تہاڑ جیل سے آزادی کی صدا : یاسین ملک کا مقدمہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

تہاڑ جیل سے آزادی کی صدا : یاسین ملک کا مقدمہ

جموں و کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ اگر کسی نام کے بغیر لکھی جائے تو وہ ادھوری ہوگی، اور وہ نام ہے محمد یاسین ملک۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے بانی رہنما اور حریتِ فکر کے علمبردار یاسین ملک نے نہ صرف نوجوانی میں بھارتی قبضے کے خلاف ہتھیار اٹھائے، بلکہ 1994 میں عدم تشدد کے فلسفے کو اختیار کرتے ہوئے ایک پرامن سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی تحریک کا محور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلوانا ہے — وہ حق، جو آج بھی عالمی ضمیر کا امتحان بنا ہوا ہے۔
ایک سیاسی رہنما کو دہشت گرد قرار دینے کی سازش

  1. اقوامِ متحدہ، OIC، Amnesty International اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرتی رہی ہیں، مگر جب بات عملی اقدامات کی آتی ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ یاسین ملک کے معاملے پر بھی عالمی ضمیر ساکت و جامد ہے۔ نہ کوئی قرار داد، نہ مذمت، نہ کوئی سنجیدہ آواز۔
    جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی
    بھارت کا یہ اقدام جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت قیدیوں کو انصاف، طبی سہولیات، اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ یاسین ملک جیسے قیدیوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کرے، اور انہیں انصاف دلائے۔
    انجام کی جنگ ابھی باقی ہے
    یٰسین ملک شدید علیل ہیں، کمزور ہو چکے ہیں، لیکن ان کا عزم زندہ ہے۔ بھارت اگر مقبول بٹ اور افضل گورو کو جھکا نہیں سکا، تو یاسین ملک کو کیسے توڑ پائے گا؟ ان کی جدوجہد محض ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ پوری کشمیری قوم کی آواز ہے، جسے گولی، قید یا سزا سے دبایا نہیں جا سکتا۔
    آخر میں!
    یہ وقت ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم یاسین ملک کے لیے، کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑیں، اور بھارت کو بتائیں کہ:
    ”ظلم کی رات چاہے جتنی طویل ہو، آزادی کی صبح ضرور طلوع ہوگی!“
  2. 2022 میں دہلی کی ایک عدالت نے یاسین ملک کو دہشت گردی، سازش اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی۔ وہ بھارت کی بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں، وہی جیل جہاں مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دے کر دفن کیا گیا۔ آج تاریخ خود کو دہرا رہی ہے — ایک بار پھر ایک کشمیری رہنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    یٰسین ملک پر 1990 میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا 30 سال پرانا مقدمہ تھوپ کر انہیں ایک سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کو ان پر تشدد، تفتیش اور جبری حراست کے باوجود کوئی ثبوت نہیں ملا، تب جا کر ایک پرانا مقدمہ نکال کر انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
    جانشینِ مقبول بٹ، حوصلے کا نشان
    یٰسین ملک خود کو مقبول بٹ کا سیاسی جانشین تصور کرتے ہیں، جنہوں نے 1984 میں تہاڑ جیل میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر شہادت قبول کی۔ اس سے پہلے یا بعد میں، کوئی بھی بھارتی ہتھکنڈہ کشمیری عوام کے دلوں سے آزادی کا خواب نہیں نکال سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یاسین ملک نہ صرف کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہیں، بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک علامتِ مزاحمت بن چکے ہیں۔
    بھارتی عدالتوں کا جانبدارانہ کردار
    یٰسین ملک کے خلاف عدالتی کارروائی میں انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا گیا۔ انہیں اپنے دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا، قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور ان کی خراب صحت کے باوجود طبی سہولیات کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی عدالتیں آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف سیاسی ایجنڈے کے تحت فیصلے دے رہی ہیں، اور انصاف کا قتل ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔
    عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی

نوٹ

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *