⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
لبرل ازم کا فریب: دوغلا پن اور سچائی کا گلا گھونٹتا بیانیہ
جدید ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں جہاں ہر شعبۂ زندگی ڈیجیٹل دنیا کے زیرِ اثر آ چکا ہے، وہیں ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی سوشل میڈیا کا فعال حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ جیسی سہولت کے ساتھ ساتھ ان پر بھاری اخلاقی و معاشرتی ذمہ داریاں بھی عائد ہو گئی ہیں۔ایسے میں یہ لازم ہے کہ خواتین سوشل میڈیا کا استعمال عقل، شعور اور وقار کے ساتھ کریں۔ ذاتی روابط، ویڈیو کالز اور پیغامات کی حدبندی نہایت ضروری ہے کیونکہ ہر آن لائن تعلق بھروسے کے قابل نہیں ہوتا۔ہمارے والدین بیٹیوں کی پرورش تو بہت محبت، احتیاط اور توجہ سے کرتے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ وہ ان کے ہاتھوں میں موبائل فون تھما کر انھیں زندگی کے بنیادی اصول اور اقدار سکھانا بھول جاتے ہیں۔ سٹیٹس سمبل کے نام پر قیمتی موبائل تو دے دئیےجاتے ہیں لیکن تربیت کا چارجر ساتھ نہیں دیتےجس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا کے غلط تصورات اور پراپیگنڈے کا شکار ہو جاتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ تہذیب اور اقدار کو فرسودہ روایات ہیں اور “سوشل میڈیا سیلیبریٹی” بننا فخر کا باعث ہے۔ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات ،فیشن برانڈز اور فلموں اور ڈراموں میں دکھائے جانے والا طرز زندگی سے وہ اس قدر متاثر ہوتی ہیں کہ وہ مغربی معاشرت کو ہی آزادی اور کامیابی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
ان حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو یہ حقیقت بتائیں کہ “آزاد محبت” دراصل ایک زہریلا پھل ہے، جس کا انجام اکثر تباہ کن ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر لائکس، فالوورز اور شہرت کے پیچھے بھاگنا وقتی نشہ ضرور ہے مگر اس کی قیمت عزت، وقار اور بعض اوقات زندگی سے بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ماڈرن ازم کے نام پر اندھی آزادی حاصل کر نا درحقیقت اخلاقی موت ہے۔ ہمیں انھیں یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جب آزادی حدود پار کرتی ہے تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر ان “کانٹینٹس” پر دل والے ایموجی بھیجتے اور داد دیتے ہیں انھیں بھی یہ سوچنا چاہیئے کہ قاتل صرف وہ نہیں ہوتا جو ہتھیار اٹھائے بلکہ قاتل وہ بھی ہے جو گمراہی کو تفریح سمجھ کر پروان چڑھاتا ہے۔ بے حیائی کو “بولڈ کانٹینٹ” کے نام پر فروغ دیتا ہے اور ایسا کرنا دراصل اپنی نسل کو تباہی کی راہ پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی بچیوں کو دکھاوے، احساسِ کمتری اور جھوٹی شہرت سے نکال کر تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کریں تاکہ وہ سوشل میڈیا کا مثبت اور بامقصد استعمال سیکھ سکیں۔
ہمیں اپنی بچیوں کو بتانا چاہئے کہ انھیں ان باوقاراور کامیاب خواتین کو اپنا رول ماڈل بنانا ہے جنہوں نے اسلامی اصولوں کو اپناتے ہوئے زندگی کے مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات، عظیم صحابیات، اور موجودہ دور کی وہ باکردار مسلمان خواتین شامل ہیں جنھوں نے دینی اقدار سے وابستہ رہتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے کردار، علم اور خدمات سے پہچان حاصل کی۔ یہ مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں ہماری قوم کی عزت اور فخر ہیں۔ان کی کامیابی کا راز صرف مثبت سوچ، مناسب رہنمائی اور باوقار تربیت میں ہے۔والدین کو چاہئیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سمجھائیں کہ اسلام کی خوبصورتی اس کی حقیقی تعلیمات اور اس کی روح میں ہے۔والدین دین کو صرف عبادات تک محدود نہ کریں بلکہ اخلاق، صبر ، محبت اور حقوق العںباد کا سبق بھی بچیوں کو پڑھائیں اور یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں کہ کس عمر میں بچیوں کو انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینی ہےمگر یہ بھیخیال رہے کہ یہ رسائی تربیت، شعور اور مکمل نگرانی کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے اور نئی نسل کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری تمام ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی عزت و عفت کی حفاظت فرمائے، اور انھیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔آمین۔
نوٹ
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
