کارڈیک اریسٹ _ ایک خاموش مگر سنگین بحران

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

کارڈیک اریسٹ _ ایک خاموش مگر سنگین بحران



نوجوانی وہ عمر ہے جس میں زندگی اپنی پوری رعنائی، توانائی اور امیدوں کے ساتھ انسان کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔ یہ مرحلہ خوابوں کی پرواز، جوشِ عمل اور بےپناہ تخلیقی قوتوں کا مجموعہ ہوتا ہے مگر افسوس کہ آج یہی عمر ایک ایسے خطرے کی زد میں آچکی ہے جس کا تصور کبھی بڑھاپے سے جوڑا جاتا تھا—امراضِ قلب، خصوصاً کارڈیک اریسٹ۔
آج کا نوجوان مرد اکثر شدید ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، حد سے زیادہ اسکرین ٹائم، اور اکیلے پن سے گزر رہا ہے۔ ہر وقت متحرک نظر آنا، خود کو ثابت کرنا، اور معاشرے کے تقاضے پورے کرنا ان سب نے اسے ایک “خاموش دباؤ” میں مبتلا کر دیاہے. یہ تمام عوامل خاص طور پر نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، اور مستقل تھکن دل کی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔اس تیز رفتار زندگی اور غیر صحت مند طرزِ زندگی نے کارڈیک اریسٹ جیسے ایک خاموش طبی بحران کو جنم دے دیا ہے اور اس کی سنگینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
نوجوانوں میں اچانک دل بند ہونے کی سب سے بڑی وجوہات میں پیدائشی نقائص اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی شامل ہیں جو بظاہر محسوس نہیں ہوتے مگر یہی خاموشی کئی بار جان لیوا ثابت ہوتی ہے مگر ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، سفارش اور ناانصافی کا بڑھتا ہوا بوجھ نوجوانوں کے اعصاب کو مسلسل جھنجھوڑ رہا ہے۔ گھر اور تعلیمی اداروں میں مقابلے کا ماحول، ذمہ داریوں کا دباؤ اور ہر حال میں کامیاب نظر آنے کی خواہش نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت دونوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سونے پر سہاگا سوشل میڈیا اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتا ہے جہاں دوسروں کی چمک دمک نوجوانوں کو احساسِ کمتری اور بےچینی میں مبتلا کرتی ہےاور یہی ذہنی کیفیت دل کے امراض کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوان نسل کے لیے ایک اور تباہ کن خطرہ ہے۔ مستقبل کی بے یقینی، ذہنی تھکن اور غلط صحبت انہیں ایسے راستے پر ڈال دیتی ہے جہاں چند لمحوں کی غفلت زندگی کا سب سفر ختم کر دیتی ہے۔ منشیات دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور دل کے عضلات پر براہِ راست چوٹ پہنچاتی ہیں اور یہ رجحان نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے دردناک نتائج چھوڑ جاتا ہے۔

ان حالات میں ذمہ داری صرف حکومت یا طبی اداروں تک محدود نہیں رہتی۔ پورا معاشرہ، خاندان، تعلیمی ادارے اور ریاست—سب کو یکجا ہو کر نوجوانوں کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ صحت عامہ کی آگاہی، سالانہ میڈیکل اسکریننگ، جسمانی سرگرمیوں کے فروغ، متوازن غذا، مناسب نیند اور ذہنی سکون کو زندگی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ حکومت کو روزگار اور فنی تربیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں سے بے یقینی اور خوف کم ہو۔ والدین اور اساتذہ کو بھی نوجوانوں کے جذبات اور ذہنی تبدیلیوں کو سمجھ کر انہیں اعتماد، محبت اور سہارا فراہم کرنا چاہیے۔
اس تمام معاملے میں دین اور روحانیت نوجوان دلوں کو ایک مضبوط سہارا دیتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ، عبادات میں مستقل مزاجی، سجدہ، تلاوتِ قرآن اور دعا انسان کو وہ سکونِ قلب دیتے ہیں جو دنیا کا کوئی ذریعہ نہیں دے سکتا۔ تحقیق سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ عبادات اور اللہ پر یقین رکھنے والے افراد کا دل زیادہ پرسکون رہتا ہے، ان کا بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے اور ذہنی دباؤ کے ہارمونز کم بنتے ہیں۔ یہی عوامل کارڈیک اریسٹ جیسے اچانک حملوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔ دین کی تعلیمات—سادگی، اعتدال، صبر، حلال غذا، غصے پر قابو اور نیکی—ایسے اصول ہیں۔

جو نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں۔
نوجوان ہمارا آج بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ اگر ان کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے برسوں میں معاشرہ ان مشکلات میں گھِر جائے گا جن کا حل آسان نہ ہوگا۔ آج کے نوجوان کو محفوظ، صحت مند اور باوقار مستقبل دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مضبوط دل، مضبوط ذہن اور مضبوط ایمان رکھنے والی نسل ہی مضبوط قوم کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *