومات فراہم کرنے میں عدم تعاون ہی کر رہے ہیں۔
شعور کی کمی کے ساتھ ساتھ عوام میں اس حق کے بارے میں آگاہی کی کمی بھی ہے، جس کی وجہ سے اداروں میں درخواستوں کی تعداد کم ہوتی ہے،بعض سرکاری ادارے تو معلومات کو ”حساس” یا ”خفیہ” قرار دے کر فراہم ہی نہیں کرتے اور بعض اداروں کی عدم توجہی باعث بعض حکومتیں قوانین کے نفاذ میں دلچسپی نہیں رکھتیں، جس سے معلومات کے حق کو عملی طور پر کمزور کیا جاتا ہے۔
Right of Access to Information Act, 2017 کے تحت وفاقی حکومت نے شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات کے حصول کا حق دیاہے،یہ قانون حکومت کی تمام سرکاری اداروں اور خود مختار اداروں پر لاگو ہوتا ہے، جنہیں درخواستوں کا جواب دینا ضروری ہے
،شہری کسی بھی سرکاری ادارے سے معلومات کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔اور متعلقہ ادارے کو تحت قانون 14 دن کے اندر جواب دینا ہوتا ہے اگر متعلقہ ادارہ معلومات دینے سے انکار کرتا ہے تو درخواست گزار کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہے،
Right to Information Act, 2013:
پنجاب کا RTI قانون وفاقی قانون سے تھوڑا مختلف ہے لیکن بنیادی مقصد یہی ہے کہ حکومت کی کارروائیوں کو شفاف بنایا جائے۔
پنجاب میں ایک علیحدہ انفارمیشن کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے جو درخواستوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے دوران شکایات آئی ہیں کہ سرکاری ادارے اس کی عملداری میں وہ سستی دکھاتے ہیں۔
KP Right to Information Act, 2013:
خیبرپختونخوا میں بھی شہریوں کو معلومات تک رسائی حاصل ہے۔
KP انفارمیشن کمیشن: خیبرپختونخوا میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ درخواستوں کا جائزہ لیا جائے،کبھی کبھار سرکاری ادارے درخواستوں کو نظرانداز کرتے ہیں یا انہیں مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں۔
Sindh Transparency and Right to Information Act, سندھ 2016:میں یہ قانون منظور کیا گیا، جس میں حکومت کو عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا اور سندھ میں بھی انفارمیشن کمیشن قائم کیا گیا ہے۔وہاں بھی اس قانون کی عملداری میں مسائل ہیں۔ بیشتر ادارے اس پر عمل ہی نہیں کرتے۔
Right to Information Act, 2005:
بلوچستان میں سب سے پہلے RTI کا قانون 2005 میں آیا، لیکن اس کا نفاذ اس سطح پر نہیں ہوا جیسے دوسرے صوبوں میں ہے،بلوچستان میں اطلاعات تک رسائی مشکل ہے اور عوام میں اس حوالے سے شعور بہت ہی کم ہے بہت سے لوگ اس حق کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ حکومت سے قانونی طور پر معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔کچھ لوگ اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کو پروسیجر طریقہ کار کا پتہ نہیں ہوتا۔اسی طرح سرکاری ادارے اکثر اس قانون کو ہلکے میں لیتے ہیں اور درخواستوں کا جواب نہیں دیتے یا جواب دینے میں تاخیر کرتے ہیں۔بعض اوقات درخواست گزار حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، جیسے پولیس کی تحقیقات، اور انہیں یہ معلومات نہیں دی جاتیں کئی مقامات پر مقامی حکومتیں RTI کے قانون پر عمل نہیں کرتیں، جس سے عوام کا یہ حق محدود ہو کر رہ جاتا ہے،
عوام کو RTI کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مختلف مہمات چلائی جانی چاہییں تاکہ وہ اس حق کو استعمال کر سکیں،حکومتیں اور ادارے جب تک جواب دہ نہیں ہوں گے، تب تک قانون کا مکمل نفاذ مشکل ہوگا۔ اس کے لیے انفارمیشن کمیشن کو مزید فعال اور خودمختار بنانا ہوگا۔
درخواستوں کو آن لائن جمع کرانے اور ان کے جوابات کو ڈیجیٹل طور پر RTIفراہم کرنے کے ذریعے اس عمل کو آسان اور تیز بنایا جا سکتا ہے، قوانین میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ادارے کو معلومات دینے میں تنگی یا رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔
مستقل نگرانی
RTI کے نفاذ کے لیے نگرانی اور کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے تاکہ اس کادرست استعمال ہو سکے،جس سے حکومت کی کارروائیوں میں شفافیت پیدا ہوتی ہے جس سے کرپشن کم ہوتی ہے۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں اور سرکاری اداروں سے جواب طلب کر سکتے ہیں۔ جب حکومت کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کے بارے میں عوام معلومات حاصل کر سکتے ہیں، تو وہ زیادہ ذمہ داری سے فیصلے کرتے ہیں۔
سرکاری طور پر ادارہ جات سے درست اور مصدقہ معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کو فروغ دینے اور قانون کے مطابق
IDUAI معلومات کے حصول، وصول کرنے اور فراہم کرنے کے حق کو اجاگر کرتا ہے، جسے آزادی اظہار کا ایک لازمی حصہ اور جمہوری معاشروں کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے۔معلومات تک رسائی سے شہریوں کو حکام سے ان کے اعمال اور فیصلوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں مدد ملتی ہے۔ اور رائٹ ٹو انفارمیشن کااٹھائیس ستمبر کو ہر سال منایا جانے والا
یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ معلومات تک رسائی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے، صحت، ماحولیاتی تحفظ، اور غربت اور بدعنوانی کے خلاف جنگ جیسے شعبوں میں پیش رفت میں حصہ ڈالنا۔
شفافیت اور باخبر فیصلہ سازی کو فروغ دینا:
شفافیت کو فروغ دے کر، یہ دن افراد، کمیونٹیز اور حکومتوں کو باخبر فیصلہ سازی کے قابل بناتا ہے۔
یونیسکو بین الاقوامی بات چیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے اور معلومات تک آفاقی رسائی کے لیے پالیسیوں اور معیارات کو نافذ کرنے میں رکن ممالک کو مدد فراہم کرتا ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کے آزاد علاقے آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے نفاذ کے لیے 2جون 2018 کو تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر کے آئین 1974 میں تبدیلی کر کے رائٹ ٹو انفارمیشن کے نفاذ کو آئین کا حصہ بناتے ہوئے اسے جلد اسمبلی میں پیش کر کے نافذ کرنے کا اعادہ کیا گیا اور اس مقصد کے لیے پانچ سال قبل راجہ فاروق حیدر خان کی وزارت عظمی کے دور میں ان کے پانچ سالہ دور اقتدار کے آخری کابینہ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات (وقت) محترمہ مدحت شہزاد نے سیکرٹری قانون کی معاونت و مشاورت سے راقم العروف کی تحریک پر رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کے لیے مسودہ قانون تیار کر کے آذادکابینہ کے اجلاس میں پیش کرتے ہوئے متفقہ طور پر اسے منظور کروا لیا تھا لیکن اب چار سال اور چار ماہ کے دوران تین وزرائے اعظم کی تبدیلی کے باوجود گزشتہ حکومت کی کابینہ کے فیصلہ کی روشنی میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے مسودہ قانون کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کر کے پاس کرانے کی طرف کوئی پیشرفت نہیں کی جا سکی ہے جس سے آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا نفاذ نہ ہونے سے اور قانون کی عدم موجودگی کے باعث نہ صرف صحافیوں بلکہ وکلاء اور عام شہریوں کو بھی آئینی طور پر پاکستان میں وفاق اور چاروں صوبوں میں معلومات تک رسائی کے قوانین قانونی طور پر پاس ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کا خطہ اس قانون سے تا حال محروم چلا رہا ہے اور اس بارے میں کئی مرتبہ وزیراعظم چودھری انوار الحق، کابینہ کے اراکین اور سپیکر اسمبلی سمیت سیکرٹری اطلاعات و قانون کو بھی یاد دہانی کے لیے رجوع کیا گیا مگر محترمہ مدرحت شہزاد سیکرٹری اطلاعات کے عہدہ سے پروموٹ ہو کر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل کے عہدہ سے گزشتہ ماہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے اب تک کسی نے بھی اس بارے میں دلچسپی نہیں لی جس کے نتیجہ میں آزاد کشمیر کے عوام تا حال آزادحکومتوں کی غیر آئینی طور پر عدم توجہی کے باعث قانون ساز اسمبلی میں گزشتہ حکومت کی آخری کابینہ کے اجلاس میں پاس شدہ آر ٹی آئی کے مسودہ قانون کو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا ہے جس باعث 2020 میں راقم نے موجودہ حکومت کی عدم دلچسپی کو بھانپتے ہوئے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون پاس کرنے کے لیے کابینہ کا پاس کردہ مسودہ قانون پیش نہ کرنے اور صحافیوں کو آئے روز معلومات تک رسائی سے محروم رکھنے کی بناء پر آزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ میں آزاد حکومت کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف رائٹ ٹو انفارمیشن کے نفاذ کے لیے ایک رٹ پٹیشن بعنوان ظفرمغل بنام آزاد حکومت وغیرہ دائر کر رکھی ہے جسے ابتدائی سماعت کے بعد منظور بھی کر لیا گیا ہے اور حکومت آزاد کشمیر نے ازاد کشمیر ہائی کورٹ میں اپنا جواب دعوی پیش کرتے ہوئے رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کو آزاد کشمیر اسمبلی میں پیش کرنے کا بھی عندیہ دے رکھا ہے مگر اس کے باوجود عملی طور پر موجودہ انوار سرکار کے گڈ گورننس کےزبانی دعووں کے باوجود تا حال حکومت وزراء ممبران اسمبلی غیر آئینی اقدام کے مرتکب ہو رہے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ انوار سرکار اپنی حکومت کے آخری سال میں آئندہ سال انتخابات سے قبل اسمبلی اجلاس میں آر ٹی آئی کے مسودہ قانون کو پیش کر کے پاس کروا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کی سعی کر سکتی ہے جس سے آزاد کشمیر کے عوام کو آئینی طور پر معلومات تک رسائی اور انفارمیشن کمیشن کے قیام سے سرکاری ادارہ جات سے درکار بنیادی معلومات قانونی طور پر فراہم ہو سکتی ہیں اور آزاد خطہ میں حقیقی معنوں میں گڈ گورننس،احتساب اور شفافیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس کا حقیقی خواب بھی پورا کرتے ہوئے آزاد خطے کو حقیقی معنوں میں ماڈل سٹیٹ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
