⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟
دنیا میں ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے اچھا کہا جائے
لیکن سوال یہ ہے: اچھے لوگ ہوتے کون ہیں؟
کیا وہ جو اچھا بولتے ہیں؟
یا وہ جو اچھا دکھاتے ہیں؟
یا وہ جو خاموشی سے کسی کا بوجھ بانٹ لیتے ہیں؟
اصل میں اچھے لوگ وہ نہیں ہوتے جو صرف باتوں میں اچھے لگیں
بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں
جو دلوں پر مرہم رکھتے ہیں جو دکھوں کے اندھیروں میں روشنی کے چراغ جلاتے ہیں۔
یہ لوگ بڑے بڑے اسٹیج پر نظر نہیں آتے
یہ نہ شہرت کے محتاج ہوتے ہیں، نہ سوشل میڈیا کے تعریفی تبصروں کے۔
یہ وہ ہوتے ہیں جو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں
کسی کے آنسو خاموشی سے پونچھتے ہیں
کسی کے ہاتھ خالی دیکھ کر دل بھر کے دعا دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ لوگ معاشرے کا نقشہ بظاہر نہیں بدلتے
لیکن کسی کا دن کسی کی امید اور کسی کا یقین بدل دیتے ہیں۔
یہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے لوگوں کی زندگیوں میں بڑا سکون پیدا کر دیتے ہیں۔
ان کا وجود موسمِ گرما کی ہلکی ہوا کی طرح ہوتا ہے جو تھکے ہوئے دل کو راحت دیتا ہے۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ:
چھوٹے کام بھی بڑے دل سے کرتے ہیں
صلہ نہیں چاہتے دعا کافی سمجھتے ہیں
دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں
اور یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم کسی کی زندگی آسان بنا سکتے ہیں
تو ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
یہ ماں کی طرح ہوتے ہیں جو کھلا کر خود بھوکی رہتی ہیں۔
یہ استاد کی طرح ہوتے ہیں جو طالب العلم کی کامیابی کے لیے اپنا سکون قربان کرتے ہیں۔
یا مسجد کے دروازے پر بیٹھے اُس بزرگ کی طرح، جو ہر آتے جاتے کو دعا دیتا ہے۔
اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتے ہیں۔
ان کی قدر شاید دنیا نہ کرے
مگر اللہ کی نظر میں وہی سب سے بڑے ہوتے ہیں۔
آج خود سے سوال کریں:
کیا ہم بھی ایسے کسی اچھے فرد کی فہرست میں آتے ہیں؟
کیا ہم نے آج کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بخشی؟
کسی کو شکایت کے بجائے شکر سکھایا؟
کسی کے لیے زندگی تھوڑی سی آسان کی؟
کسی کے بوجھ میں اپنا کندھا پیش کیا؟
اگر ہاں تو ہم خوش نصیب ہیں،
اور اگر نہیں، تو ابھی دیر نہیں ہوئی۔
کیونکہ اچھا بننے کے لیے کوئی بڑی ڈگری نہیں چاہیے صرف بڑا دل چاہیے۔
یہ دل ہی ہے جو کسی کے لیے راستہ ہموار کر دیتا ہے
اور یہی دل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
