⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
چھوٹے صوبے، مضبوط پاکستان!
پاکستان ایک ایسا ایشیائی ملک ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی تنوع اور ثقافتی رنگینیوں سے مالا مال ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان تمام نعمتوں کے باوجود ہم آج بھی ترقی، عدل اور مساوات کے ایسے بحران سے دوچار ہیں، جن کی جڑیں صرف معاشی یا سیاسی مسائل میں نہیں بلکہ انتظامی کمزوریوں میں پیوست ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ وہ انتظامی ڈھانچہ ہے جو چند بڑے صوبوں تک محدود ہے اور جس کی گرفت ملک کے دور دراز علاقوں پر اتنی ہی کمزور ہے جتنی ایک عام شہری کی رسائی ایوانِ اقتدار تک۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یہ احساس شدت اختیار کرتا چلا گیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے طاقت کا ارتکاز نہیں بلکہ تقسیم ضروری ہے۔ یعنی فیصلے وہیں ہوں جہاں عوام رہتے ہیں، نہ کہ ان سے سیکڑوں میل دور دفاتر میں، جہاں مقامی مسائل کو صرف فائلوں کے نمبروں میں دیکھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جب بھی نئے صوبے بنانے کی بات کی جاتی ہے تو ایسا شور بلند ہو جاتا ہے جیسے یہ مطالبہ کسی قومی جرم کے مترادف ہو۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چھوٹے صوبے بنانا ریاست کی تقسیم نہیں بلکہ اس کی شیرازہ بندی کی ایک حکمتِ عملی ہے۔ ملک کے بعض پسماندہ علاقوں میں برسوں سے یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ انھیں انتظامی خودمختاری دی جائے تاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی فیصلے کیے جا سکیں۔ مگر ہر بار ان آوازوں کو یا تو سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دیا جاتا ہے یا پھر “وحدت” کے نام پر دبا دیا جاتا ہے۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نئے صوبے لسانی یا قومیتی تقسیم کو ہوا دیں گے، حالانکہ جن معاشروں میں تقسیم کا خطرہ زیادہ ہو، وہاں تو انتظامی اصلاحات اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہیں تاکہ احساسِ محرومی ختم ہو اور ریاست سے رشتہ مزید مضبوط ہو۔ دنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ بھارت، جو کبھی لسانی بنیادوں پر تقسیم کا شکار ہونے والا تھا، اس نے وقت کے ساتھ کئی نئی ریاستیں بنائیں، اور ان میں سے بیشتر آج بھارت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چین، جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے، اس نے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں انتظامی اکائیاں قائم کیں تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق حکمرانی ممکن بنائی جا سکے۔ اسی طرح یورپ میں سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک نے مقامی خودمختاری کے ایسے ماڈل تشکیل دیے جن سے ہر شہری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ریاست اس کی اپنی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ موجودہ بڑے صوبے اپنے اندر چھوٹے علاقوں کی آواز کو دبا چکے ہیں۔ لاہور کے ہوتے ہوئے جنوبی پنجاب، کوئٹہ کے ہوتے ہوئے مکران، اور پشاور کے ہوتے ہوئے ہزارہ کے مسائل کبھی بھی ریاستی ترجیحات میں شامل نہیں ہو سکے۔ کیا ایک وزیرِ اعلیٰ واقعی کروڑوں عوام کی انفرادی مشکلات، معاشی محرومیوں اور ثقافتی ضروریات کا ادراک رکھ سکتا ہے؟ کیا ایک ہی حکومتی مرکز سے پورے صوبے کا احاطہ ممکن ہے؟ اگر جواب “نہیں” ہے، تو پھر اصلاحات سے گریز کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام نہ صرف انتظامی اعتبار سے درست قدم ہے بلکہ یہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی ترقی اور عوامی شرکت کو یقینی بنانے کی طرف ایک عملی پیش رفت ہے۔ جب ہر علاقے کو اپنی ضروریات کے مطابق بجٹ ملے گا، جب مقامی نمائندے اپنی زبان اور اپنے کلچر کے مطابق پالیسی سازی میں حصہ لیں گے، تبھی یہ ملک حقیقی معنوں میں وفاق کہلا سکے گا۔ فی الحال جو وفاق قائم ہے، وہ صرف کاغذوں میں ہے، عمل میں وہ مرکزیت کا شکار ہے. پاکستان کے مسائل کا حل بڑے صوبے نہیں بلکہ مضبوط، بااختیار اور جواب دہ انتظامی اکائیوں میں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بحث کو تعصب، جذبات اور اندیشوں سے نکال کرحقیقت، تدبر اور قومی مفاد کی روشنی میں دیکھیں۔ چھوٹے صوبے، بڑے خوابوں کی تکمیل کی جانب پہلا قدم ہیں۔ اگر ہم نے یہ قدم وقت پر نہ اٹھایا، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔
