یقین، وژن اور قربانی کا سفر

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

یقین، وژن اور قربانی کا سفر

1974ء کی صبح، لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس تاریخ کا وہ درخشاں لمحہ تھی، جب پاکستان نے نہ صرف امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، بلکہ عالمی سطح پر اپنے عزم، قیادت اور وژن کا لوہا بھی منوایا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب شہیدِ جمہوریت، ذوالفقار علی بھٹو نے صرف ایک اجلاس کی میزبانی نہیں کی، بلکہ ایک ایسا خواب پیش کیا جو آج نصف صدی بعد تعبیر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ خواب تھا ایک متحد، خودمختار اور باوقار مسلم دنیا کا، جو اپنی سیاسی خودمختاری، معاشی خودکفالت اور دفاعی خود اعتمادی کی بنیاد پر عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔بھٹو کا یہ وژن کسی عام رہنما کا خواب نہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ طاقتور اقوام صرف اپنے مفادات کی بات سمجھتی ہیں، اور کمزور قوموں کے خواب طاقت کے ایوانوں میں روند دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد پر مسلم دنیا کو متحد کرنے کی کوشش کی، اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک نئی راہ متعین کی۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی رہنما اپنے وقت سے آگے دیکھتا ہے، تو اسے قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس وقت آمریت، عالمی استعماری ایجنڈے کا آلہ کار بنی۔ بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا، اور پاکستان کی خودمختاری واشنگٹن کی میز پر رکھ دی گئی۔ اسی دوران شاہ فیصل جیسے عظیم مسلم رہنما کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا، تاکہ مسلم دنیا کا اتحاد ہمیشہ کے لیے خواب بن کر رہ جائے۔لیکن خواب دیکھنے والے اگر سچے ہوں، تو ان کے خواب مٹی تلے نہیں دبتے، وقت انہیں نئی زندگی دیتا ہے۔ آج 51 برس بعد وہی خواب دوبارہ جاگ چکا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر مسلم دنیا کی قیادت میں ابھر رہا ہے۔اسلامی ممالک کی نظریں اسلام آباد کی جانب ہیں۔ آج جب صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور سپہ سالار فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک بار پھر عالمی افق پر جرأت، وقار اور خودمختاری کی علامت بن کر ابھرا ہے، تو یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں، بلکہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کی گونج ہے۔ یہ لمحہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ بھٹو کے وژن، فیصل کی بصیرت، اور ان گنت قربانیوں کا تسلسل ہے۔ آج کا پاکستان یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہوں گے، کسی اور کے دارالحکومت میں نہیں۔ یہ قومی خودداری کا وہ جذبہ ہے، جسے ماضی میں کچلنے کی کوشش کی گئی، مگر آج وہ پھر سے سر بلند ہے۔ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔ ہمیں بھٹو شہید، شاہ فیصل، اور ان تمام رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہوگا،جنہوں نے امت کے اتحاد کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے۔ ہمیں اپنی افواجِ پاکستان کو سلام پیش کرنا ہوگا، جو ہر محاذ پر مادرِ وطن کی حفاظت میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں۔ آج کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر قیادت میں وژن ہو، نیت میں خلوص ہو، اور قوم میں اعتماد ہو، تو کوئی خواب نا ممکن نہیں۔ سلام ہے اس وژن کو، جو وقت سے پہلے دیکھا گیا سلام ہے ان ہاتھوں کو، جنہوں نے اسے ممکن بنایا، سلام ہے ان قربانیوں کو، جنہوں نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا. جئے بھٹو شہید، جئے پاکستان، جیئو افواجِ پاکستان. پوری قوم کا اپکو سلام اور جرات پر خراج تحسین ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *