بھینگے راجہ مافیا

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

بھینگے راجے مافیا

دنیا میں اس وقت بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ترقی کا زینہ صرف وہ لوگ طے کرسکتے ہیں جنہوں موقع پرستی میں ڈگری لی ہو۔خوشامدی ہوں،اپنی زات کی ڈگری خود بڑھا چڑھا سکتے ہوں۔ایسی کئی مثالیں ہمارے گرد بکھرے ہیں۔
میں نے ایک صاحب کو دیکھا۔۔۔ وہ بہت عرصہ شہر کے نامی گرامی گویوں کے بہت قریبی عزیز تھے۔۔۔۔اآہستہ آہستہ انہوں نے شاہوں کی گدائی کی،قربت کی اور پھر خود بھی نام کے ساتھ شاہ لگا لیا!!
آج کل وہ “سید۔۔۔۔۔۔۔شاہ صاحب” ہیں….
اسی طرح ایک خاتون میری قریبی دوست کی سگی چچازاد ہیں۔وہ بی اے میں دو مضامین سے رہ گئی تھیں اور کچھ وقت مجھ سے بھی مدد لی تھی۔ایک سال بعد ایک شادی میں ملیں۔کسی خاتون سے گفتگو میں پتہ چلا کہ وہ ڈبل ایم اے ہیں۔۔۔۔ماشاء اللہ۔۔۔۔ایتھے رکھ ناں۔۔۔۔۔۔ایسے ہی ایک نامی گرامی شخصیت کی سی وی پہ لکھا دیکھ کر دیوار پکڑ لی۔۔ وہ بیک وقت ایک ہی سال میں ڈاکٹریٹ اور وکالت کی ماسٹرز ڈگری دو مختلف صوبوں میں لیے ہوئے ہیں۔اور ماشاءاللہ بیک وقت کئی جہتوں میں صدارت کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔اب آپ مافیا کہیں گے تو میں کیا کہہ سکتی ہوں!!!
ایک اور بھی حضرت ہیں۔پیر نصیر الدین نصیر رح کے دئیے ہمارے گھروں میں نسل در نسل چلتے نظر ,سر درد وغیرہ کے تعویز انہیں پتہ چلے،ایک تعویز لے لیا۔اس کے بعد لوگوں کو سر درد کا دم کرنے لگے۔سنا ہے آج کل ان کے آستانہ عالیہ پہ جادو،ٹونہ،محبوب قدموں میں اور پسند کی شادی سے لے کر دشمن زیر تک تمام قسم کے چلے دستیاب ہیں ۔۔۔۔۔۔بزنس مائنڈ لوگ!!
زمانہ چال قیامت کی چل گیا!!
اصل ترقی تو ایک اور بی بی نے کی۔۔۔۔پہلے وہ اصلی نام سے فیس بک پہ تھیں،پھر رابعہ شیخ بنیں،پھر روحانہ مہر،پھر نوابزادہ،پھر سحر آفریدی کے نام سے جلوہ گر ہوئیں۔۔۔کئی نام بدلتے آج کل وہ اعوان زادی ہیں۔۔۔۔خاتون شجرے کے اعلی و ارفع ہونے کی باقاعدہ سند رکھتی ہیں۔۔۔۔
اخیر ایک بندے نے کر دی۔۔۔۔اچھے خاصے ورکر تھے،اردو اتنی نایاب کہ باقاعدہ پڑھے لکھے لوگوں کی غلطیاں نکالنے لگے۔۔وہ بھی سر عام۔۔۔ان کے لکھے پڑھے جملے کے آخر میں ٫٫ ہیں٬٬ تک نہیں ہوتا لیکن وہ بقول ان کے ٫٫
عقل قل ،، ہیں۔خوشامدی ٹولہ ساتھ ملایا،پہلے ادارے کے سربراہ کو مٹھی میں لیا۔اج کل ان کے جعلی سائن زدہ آرڈر دستیاب ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اک مشاعرے میں ایک آنٹی بے وزن مصرعے سناتے ہوئے بتا رہی تھیں ٫٫ میں اہل کتاب ہونے والی ہوں٬٬ غالباً صاحب کتاب کہنا چاہ رہی ہوں گی مگر ان کے براؤن کٹے بالوں ،میک آپ کی اوزان جیسی تہوں اور جھلکتی کم چھلکتی امارت کے سامنے کس کافر کی جرات تھی کہ انہیں اردو کا کلمہ پڑھاتا!!!
کرماں والیو!!!!!!
سبق سیکھو
دنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے۔۔۔۔۔۔ہم ابھی تک ہاتھ ناف پہ باندھیں کہ نہیں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں!!!
ثابت ہوا کہ جو جتنا بڑا چور ،نقل خور،جھوٹا اور مکار ہوگا۔۔۔وہ اتنے ہی بڑے منصب کا اہل ہوگا۔
یہ بے کار بے وزن لوگ دراصل تو دھرتی کا بوجھ ہیں مگر ہمارے منہ میں زبان ہوتے ہوئے بھی ہماری چپ انہیں ہماری ٹونٹی کشتیوں کا ناخدا بنا دیتی ہے۔
اب کشتی ڈوبتی ہے کہ پار لگتی ہے یہ تو نصیبہ ہوا نا جی۔۔۔
آپ مانیں یا نہ مانیں۔۔۔۔جیویں برادری کی مرضی ۔۔۔۔
ہم تو یہ جانتے ہیں کہ
جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *