⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
زخموں سے گوندھے سچے رشتے
بچپن سے اماں ابا کی نوک جھونک سُنتے سُنتے کب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا،پتہ ہی نہیں چلا۔
وقت بے وقت اماں کی شکایتیں کہ “جب سے اس بندے(بابا) سے میری شادی ہوئی ہے ،نصیب پُھوٹ گئے ہیں۔ تیرے باپ کے پلے بندھنے سے اچھا تھا کہ خود کو کھائی میں گرا دیتی یا کنویں میں چھلانگ لگا دیتی۔ یا پھر کسی کے ساتھ بھاگ جاتی۔”
اس نکتے پر آ کر ابا کی برداشت ختم ہوجاتی اور اُٹھ کر دو تین تھپڑ جڑ دیتا۔ ساتھ میں گولی مارنے کی دھمکی بھی ہر بار دی جاتی۔ اور زبان پر گالیوں کا ورد کرتے باہر کو نکل جاتا۔ تھپڑ کھانے کے بعد اماں سسکیاں لے لے کر سو جاتیں اور ہم بہن بھائی پوری رات یا سارا دن اس ڈر سے جاگتے رہتے کہ “اماں بھاگ نہ جائے یا پھر ابا کہیں ان کی جان نہ لے لیں۔” پھر دھیرے دھیرے یہ خوف خود بخود کم ہو جاتا۔
چالیس سالہ طویل رفاقت میں نہ ہم نے آبا کو مُطمئن دیکھا اور نہ ہی اماں نے سکھ کا سانس لیا۔ اماں کو اپنی زندگی ضائع جانے کا افسوس ہوتا تو ابا کا دُکھ بھی کسی طور اماں کے دکھ سے مختلف نظر نہ آتا۔ اُن کو بھی اس بات کا قلق رہتا کہ کاش وہ کسی تعلیم یافتہ اور شہری لڑکی سے شادی کرلیتے، کم از کم زبانی نشتروں سے تو روح زخمی ہونے سے بچی رہتی اور وقت بے وقت زندگی جہنم تو نہ بنتی۔
یہ نوک جھونک اکثر اوقات لگی رہتی اور ہم دبکے سے ایک کونے میں بیٹھے رہتے۔ بچپن اور لڑکپن تو سہمے سہمے گزر گیا پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چھوڑا۔ شادی خانہ آبادی کا وقت بھی آن پہنچا، پھر عملی زندگی کا نیا دور شروع ہوا، مختلف تجربات ہوئے۔ پھر کچھ کچھ زندگی سمجھ آنا شروع ہوگئی۔
جب تک ہم غیر شادی شُدہ تھے تو ہماری پوری پوری ہمدردیاں اماں کے ساتھ ہوتیں۔ شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد ہمیں یہ احساس ہوگیا کہ ابا کتنے مجبور و لاچار اور کتنے بے بس تھے۔ ورنہ یہاں تو بات اور خواہش گولی مارنے کی دھمکیوں سے بڑھ گئی تھی۔ بیوی سمیت اس کے خاندان پر 600 کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے ٹرک کےساتھ خودکش دھماکے کے خیالات ہروقت ذہن میں گردش کرتے رہتے۔
ایک دن چُھٹیوں پر گاؤں آیا،تو دیکھا کہ اماں کُچھ بُجھی بُجھی سی بیٹھی ہوئی تھیں۔ چہرے کی بچی کھچی رونق بھی کہیں دور جا پڑی تھی، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی اور چہرہ جھریوں سے سجا ہوا۔ میں اماں کے سامنے بیٹھ گیا اور پوچھا کہ “اماں کیا ہوا؟” وہ تو جیسے بھری بیٹھی تھیں۔ آگے سے پھٹ پڑیں کہ “دو دن سے بُخار میں تپ رہی ہوں مگر تیرے ظالم باپ نے ایک ڈسپرین کی گولی تک کا نہیں پوچھا۔ یہ تو روز اول سے میری موت کی خواہش میں جی رہا ہے۔”
ابا دوسری چارپائی پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کررہے تھے۔ میں نے شکایتی نظروں سے اُنھے دیکھا تو انہوں نے باہر دروازے کی جانب مُنہ پھیرتے ہوئے حکم دیا کہ “لے جاؤ اسے گاؤں کے واحد میٹرک فیل ڈاکٹر کے پاس ورنہ تیری ماں نے ٹھیک ہونے کا نام نہیں لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ دو طرفہ دو جملے لڑائی کے آغاز کا ابتدائیہ تھا، اس کے بعد تو گویا دو صدیوں پرانے دشمن لڑ پڑے تھے۔ ابا چند جملے بول کر خاموش ہوگیا لیکن اماں کے حدت سے تپتے بدن کے اثرات اندر کی حالت کو بھی باہر کھینچ لائے تھے۔ اماں مسلسل بول رہی تھیں اور الفاظ ایسے تھے کہ اللہ کی پناہ۔ یوں کہیے کہ اماں نے ابا کے خاندان کے وہ گڑے مردے قبروں سے نکالے کہ میں اپنی نظروں میں شرمندہ سا ہو کر رہ گیا۔ اور ایک سوچ میرے وجود کو جھنجھوڑ کر دوسری جانب چل نکلی اور میں خود کو کوستے ہوئے داد و ستد کا مارا کہنے لگا کہ “میری بدقسمتی کہ اتنے بے غیرت خاندان میں آنکھ کھولی۔”
وقت پر لگا کر اڑا، ازدواجی زندگی نے رنگ پکڑے، وہی روایتی بھاگ دوڑ اور نوک جھونک جاری ہوگئی۔ ایک دن بیوی کے جملوں سے تنگ آ کر میں نے بھی ابا کے نقشِ قدم پر چل نکلا اور اپنی شریک حیات کو دو چار لگا دیں۔ بیوی نے شکایت کے لئے اماں کو فون لگایا، سسکتے ہوئے سب کچھ چار چھیلے اضافی باتوں کے ساتھ اماں کو کہہ سنایا۔ اماں جو پہلے ہی مردوں سے بدظن تھیں فورا پھٹ پڑیں اور آگے سے وہ بے نُقط سنائیں کہ الامان۔ کہنے لگیں کہ “اپنے باپ کا خون ہے، دوسروں کی بیٹیوں کو مارے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟ اس بے غیرت سے میں اور کوئی توقع کر بھی نہیں سکتی۔”
بیوی تو یہ سب سُن کر پُرسکون ہو گئی۔ مگر میرا سکون برباد ہوگیا کہ کیا اب ساری زندگی بیوی کے سامنے سر جھکائے سُنتا رہوں گا۔
شام کو ابا کا فون آیا۔ ڈرتے ڈرتے اُٹھایا کہ اب وہ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام کے بعد ابا گویا ہوئے کہ” مرد کے بچے ہو بیوی دوست نہیں بن سکتی، لہٰذا دبا کے رکھو۔ اپنی ماں کا رویہ دیکھ کر میری حالت سے عبرت پکڑو۔ اب تک بُھگت رہا ہوں۔ کاش جوانی ہوتی تو تیری ماں کو گُونگا کردیتا۔ اور دوسری شادی کر لیتا۔ تم جوان ہو لہٰذا میری طرح افسوس کرنے سے بہتر ہے کہ دوسری لا کر بیوی کے سر پر بٹھا دو۔ تا کہ اسے لگ پتہ جائے۔”
اُس لمحے مُجھے اپنا اور ابا کا دُکھ اور نصیب ایک جیسا محسوس ہوا۔ دونوں نے جانے کون سے گُناہوں کی سزا بیویوں کی صُورت میں پائی تھی۔
جو بیویاں کم اور چوبیس گھنٹے کا ٹارچر سیل زیادہ تھیں۔
گاؤں میں موجود بہن بھائیوں کی زندگی اور بھی اجیرن تھی۔ صبح شام اماں ابا کی لڑائی ہوتی تو بچے ایک طرف ماں کو ابا کا ظُلم سہنے پر حوصلہ دیتے رہتے تو کُچھ دیر بعد دوسرے کمرے میں باپ کی ہمت بندھا رہے ہوتے کہ غلطی ساری اماں کی ہے۔
مہینہ قبل اماں کا دانت گاؤں کے واحد میٹرک فیل ڈاکٹر کے ہاتھوں نکلوا لیا گیا۔ اماں کا شوگر چار سو سے اُوپر چلا گیا تھا۔ لہٰذا دانت کا انفیکشن مسوڑھوں تک پھیل گیا تھا۔ گاؤں میں مشہور ہوگیا کہ اماں کو منہ کا کینسر ہوا ہے۔ یہ خبر مُجھ پر بجلی بن کر گر گئی۔ جہاز کی سیٹ مل نہیں رہی تھی سو راتوں رات گاڑی بھگا کر پشاور پُہنچ گیا اور شہر کے مایہ ناز ڈاکٹروں کا پینل ہائر کیا۔ اگلے دن اماں کی سرجری تھی۔ اماں تکلیف سے تڑپ رہی تھیں۔ سرجری کے لئے اماں کو جب سٹریچر پر ڈال کر اندر لےجایا جا رہا تھا تو ہسپتال کے برآمدے میں لگے بینچ پر میں نے ابا کی سسکیاں سُنیں۔ دیکھا تو ابا رو رہے تھے۔ میں آگے بڑھا اور اُن کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ ابا میرے گلے لگ کر بچوں کی طرح پُھوٹ پُھوٹ کر رو دئیے۔ دل میرا بھی زخمی تھا لیکن میں خود ضبط کرتا ہوا اُن کو تسلیاں دیتا رہا۔ خیر آپریشن کامیاب رہا۔ اور اماں صحت یاب ہو کر ہسپتال سے گھر آ گئیں۔ روٹین کی زندگی گزرنے لگی۔ مگر مُجھے ابا کی سسکیاں اور آنسو پریشان کئے جا رہے تھے کہ ابا، اماں کے لئے رو بھی سکتے ہیں کیا؟
کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی کا فون آیا جو اماں کا سب سے لاڈلہ تھا۔ بتانے لگا کہ اماں نے اس سے بات چیت بند کی ہوئی ہے لہٰذا میں سفارش کر کے اماں کو راضی کر لوں۔ کچھ عرصے بعد جب میں گاؤں گیا تو اماں دروازے کے سامنے بنی دیوڑھی میں بچھی 30 سال پرانی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ سلام کر کے چارپائی کے ایک کونے پر ادب سے بیٹھ گیا اور بولا کہ “اماں چھوٹے کا فون آیا تھا آپ کس بات پر اُس سے ناراض ہیں؟ معاف کردیں اُسے، وہ بارڈر پر ہے۔”
اماں غصے سے اُٹھ گئیں اور کہا کہ “وہ تو اپنا دودھ بھی اس کو نہ بخشیں اتنا دل دُکھایا ہے اُس نے۔” اماں کی بات سن کر میں میں کانپ کر رہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ” گھر میں ابا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو اماں نے چھوٹے کا اے ٹی ایم کارڈ ابا کو دیا کہ اکاونٹ سے پیسے نکال کر خرچ کر لینا۔ اگلے دن چھوٹے کا فون آیا کہ ابا کو میرے پیسے نظر آگئے تھے۔ میرے اپنے بچے ہیں میں فوج میں خطرات کا سامنا اس لئے کرتا ہوں کہ بچوں کے لیے کچھ بچا سکوں۔ ابا کو احساس ہی نہیں ہے۔”
اماں بتا رہی تھیں اور روئے جارہی تھیں کہ “ابھی تو میں زندہ ہوں اور یہ لوگ میرے شوہر کی توہین کر رہے ہیں۔ کتنی مشکلوں سے میرے شوہر نے ان کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر میں اُس کےساتھ لڑتی جھگڑتی ہوں تو وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے مگر کسی کو یہ حق نہیں دوں گی کہ وہ میرے جیتے جی میرے سُہاگ کی توہین کریں۔
میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اور فون نکال کر بیوی کو کال ملائی۔ آگے سے پُھنکارتی ہوئی آواز میں وہ چیخی کہ “یہ معلوم کرنے کےلئے فون کیا ہے نا کہ میں زندہ ہوں یامر گئی؟”
میں نے کہا کہ کیا “واقعی تم میرے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟”
دوسری طرف فون پر ایک طویل خاموشی چھا گئی..!!
اور کچھ لمحے بعد ایک آواز گونجی کہ “نہیں” اور یہ آواز میری سماعتوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سکون کا باعث بن گئی۔
